سلامتی کو درپیش مسائل اور ایران


ایران کے وزیر سیاحت ڈاکٹر عزت لاہور تشریف لائے تو قونصل جنرل ایران لاہور مہران مہد فار اور ڈی جی خانہ فرہنگ جعفر روعناس نے ان سے ملاقات کی دعوت دی۔ میرا خیال تھا کہ یہ ظہرانے پر دیگر احباب کے ہمراہ ایک مشترکہ ملاقات ہوگی مگر قونصل جنرل اور ڈی جی نے ایرانی وزیر سے میری علیحدہ سے ون ٹو ون ملاقات کا بھی اہتمام کر رکھا تھا۔ میرے لئے یہ امر خوش گوار حیرت کا باعث تھا جب ایرانی وزیر نے ملاقات کے آغاز میں ہی مجھ کو کہا کہ میں آپ سے پہلے سے ہی شناسا ہوں۔

ایران اس بات کا از حد خواہش مند ہے کہ اس کے وطن عزیز کے ساتھ روابط کو مزید مضبوطی کا حامل ہونا چاہیے اور دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات میں جس حد تک گنجائش موجود ہیں اس حد تک ابھی یہ پنپ نہیں سکے ہیں۔ میں گزشتہ ماہ چین کے دورے کے بعد ایک ہفتہ کے لئے ایرانیوں کی دعوت پر ایران میں رہا اور اس وقت بھی میں نے یہ شدت سے محسوس کیا کہ ایران میں اس بات کی کمی کا شدید ترین احساس موجود ہے کہ پاک ایران تعلقات کو جس سطح پر ہونا چاہیے وہ اس سطح پر موجود نہیں ہے۔

دونوں برادر اسلامی ممالک کے ایک دوسرے سے ہمیشہ بہتر تعلقات قائم رہے ہیں مگر صرف بہتر تک محدود رہنا دونوں کے مفاد میں نہیں ہے اور معاملہ اس سے بہت آگے تک جانا چاہیے۔ پاکستان میں تو اس حوالے سے ایک واضح سوچ موجود ہے کہ ہماری تمام اطراف کی سرحدوں پر امن اور دوستی کی فضا قائم ہونی چاہیے اور اس سوچ میں انڈیا بھی شامل ہے مگر انڈیا کی ہٹ دھرمی ہمیشہ باہمی خوش گوار تعلقات کی راہ میں حائل رہی ہے۔ چین اور ایران سے پاکستان نے روز اول سے دوستانہ مراسم کو استوار کرنے کی حکمت عملی کو اختیار کیا اور ان دونوں ممالک نے بھی پاکستان سے خوش گوار تعلقات کو قائم رکھا ہے۔

ایران نے سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کیا تھا جبکہ پاکستان نے انیس سو اناسی میں انقلاب کو سب سے قبل تسلیم کیا تھا۔ ایران اور پاکستان کی جانب سے کچھ عرصے سے بہت اعلی سطح پر دورے دیکھنے کو مل رہے ہیں اور یہ دورہ بھی انہی دوروں کی ایک کڑی تھا۔ ابھی حال ہی میں افغان طالبان اور امریکا کے دوحہ میں مذاکرات ہوئے ہیں اور ان مذاکرات میں امریکہ کے افغانستان کے لئے نمائندہ خصوصی تھامس جبکہ افغان طالبان کے وزرائے خارجہ، خزانہ نے شرکت کی۔

ان مذاکرات میں جو امور زیر بحث رہے ان کے حوالے سے پریشان کن خبریں سامنے آ رہی ہے۔ اسی سبب سے امریکہ افغان طالبان دوحہ مذاکرات کے بعد ایران کے وزیر خارجہ اور ایران کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان حسن کاظمی قمی پاکستان آئے۔ حالیہ دوحہ مذاکرات کے حوالے سے پریشان کن خبر یہ آ رہی ہے کہ افغان طالبان نے جب افغانستان کے سات ارب ڈالر جو امریکہ کے پاس موجود ہے کی افغان طالبان کو حوالگی کا مطالبہ کیا تو امریکہ کی جانب سے یہ جواب دیا گیا کہ یہ رقم آپ کے حوالے کی جا سکتی ہے مگر اس کے لئے شرط یہ ہے کہ آپ ایران افغانستان سرحد پر ایسے اقدامات کریں کہ دونوں ممالک میں کشیدگی کی فضا قائم برقرار رہے۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو امریکہ آپ کو افغانستان کی رقم ادا کر دے گا ورنہ اس رقم کی حوالگی کی اور کوئی صورت نہیں ہے۔

