سماج اور انسان: آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا


انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ تنہا نہیں رہ سکتا۔ یہ اس کی فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان رہے۔ انسان کے اندر انسانی خصائص اور خصلتیں سماج کے اندر رہ کر ہی پیدا ہوتی ہیں۔ تقریبا تمام ماہرین سماجیات کا ماننا ہے کہ انسان اور سماج کے بیچ ایک گہرا رشتہ ہے۔ انسان سماج کے بغیر نا مکمل ہے۔ اس کی شخصیت کی تعمیر لوگوں کے درمیان رہ کر ہی ہوتی ہے۔ ایک انسان کے اندر سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سماج اور معاشرہ میں رہ کر پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح سماج کے وجود کے لیے انسان کا ہونا ضروری ہے۔ سماج کا تصور جانور، چرند و پرند، درخت ،پیڑ پودے اور ندی نالے کی موجودگی سے نہیں بنتا۔ انسانی جماعت ہی ایک سماج کی تشکیل کرتی ہے۔ اب یہ ایک الگ بحث ہے کہ انسان پہلے ہے یا سماج۔ لیکن جو چیز سب سے اہم ہے وہ یہ کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ انسان سماج کا پروڈکٹ ہے اور سماج کا وجود انسانوں پر منحصر ہے۔ پروفیسر پارک نے بڑی اچھی بات لکھی ہے:
Man is not born human but to be made human
یعنی آدمی انسان پیدا نہیں ہوتا بلکہ اسے بنایا جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اسے ہم اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ آدمی یوں ہی انسان نہیں بن جاتا ہے، ایک آدمی کو انسان ہمارے سماج اور معاشرے میں پہلے سے موجود انسان اور ان کے عادات و اطوار بناتے ہیں۔ ایک آدمی کے پیدا ہونے سے لے کر انسان بننے تک کا سفر آسان نہیں ہوتا۔ غالب نے اس خیال کو اپنے ایک شعر میں ایسے پیش کیا ہے.

بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

انسان کو انسانی خصوصیات کا حامل ہونے کے لیے سماج میں سماجی اصولوں کے ماتحت رہنا ضروری ہے۔ سماج اور معاشرے میں رہ کر ہی ایک انسان شعور حاصل کرتا ہے۔ ذہنی پختگی انسانوں کے درمیان رہ کر ہی ممکن ہے۔ انسان بننا ایک مکمل عمل ہے۔ یہ عمل ایک یا دو دن میں ختم نہیں ہوتا۔ انسان بننے کا سلسلہ آخری سانس تک جاری رہتا ہے۔ کئی بار کی تحقیق اور تجربے کے بعد یہ بات کہی گئی کہ ایک انسان کے اندر انسانی خصوصیات اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتی ہیں جب تک وہ سماج میں انسانوں کے درمیان نہ رہے۔ تنہائی اور علیحدگی میں رہ کر کوئی بھی شخص ایک نارمل انسان نہیں ہو سکتا۔ کاسپر ہاؤسر (Kasper Houser) ایک جرمن بچہ تھا۔ اسے بچپن میں ہی نورمبرگ جنگل میں رکھ دیا گیا۔ جب وہ سترہ سال کا ہوگیا تو اسے 1928 میں انسانوں کے درمیان لا یا گیا۔ اس وقت وہ نہ ٹھیک سے بول پا رہا تھا اور نہ صحیح سے چل پا رہا تھا۔ اس کے اندر زندہ اور مردہ چیزوں کے درمیان تمیز کرنے کی صلاحیت بھی نہیں تھی۔ اس کے مرنے کے بعد جب اس کے دماغ کا پوسٹ مارٹم کیا گیا تو معلوم ہوا کہ اس کی دماغی بالیدگی میں کمی رہ گئی تھی اور یہ کمی اسے مناسب تعلیم دینے پر بھی دور نہیں ہو سکتی تھی۔
اس طرح کے کئی تجربے کیے گئے ہیں اور سب میں یہی چیز سامنے آئی کہ انسان سماج سے دور رہ کر مکمل انسان نہیں ہو سکتا۔ سماج انسان کی ذہنی اور شخصی ترقی کے لیے بہت ضروری ہے۔ یعنی ہم سماج یا یہ کہیں کہ انسانوں کی جماعت سے الگ نہیں رہ سکتے۔ ہم انسانوں کی بستی یا سماج سے الگ جنگل میں تنہا زندگی نہیں گزار سکتے۔ سماج میں رہنا ہماری فطری مجبوری ہے۔ انسانوں کے بیچ زندگی بسر کرنا ہماری فطرت کا تقاضا ہے۔
فطرت کے بنائے ہوئے قانون کے خلاف کیے گئے ہر عمل کا مقدر ہے کہ وہ نامکمل اور ادھورا رہے۔ انسان سماج سے الگ رہ کر مکمل ہو ہی نہیں سکتا۔ اب سماج اور معاشرے میں رہنے کے اپنے اصول اور ضابطے ہیں۔ ان اصولوں کی پیروی سے ہی آدمی انسان کے زمرے میں شمار ہو سکتا ہے۔ ایک بہتر معاشرے کی تشکیل ضابطے اور اصول کی پابندی سے ہی ممکن ہو سکتی ہے۔ اب یہ ضابطے کیا ہیں؟
کن اصولوں پر چل کر ہم انسان اور بہتر معاشرہ بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں؟ اسلام نے اس کا سب سے اہم اور موثر نسخہ ہمیں دیا ہے۔ سماج اور معاشرے میں کیسے رہنا ہے اس کی سب سے بہترین مثال ہمارے رسول ﷺ نے پیش کی ہے۔ قران اور حدیث میں موجود نصوص ہماری رہنمائی کے لیے کافی ہیں۔ اگر ہم صرف رسول ﷺ کی زندگی کی ہی پیروی کر لیں تو ہم اپنے رہنے کے لیے ایک کامیاب اور پر امن معاشرہ تشکیل کر سکتے ہیں۔ رسول ﷺ نے ہمیں بتایا ہے کہ ہمیں بڑوں سے کیسے بات کرنی ہے، چھوٹوں سے کیسے پیش آنا ہے، پڑوسیوں کے کیا حقوق ہیں، زمین پر کیسے چلنا ہے، یعنی زندگی گزارنے کا مکمل ضابطہ موجود ہے۔
دیگر مذاھب میں بھی زندگی گزارنے کے طریقے ایسے نہیں ہیں کہ انہیں ہم سرے سے خارج کر دیں۔ مذہبی کتابوں کے علاوہ ماہرین سماجیات اور فلسفیوں کے نظریے بھی ہیں جو سماج اور انسان کی نفسیات کو سامنے رکھ پیش کیے گئے ہیں۔ ان کی بھی اہمیت و افادیت سے ہمیں انکار نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جہاں آدمی کا سماج اور انسانوں کے بیچ رہنا فطرت کا تقاضا ہے وہیں انسانوں کے درمیان اختلافات کا پایا جانا بھی عین نظام فطرت ہے۔ ہم اختلافات ختم نہیں کر سکتے۔ باپ بیٹے میں اختلاف ہوتا ہے۔ کئی مرتبہ دو سگے بھائی ایک مسئلہ پر متفق نہیں ہوتے۔ شوہر اور بیوی اپنی پسند و ناپسند کے معاملے میں اکثر ایک دوسرے سے الگ نظریہ رکھتے ہیں۔ ایک سماج میں سب ایک ہی ذہن کے نہیں ہوتے۔ مختلف سوچ و فکر اور مختلف ایمان و عقیدے کے انسان ایک معاشرہ میں سانس لیتے ہیں۔ اس لیے ان کے درمیان اختلافات کا پایا جانا لازمی ہے۔
