کیا آپ نے میڈیا پہ تڑپتی فاطمہ دیکھی ہے؟



آپ سب نے سوشل میڈیا پہ سسکتی تڑپتی موت کے منہ میں جاتی فاطمہ تو دیکھی ہوگی۔ لاچارگی مجبوری اور تکلیف کی انتہا میں لپٹی معصوم سی بچی کو اپنے سامنے موت کی آخر ہچکی لیتے تو دیکھا ہو گا۔ اور شاید اس کیفیت کو کچھ لمحے تو محسوس کیا ہو گا۔ ایسی کئی فاطمہ، رضوانہ، عندلیب ہوں گی جو روز مرتی ہوں گی ۔ جن کے کیس منظر عام پہ نہیں آتے ہوں گے اور اگر آ بھی جائیں تو کچھ عرصہ بعد دم توڑ جاتے ہیں۔ کیونکہ اب ایسے واقعات معمول بن گئے ہیں۔ ویسے بھی یہ اس خطے کی صدیوں پرانی روایت ہے کہ مندروں میں پنڈتوں کے پاس، چرچ میں پادریوں کے پاس، پیروں کی مریدی میں، وڈیروں کا قرضہ اتارنے کے لیے، سرداروں کے حکم کی تعمیل کے لیے بیٹیاں ہمیشہ بلی چڑھائی جاتی ہیں۔

پاکستان تیسری دنیا کا ملک ہے جہاں جاگیرداروں، وڈیروں، سرمایہ داروں، نوابوں اور سرداروں کا قبضہ ہے۔ یہی سیاستدان ہیں یہی قانون ساز ہیں یہی ناظم ہیں اس ملک کے تو کیسے نظام بدلا جا سکتا ہے۔ کیسے حق کے لیے آواز اٹھائی جا سکتی ہے۔ اپنے خلاف کون قانون بنائے گا؟

طاقت کی سیاست کے راج کو توڑنے کا حل انقلاب کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا جو کہ فی الحال دور دور تک ممکن نہیں۔ لیکن ایک چھوٹی سی امید سوشل میڈیا کی صورت میں نظر آتی ہے۔ آج کل مین سٹریم میڈیا گھریلو کم سن ملازماؤں کے مسئلے کو مسلسل اٹھا رہا ہے۔ اور سوشل میڈیا پہ بھی اس کا چرچا ہے اور یہ ایک بیانیہ بنانے میں بہت کارآمد بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ ہم ڈیجیٹل دور میں رہتے ہیں جو ایک نئی دنیا ہے جس نے سماج، تعلقات، رابطے، روزگار، سوچ کو بدلنے میں اپنا بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ جس نے پہلی اور دوسری دنیا میں کئی کامیاب تحریکوں کو جنم دیا یا کم از کم اپنی بات کرنے یا احتجاج کرنے میں کچھ حد تک آزاد کیا۔ ہجوم کو تحریک میں بدلنے صلاحیت رکھتا ہے۔ جو ایک امید باندھتا ہے کہ اگرچہ انقلاب لانا تو اس خطے میں شاید ابھی ممکن نہیں لیکن ایک تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔ جو مظلوم کی آواز بن سکتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہیں۔ کیونکہ اشرافیہ اپنے مفادات کے خلاف کبھی قانون سازی نہیں کرے گی جس سے ان کے تسلط کو دھچکا لگے۔ لہذا ظالم کو قانون کی گرفت میں لانے اور آئندہ معصوم بچیوں پہ ہونے والے ظالمانہ تشدد کا سدباب کرنے کے لیے اقدامات حکومت کو بھی لینے چاہیٔے اور اس مایوسی کے دور میں سوشل میڈیا کو آواز بنائیں خود کو اور اس ملک کو مثبت سمت میں لے جانے کے لیے اپنا حصہ ڈالیں تاکہ اس ملک کو رہنے کے قابل بنایا جا سکے۔ آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے اور اس ذہنی اذیت دینے والے سانحات سے بچانے کے لیے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments