کلرکوکریسی کی سرکار
سروس کا پہلا ہفتہ تھا، نئی نئی فائلز سے واسطہ پڑ رہا تھا، پی یو سی (Paper under Consideration ) اور ڈی ایف اے ( Draft for Approval ) کا فرق جاننے کی کوشش میں تھے کہ ایک جونیئر کلرک میرے آفس میں داخل ہوا۔ سر! آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔
جی فرمائیے؟
سر! وہ اکبر آپ کے پاس ایک آرڈر کی کئی کئی کاپیاں سائن کروانے آتا ہے۔ آپ ایک کاپی کو دیکھ کر سب پر سائن کر دیتے ہیں۔ مہربانی فرما کر ہر کاپی پڑھ کر سائن کیا کریں۔ لیں جی ہم نے اُس بھلے مانس جونئیر کلرک کا دِلی شُکریہ ادا کر کے اپنی سروس کی پہلی قیمتی نصیحت پلے باندھ لی اور وزیرِ اعلیٰ ہاؤس تعینات ہو گئے لیکن چند ہی دنوں بعد سیکرٹری صاحب نے انٹی کرپشن کی ٹیم بلا کر اکبر صاحب کو اریسٹ کروا دیا۔ تفصیل بڑی دلچسپ معلوم ہوئی۔ سیکرٹری صاحب نے کُچھ انجینئرز کے ٹرانسفر کی سمری وزیرِاعلیٰ صاحب کو بھجوائی، سمری منظور ہوئی اور عملدرآمد ہو گیا۔ چند دن بعد سیکرٹری صاحب کے ایک قریبی دوست اُن سے شکوہ کناں ہوئے کہ اتنے سارے افسران کے تبادلے کر دیے گئے لیکن متعدد درخواستوں کے باوجود ان کا ایک عزیز ٹرانسفر نہ ہو سکا۔ صاحب نے بڑے وثوق سے جواب دیا کہ ان کے عزیز کا ٹرانسفر کر دیا گیا ہے اور انہوں نے خود تسلی کر کے آرڈر ایشو کروائے تھے۔ ذرا سی چھان بین ہوئی تو کھُلا کہ اکبر صاحب نے سیکشن میں منظور شُدہ سمری موصول ہونے کے بعد تین صفحاتی آرڈر میں سے بیچ کا صفحہ نکال کر ایک اور صفحہ درج کیا اور خاصی رقم لے کر مختلف لوگوں کے جعلی آرڈر کر دیے تھے۔
سیکرٹریٹ سے کُچھ نہ کُچھ سیکھ کر فیلڈ میں بطور اسسٹنٹ کمشنر پہلی تعیناتی ہوئی لیکن ستم یہ ہوا کہ جونئیر کلرک کی پہلی قیمتی نصیحت ذہن سے مِحو ہو چُکی تھی۔
فقط تین مہینے کی پہلی فیلڈ پوسٹنگ اور ایک معطل شُدہ پٹواری سروس ٹربیونل سے اپنی بحالی کے آرڈر لے کر مسلسل سفارشیں کروا رہا تھا کہ اب اُسے بحال کرنے کے آفس آرڈر ایشو کیے جائیں۔ ایک دن اسے دفتر بلایا سروس ٹربیونل کے آرڈر پڑھے اور وحید آفس کلرک کو بُلا کر آرڈر ٹائپ کروا کر پٹواری صاحب کو بحال کر دیا۔ دو دن بعد سر کار کی طرف سے آمدہ ٹرانسفر آرڈر کی تعمیل میں اگلے سٹیشن پر حاضری دینے پہنچ گئے۔ اتفاق سے میری جگہ میرے ایک قریبی دوست کی پوسٹنگ ہو گئی۔ ایک دن صاحب کی کال آئی تو بڑے ناراض کہ تُم نے پٹواری بحال کر کے میرے پیچھے لگا دیا ہے، اب وہ پچھلے اڑھائی سال کی تنخواہوں کے بقایا جات بنا کر میرے پیچھے پڑا ہے۔ میں نے اپنے دوست کو یقین دلایا کہ پٹواری کی بحالی کے آرڈر میں نے دیکھ بھال کر کیے تھے اور اس کی صرف ایک مہینے کی تنخواہ واجب الادا ہے۔ میرے اصرار پر میرے دوست نے فائل نکلوائی تو ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ کلرک صاحب نے عدالتی حکم کی تکمیل میں بالکل قانونی آرڈر ٹائپ کروا کر مجھ سے ڈی ایف اے منظور کروایا لیکن باقی کاپیوں میں عدالتی حکم ”معطل شدہ عرصہ کو Leave without Pay کی بجائے Leave with title“ سے تبدیل کروا کر آرڈر ایشو کر دیے۔ یعنی معطلی کا عرصہ تنخواہ کے بغیر کو تنخواہ کے ساتھ میں بدل دیا۔ کلرک صاحب کے خلاف تو جو قانونی کارروائی ہوئی سو ہوئی لیکن مجھے یہ نصیحت اب شاید کبھی نہ بھولے کہ کلرک صاحبان کی طرف سے بھیجے گئے ہر کاغذ کو متعدد بار پڑھنا ہے۔
ایک اور کلرک صاحب نے تو حیران کر دیا۔ ہائی کورٹ کی طرف سے ایک اہم ریونیو کیس میں عدم پیشی کا دوسرا نوٹس آیا تو متعلقہ کالونی کلرک کو بلایا اور اس برانچ کے ہیڈ کلرک کو ڈانٹ پلائی۔ دونوں کے جانے کے بعد میرا پی اے اندر آیا اور سرگوشی میں بولا کہ سر! دونوں کلرک مخالف پارٹی سے مِلے ہوئے ہیں اور پارٹی سے خاصی رقم لے کر عدالت میں حاضِر نہیں ہوتے تاکہ عدالتی فیصلہ یک طرفہ اُن کے حق میں ہو جائے۔ سو یہ سُن کر میں نے معاملات کی خود چھان بین کا فیصلہ کیا۔ حقائق میری سوچ سے زیادہ حیران کُن تھے۔ کالونی کلرک صاحب نہ صِرف یہ کہ کئی عدالتی فیصلے یک طرفہ کروا چُکے تھے بلکہ مختلف جعلی الاٹمنٹ لیٹر جاری کر کے اپنے سیاسی آقاؤں کو کئی سو کنال سرکاری زمین بھی تحفتاً عنایت کر چُکے تھے۔ ثبوت اکٹھے کیے اور ڈی سی صاحب سے کلرک صاحب کو معطل کروا کر انکوائری شروع کروا دی۔ چند دِن گُزرے اور کلرک صاحب کے سیاسی آقاؤں کی سفارشیں آنا شروع ہو گئیں۔ میں نے تمام سفارشوں کا رُخ ڈی سی صاحب کی طرف موڑا تو شریف النفس ڈی سی صاحب نے یہ کہہ کر جان چھڑوانے کی کوشش کی کہ کلرک اے سی کی رپورٹ پہ معطل ہوا ہے پہلے اے سی صاحب کو رام کریں۔ ہماری طرف سے کورا جواب پا کر سیاست کے بے تاج بادشاہوں نے ہمارے نامہ اعمال میں ایک اور جُرم کا اندراج کیا اور یوں مسافر چار ماہ بعد اپنا سفری بیگ اُٹھا کر اپنی اگلی منزل کو عازمِ سفر ہوا۔

