موت کی کتاب: ایک حقیقی ادبی تخلیق

یہ یقیناً ایک خوش آئند خبر ہے کہ معاصر ہندوستانی ادیب پروفیسر خالد جاوید کا ناول ”موت کی کتاب“ ایڈیشن بنیان کے زیرِ اہتمام شائع ہو کر منصۂ شہود پر آ گیا ہے، بالخصوص اس پس منظر میں کہ فرانسیسی زبان میں اردو ادب کے تراجم خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ اردو ادب ہمارے لیے ایک غیر دریافت شدہ براعظم کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس شاندار اقدام کے لیے ڈیوڈ ایمے کو ہم مبارک باد دیتے ہیں اور روزن

Read more

دو دوست: موپاساں کے قلم سے نکلا ہوا افسانہ

افسانہ نگار: گائے دَ موپاساں مترجم: محمد ریحان محصور پیرس شدید قحط کی لپیٹ میں آ گیا تھا۔ گھروں کی منڈیر پر پرندے اور نالیوں میں چوہے ناپید ہوتے جا رہے تھے۔ لوگوں کو جو کچھ مل جاتا، وہ کھا رہے تھے۔ موریسو، پیشے سے گھڑی ساز مگر عزلت پسند، بھوکے پیٹ اپنی پتلون کی جیب میں ہاتھ ڈالے، جنوری کی ایک روشن صبح میں چہرے پر اداسی سجائے، پیرس کی گلیوں میں چہل قدمی کر رہا تھا۔ اس کی

Read more

سماج اور انسان: آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ تنہا نہیں رہ سکتا۔ یہ اس کی فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان رہے۔ انسان کے اندر انسانی خصائص اور خصلتیں سماج کے اندر رہ کر ہی پیدا ہوتی ہیں۔ تقریبا تمام ماہرین سماجیات کا ماننا ہے کہ انسان اور سماج کے بیچ ایک گہرا رشتہ ہے۔ انسان سماج کے بغیر نا مکمل ہے۔ اس کی شخصیت کی تعمیر لوگوں کے درمیان رہ کر ہی ہوتی ہے۔

Read more

جب خواب حقیقت بن جائے

آپ اپنی زندگی کے اہم ترین فیصلے بہت سوچ سمجھ کر اور بڑے غور و فکر کے بعد لیتے ہیں۔ بعض دفعہ آپ خود کو ایک کمرہ میں بند کر لیتے ہیں اور اپنے ان منصوبوں کے متعلق گھنٹوں سوچتے رہتے ہیں جن کے لیے آپ کو ایک فیصلہ لینا ہوتا ہے۔ زندگی کے اہم ترین فیصلوں میں ایک اہم فیصلہ مقصد حیات کا ہے۔ آپ زندگی میں کیا کرنا چاہتے ہیں، اس کا فیصلہ آپ ایک دم سے نہیں

Read more

سوال اچھا ہے، جواب نہیں

ہمارے تعلیمی اداروں میں سوال کرنے سے زیادہ جواب دینے کی صلاحیت کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ اساتذہ سوال کرنے والے طالب علم کے مقابلے میں جواب دینے والے طالب علم کو زیادہ ذہین اور قابل تصور کرتے ہیں۔ یہ رویہ صرف نرسری اور پرائمری اسکولوں کے اساتذہ تک محدود نہیں بلکہ یہ ہمیں اعلی تعلیمی اداروں کے مدرسین کے یہاں بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ اسکول میں پڑھانے والے اساتذہ عام طور پر زیادہ سوال کرنے والے بچے کو

Read more

خوش رہنا آپ کے اختیار میں ہے

انسان اپنے شب و روز کے بیشتر لمحات افسردگی کی حالت میں گزار دیتا ہے۔ زندگی ختم ہو جاتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ اس نے خوشی کا کوئی دن دیکھا ہی نہیں۔ ہماری زندگی میں روز ہی ایسے واقعات پیش آتے ہیں کہ آدمی اس پر غم نہ کرے تو کیا کرے۔ خوشی کا کوئی پل دروازے پر دستک نہیں دیتا کہ غم اس سے پہلے گھر کے اندر کھڑکی سے داخل ہوجاتا ہے۔ آپ جب تک زندہ

Read more

آپ ہر انسان کو خوش نہیں کر سکتے

دوسروں کو خوش کرنا اخلاقی طور پر ایک اچھا عمل ہے۔ انسانی سماج کی یہ خوبصورتی ہے کہ لوگ ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔ انسانی ہمدردی ہماری فطرت کا حصہ ہے، اسی لیے ہم ایک دوسرے کی ضرورت میں ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ انسان اور جانور میں جو فرق ہے وہ صرف نطق کا نہیں ہے۔ ایک دوسرے کا خیال رکھنا اور ایک دوسرے کے کام آنا بھی انسانی اوصاف میں ہی شمار ہوتے ہیں۔ اگر آپ سے وہ