ظاہر سی بات ہے کہ اگر یہ خبریں درست ہے تو یہ ایران کے لئے ایک پریشان کن صورت حال کا پیش خیمہ ہے اور اس کے بد اثرات سے پاکستان بھی محفوظ نہیں رہ سکتا ہے۔ اور ایسی ہی کسی صورت حال سے بچنے کے لئے دونوں ممالک اعلی ترین سطح پر گفتگو میں مصروف ہیں۔ پاکستان اچھی طرح سے جانتا ہے کہ اگر ایران افغان سرحد پر کوئی کشیدگی کی فضا قائم ہو گئی تو اس کو پاکستان میں ایک خاص فرقہ ورانہ رنگ میں پیش کر کے شر پسند عناصر ملک کا امن و امان بھی تباہ کرنے کی کوشش کریں گے ویسے ہی یہ خبر بھی بہت گرم ہے کہ امریکہ پاکستان پر یہ دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ افغانستان میں موجود کالعدم ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں اور افراد کے حوالے سے نرم رویہ اختیار کرے اور افغان طالبان پر اس حوالے سے دباؤ مت ڈالے جبکہ افغان طالبان کو بھی یہ کہہ رہا ہے کہ وہ کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف پاکستان کے دباؤ میں آ کر کوئی کارروائی مت کرے اسی طرح چین کے لئے درد سر بنی تنظیم ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کے حوالے سے بھی کسی بھی کارروائی سے افغان طالبان کو رک جانے کا بھی کہا ہے۔ میری خواہش ہے کہ امریکہ کے حوالے سے یہ خبریں درست نہ ہوں لیکن اگر یہ خبریں درست ہیں تو اس میں پاکستان کے لئے مزید چوکنا ہونے کے لئے بہت مواد موجود ہے کیوں کہ کالعدم ٹی ٹی پی اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کو کھلی چھوٹ دلوانے کی حکمت عملی ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان، چین اور ایران کو اس طریقے سے پیچھے دھکیل دینے کا پلان ہے۔

کالعدم ٹی ٹی پی نے جس رفتار سے پاکستان میں حملے کیے ہیں وہ اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ اس کے عزائم کیا ہیں۔ اس میں کوئی دوسری رائے قائم ہی نہیں کی جا سکتی ہے کہ اگر خدا نخواستہ پاکستان میں امن و امان کی صورت حال کو کوئی زک پہنچی تو وطن عزیز کی معاشی بحالی و خود مختاری کی خواہش بس ایک خواب ہی بن کر رہ جائے گا اور سی پیک کے راستے میں بھی بہت ساری مشکلات کھڑی ہو جائیں گی۔ علاقائی بنیاد پر تعصب، دہشت گردی سے تو پہلے ہی معیشت کو زبردست کچوکے لگ رہے ہیں اور اگر اس میں مذہبی دہشت گردی کا بھی تڑکا لگ گیا تو اس زبردست ہچکولے کھاتی معیشت کو سنبھالنا جوئے شیر لانے سے بھی مشکل ہو گا۔

ویسے ہی پاکستان میں غیر ذمہ دارانہ اقدامات کر کے فرقہ ورانہ کشیدگی کو بتدریج بڑھایا جا رہا ہے اور اس میں حالیہ کچھ اقدامات نے تو ٹربو کا کام کیا ہے۔ ملک کی اعلی ترین سطح کی سیاسی قیادت اور ذمہ دار عہدوں پر براجمان افراد کو اس کا نوٹس لینا چاہیے کیوں کہ ”ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ / دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا“ ۔ وجہ کچھ بیان کی جا رہی ہے اور ہدف کچھ حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ پاکستان اس وقت ویسے بھی بہت سخت حالات سے نبرد آزما ہے اور اسی سبب سے آرمی چیف کی سطح سے احسان کے بدلے اور خوارج جیسی گفتگو کی جا رہی ہے کہ پاکستان اس حوالے سے کسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لائے گا۔

مگر اس کے ساتھ ساتھ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ان کے پاکستان میں موجود ترجمانوں کو بھی ذہن سازی سے روکا جائے اور ان کے ہاتھ نئے نئے اقدامات سے مضبوط نہ کیے جائے ورنہ سانحہ باجوڑ جیسے واقعات بار بار ہمارا بد قسمتی سے مقدر ہوں گے ۔ دوسرا سیاسی محاذ پر مطلع بالکل صاف ہونا چاہیے اور بر وقت انتخابات کے صاف شفاف ہونے کو یقینی بناتے ہوئے اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے سپرد کر دینا چاہیے کیوں کہ اس وقت تو یہاں تک رائے دی جا رہی ہے کہ نگران حکومت در حقیقت نگران مارشل لا ہے اور اگر یہ تصور مضبوط ہوتا چلا گیا تو وطن عزیز کمزور ہوتا چلا جائے گا۔

Facebook Comments HS