اختلافات کا پایا جانا مسئلہ نہیں، اختلافات کی نوعیت کو نہیں سمجھنا مسئلہ ہے۔ یہ شعور پیدا کرنا ہی ہمیں انسان بناتا ہے کہ ہمیں اختلافات ساتھ پر امن طریقے سے جینا ہے۔ ہمیں کوشش یہ کرنی چاہیے کہ اختلاف کے ہوتے ہوئے ٹکراؤ کی صورت حال پیدا نہ ہونے دیں۔ یہاں یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ اختلاف کے ہوتے ہوئے ہم ٹکراؤ اور تصادم سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ میرا یہ ماننا ہے کہ تصادم سے بالکل بچا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے کوئی بہت بڑی حکمت عملی کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ ہمیں کرنا صرف یہ ہے کہ ہم اختلاف کی حقیقت کو قبول کر لیں۔ ہم یہ تسلیم کر لیں کہ اختلافات ختم نہیں ہو سکتے۔ یہ ہمیشہ سے ہمارے بیچ تھے اور رہیں گے۔ اختلاف کی سچائی قبول کرنے کے بعد ہمارے دل اور دماغ میں اختلاف سے ایڈجسٹمنٹ کرنے کا جذبہ از خود پیدا ہو جائے گا اور کلیش سے گریز کرنے لگیں گے۔
موافقت کا جذبہ بیدار کرنے کے لیے ہمیں بس یہ ذہن میں رکھنا ہے کہ سماج میں ہم اکیلے نہیں رہتے، ہمارے ساتھ اور بھی کئی لوگ رہتے ہیں۔ سماج میں ہماری حصے داری ایک فی صد ہوتی ہے اور دوسرے کی نناوے فی صد۔ یہی تناسب ہر جگہ ہوتا ہے۔ جب اس زاویے سے ہم سوچنا شروع کردیں گے کہ سماج میں "میں” کی کوئی اہمیت نہیں۔ یہاں "تم” کی اہمیت زیادہ ہے۔ سماج میں اجتماعی وجود کی اہمیت ہے انفرادی وجود کی نہیں۔ مولانا وحیدالدین خان نے بہتر سماجی زندگی گزارنے کے یہ اصول بتائے ہیں:
In life "I” works 1 percent and "You” works 99 percent.
یعنی زندگی میں "میں” کا حصہ ایک فیصد ہے، اور "تم” کا حصہ نناوے فیصد۔ اجتماعی زندگی میں اختلاف کے درمیان موافقت قائم کرنے کے لیے شاید اس سے بہتر کوئی اصول نہیں ہو سکتا۔ دوسروں سے موافقت بس اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم دوسروں کو اسپیس دیں۔ اپنے اصول دوسروں کی رعایت کرتے ہوئے وضع کریں۔ کامیاب سماجی زندگی کا اس سے بہتر اور آسان کوئی فارمولہ نہیں۔ اب اگر ہم اس فارمولے کے مطابق بھی اپنی زندگی نہیں گزار سکتے تو ہم انسان کہلانے کا حق نہیں رکھتے۔ اگر ہم سماجی نہیں ہو سکتے تو انسان بھی نہیں ہو سکتے۔ شاید اسی پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے ارسطو نے یہ بات کہی تھی:
Man is, by nature, a social animal; an individual who is unsocial naturally and not accidentally is either beneath our notice or more than human.
انسان فطری طور پر ایک سماجی جانور ہے۔ اگر کوئی شخص غیر سماجی اوصاف کا حامل فطری طور پر ہے نہ کہ اتفاقی طور پر تو وہ یا تو ایک سطحی آدمی ہے یا پھر انسان ہے ہی نہیں۔ ہم اسے ایسے بھی کہہ سکتے ہیں کہ جو انسان سماجی نہیں ہو سکتا وہ جنگلی ہوتا ہے یا کوئی اور مخلوق۔ ہمیں اپنے موجودہ سماجی ڈھانچے کو دیکھ کر بڑا دکھ ہوتا ہے۔ ہم پر سماج میں اپنا اسپیس بنانے کا ایسا جنون سوار ہے کہ ہم نے سماج کے بنیادی ڈھانچے کو بدل دیا۔ میں نے اوپر ذکر کیا ہے کہ سماج کا تصور انسان کے بغیر ممکن نہیں۔ اکیسویں صدی کے انسانوں کا یہ المیہ ہے کہ وہ سماج بنانے میں پوری طرح سے ناکام ہیں۔ افراد کی بھیڑ میں سماج کہیں گم ہو گیا ہے۔ افراد کی ریل پیل ہے مگر سماج نہیں بن پا رہا ہے۔ لوگوں کا ہجوم تو ہے مگر انسان تنہائی کے شدید احساس میں بھی جکڑا ہوا ہے۔ وہ جہاں بھی جاتا ہے خود کو تنہا، اکھرا ہوا اور اکتایا ہوا پاتا ہے۔ لوگ ملتے بھی ہیں تو ایک فاصلہ بنائے رکھتے ہیں۔

کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلہ سے ملا کرو

یہ انسانی زندگی کا کتنا بڑا المیہ ہے کہ انسان، انسان سے ڈرا ہوا ہے۔ کسی کو کسی پر اعتبار نہیں رہا۔ مشینی دور نے ہمیں سب کچھ دیکر ہم سے ایک دوسرے کا اعتماد اور اعتبار چھین لیا ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم انسانی سماج سے محروم ہو گیے ہیں۔ ہر کوئی ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ہر دل میں خوف اور ہر دل میں ڈر ہے۔ اس بات کا کوئی ٹھکانہ نہیں کہ کون کب جانور بن جائے۔ ڈر، خوف اور تصادم کے کلچر میں ہم بہتر سماج کی تشکیل نہیں کر سکتے۔ اگر ہم بہتر سماج نہیں بنا سکتے تو پھر ہم جنگل میں جانوروں کے درمیان خوف میں رہیں یا انسان کے تصادمی کلچر میں جانوروں کی طرح، دونوں میں کوئی فرق نہیں۔

Facebook Comments HS