ہم کس سے تیری بات کریں، ہر شخص تیرا گرویدہ ہے


لیو نکولائی لی وچ ٹالسٹائی: عرف عام میں ہر کوئی جنہیں ”ٹالسٹائی“ کے نام سے جانتا پہچانتا ہے۔ پہلی بار، یہ بات شاید دو ہزار سات کی ہے یا دو ہزار چھہ کے اواخر میں، میرے بہت ہی عزیز دوست، محسن، جس نے اپنی زندگی میں نے اپنا قیمتی بیشتر وقت مجھے دیا، میری باتوں کو ہمیشہ سنتا رہا، مجھے بہت کچھ بتاتا رہا ہے۔ ان دنوں، میں خیرپور شہر جاتا تھا ایک ڈان نیوز پپپر لینے، دوسرا یاسر ٹالپر سے ملنے، تیسرا عبداللطیف شیخ سے ملنے۔ ڈان نیوز پیپر، پنج گلا کے پاس شہر کے بیچوں بیچ ملتا تھا، یاسر ڈبر کے علاقے میں مقیم تھا اور لطیف شیخ شاہی بازار کے پاس ایک گلی تھی اس میں رہتا تھا۔

دیکھا بات چل رہی تھی، ٹالسٹائی کی اور میں کہیں اور چلا گیا۔ لیکن اس بات کا بھی تعلق ہے ٹالسٹائی صاحب کے ساتھ۔ ان ہی دنوں جب میں کتابوں کی باتیں کرتا تھا لطیف کے ساتھ، ہم سکون ان ہوٹل کے خوبصورت ﷺ احول میں بیٹھ کر چائے پیتے تھے، میں اس سے ملنے جاتا تھا، گھر کا دروازا کھٹکھٹایا، اس کے والد صاحب یا چھوٹے بھائی آتے۔ اور ہم پیدل نکل آتے کسی ہوٹؒل پر بیٹھتے۔ دو دو تین تین گھنٹے بیٹھے ہیں۔ باتیں چل رہی ہیں۔

خیر، لطیف نے مجھے ان ہی دنوں ٹالسٹائی کی کتاب، جو اردو میں ترجمہ شدہ تھی دی تھی۔ تحفہ کے طور پر ”کیسی محبت کہاں کا عشق“ کتاب کا نام تھا۔ میں ان دنوں ٹالسٹائی کو نہیں جانتا تھا۔ نہ ہی ٹالسٹائی کی اہمیت کو۔ نہ ان کی ادبی علمی خدمات کو۔ نام سنا تھا باقی۔

خیر جانتا تو اب بھی نہیں ہوں۔ وہ ہمارے ادبی افق پر سورج ہیں۔ خدا پاک نے انہیں علمی و ادبی برتری عطا فرمائی، ان سے تخلیقی کام لیا۔

جب مجھے ٹالسٹائی کی کتاب ”اینا کارنینا“ ملی تو ساتھ ہی ایک کتابچہ بھی تھا جو بک کارنر جہلم والوں نے کتاب کے ساتھ مفت بھیجنا شروع کیا تھا وہ بھی تھا۔ میں نے سوچا پڑھ لوں، کتاب کھولتے ہی، ارے یہ کیا، یہ تو دنیا ہی دوسری ہے۔ ٹالسٹائی کے بچپن سے آخر تک کے واقعات فلمائے گئے ہیں جیسے اس کتاب میں۔ یہ کتاب لکھی ہوئی ہے جیرلڈ ابراہم صاحب کی اور مترجم ہیں مخمور جالندھری صاحب۔ دونوں نے انت کام کیا ہے۔ کیا کہنے بھئی۔ وہ روانی، تسلسل، اور اہم باتیں جو اس ایک سو ایک صفحات پر مشتمل بک لیٹ میں شاید کہیں پڑھنے کو مل جائیں۔

اور باتصویر صفحات، اسکیچز بنے ہوئے ہیں۔

میں اس کتاب سے کچھ اقتباسات جو ٹالسٹائی کے ہیں وہ نیچے بیان کروں کروں گا۔ باقی آپ اندازہ لگا لیجیے گا۔

” عورتوں کی صحبت سماجی زندگی کے حق میں ایک ناگزیر بدعت ہے۔ ان سے پرہیزی ہی میں بہبودی ہے۔ عورتیں نزاکت، تعیش اور دوسری خرابیوں کی خالق ہیں۔

جناب یہ خیالات ہیں ٹالسٹائی صاحب کے خواتین کے بارے میں۔ تبھی تو میں شادی نہیں کر پا رہا۔

کہیں ہلکی سرگوشی کرتا ملتا ہے ٹالسٹائی۔

” وہ صحیح راستہ نہ تھا، جو کچھ بھی ہوا یا گزرا وہ ایک حادثے سے کم نہیں تھا“ ۔

یا پھر اس کے جذباتی ادوار ہوں، ذہنی خلفشار ہوں، گھریلو حالات ہوں، ازدواجی تعلقات کی گتھیاں ہوں۔ ٹالسٹائی نے ہر عظیم انسان کی طرح اپنی عظمت کی قیمت چکائی ہے۔ خوں چکاں ادوار ہیں، ۔ ٹالسٹائی جس بھی دور سے گزرا ہے، وہ بس چلتا رہا ہے اس نے رکنا مناسب نہیں جانا اور چلتے رہنا ہی تو زندگی ہے۔

یہیں کہیں کہتا ملتا ہے کہ

: ”تعلیم لوگوں کو مختلف اشکال میں ڈھالنے کے لیے ناکام ہے“ جب وہ تعلیم یا اس کے نظام کے خلاف بات کرنے لگتا ہے۔

وہ کسان کا زیادہ احترام کرتا ملے گا، اس نے کسان کے لیے بہت کچھ لکھا، کہتا ہے :

کسان۔ ہوا، کھیت اور زمیں سے زیادہ دلچسپ ہے۔

پھر تعلیم کے بارے میں رائے دیتا ہے کہ

” تعلیم معلومات اور یکسانیت حصول کرنے کے لیے انسانی کوشش ہے“ ۔

اس کتاب میں آ کو ٹالسٹائی کی زندگی کے اندرونی اور بیرونی واقعات اور سانحات دیکھنے کو ملیں گے۔ ٹالسٹائی درد اور تکلیف کی شدت سے چیختا دکھائی دے گا، تنہائی میں اپنے لازوال اور دنیا کے عظیم ناول اور افسانے لکھتا ہوا دکھائی دۓ گا۔ پھر وہ تقریریں کرتا ملے گا۔ اس کو کسی سے عناد ہو گا۔ کسی سے سیٹنگ آؤٹ ہوگی، اس کی فیملی کتنی ڈسٹرب رہی، اس نے کن حالات میں کیسے کیسے زندگی گزاری، کس طرح اس کی زندگی نے کروٹیں لیں۔ اور آخر میں کیسے مر گیا۔

ایک عظیم شخص، ایک شیر انسان کیسے اس دنیا سے اور کن حالات میں اس دنیا سے رخصت ہو گیا

Facebook Comments HS