Read more

ہم ضرورت سے زیادہ پریشان ہیں

انسان اپنی زندگی میں غم اور تکلیف کا تجربہ زیاد کرتا ہے اور خوشی و مسرت کا کم۔ ایسا اس لیے نہیں ہے کہ قدرت نے انسان کی زندگی میں غم کے پہلو زیادہ رکھے ہیں اور خوشی کے کم۔ بلکہ ایسا اس لیے ہے کہ انسان خود ہی یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کی زندگی میں خوشی کی حصہ داری غم سے زیادہ ہو۔ انسان زندگی میں ایک بار غم کا تجربہ کر لے تو پھر وہ اسی

Read more

تنقید کا استقبال کریں

تنقید کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ تنقید سے ہی ہمیں اپنی خوبیوں اور خامیوں کا علم ہوتا ہے۔ ہم اپنے تنقیدی شعور کی مدد سے خود کو بہتر طور پر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ دوسرے لوگ اپنے تنقیدی شعور کی روشنی میں ہمیں پڑھتے اور پرکھتے ہیں۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم کیا ہیں اور کیسے ہیں۔ یہ بہت ممکن ہے کہ ہمارے تنقیدی شعور میں اتنی بالیدگی نہ ہو جتنی کہ ان لوگوں کے تنقیدی

Read more

سننے کی عادت ڈالیں

سونو شرما ایک نیٹورک مارکیٹر اور موٹیویشنل اسپیکر ہیں۔ میں نے ان کی ایک ویڈیو دیکھی جس میں وہ اس نکتے کی وضاحت کر رہے تھے کہ خدا نے انسان کو دو کان اور ایک ہی زبان کیوں دیے ہیں۔ دو کان اور ایک زبان عطا کیے جانے کا مطلب یہ ہوا کہ انسان بولے کم اور سنے زیادہ۔ یہ ایک منطقی توضیح ہے جو ہمارے جسم کی ظاہری ساخت کے اعتبار سے کی گئی ہے، ورنہ ایک کان سے

Read more

اپنا رویہ بدلیں، زندگی بدل جائے گی

زندگی میں جو لوگ کامیاب ہو جاتے ہیں اور جو لوگ ناکام رہ جاتے ہیں، ان دونوں میں ایک فرق مثبت اور منفی رویے کا ہوتا ہے۔ ایک اپنے مثبت رویے کی وجہ سے کامیابی کا پرچم لہراتا ہے اور دوسرا اپنے منفی رویے کی کی وجہ سے محرومیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ آپ زندگی میں کامیاب ہوں گے یا ناکام، آپ خوش رہیں گے یا نا خوش، آپ پریشان رہیں گے یا پرسکون، یہ سب آپ کے رویے

Read more

نیا ہے زمانہ نئے ہیں رویے

اکیسویں صدی سے قبل تک ہمارے سماج میں بڑے بزرگوں کی بڑی عزت ہوا کرتی تھی۔ نوجوان انہیں نہایت تعظیم و تکریم کی نظر سے دیکھتے تھے۔ معاشرے میں ان کا اہم مقام و مرتبہ تھا۔ کسی بھی فیصلے کو آخری شکل ان کے مشورے کے بعد ہی دیا جاتا تھا۔ اگرچہ آج بھی کہیں کہیں خاندان کے بڑے بزرگ عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں، تاہم وہ قدریں مفقود نظر آتی ہیں جو گزشتہ صدیوں میں ان کے

Read more

تعلیم میں اختصاص: نقصانات کے چند زاویے

قدرت نے انسان کو جو ذہن عطا کیا ہے وہ کائنات کی طرح وسیع ہے۔ اس میں سمندر کی سی گہرائی ہے۔ اس کا جتنا استعمال ہوتا ہے وہ اتنا ہی پھیلتا اور صیقل ہو تا ہے۔ اس کے برعکس اگر اس کو استعمال میں نہ لایا جائے تو رفتہ رفتہ وہ اتنا ہی کند ہوتا جاتا ہے۔ سائنسی ترقی کے باوجود اگر یہ بات کہی جائے کہ ہمارا ذہن محدود ہو گیا ہے تو شاید یہ بات حلق سے

Read more

کامیابی کے راز کیا ہیں؟

کسی بھی انسان کی کامیابی اور ناکامی میں کوئی باہری فیکٹر کام نہیں کرتا۔ انسان کی کامیابی اور ناکامی خود اس کی ذات پر منحصر ہوتی ہے۔ اگر کوئی کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس کے پاس کامیابی کی منزل تک پہنچنے کے سارے وسائل مہیا تھے۔ اسی طرح اس کے بر عکس، اگر کوئی زندگی میں ناکام ہو جاتا ہے تو اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا غلط ہے کہ اس کے

Read more

ذیشان مجھے تم معاف کر دینا

مجھے آج ذیشان کی موت کی خبر ملی۔ یہ بھی آج ہی معلوم ہوا کہ ذیشان کو انتقال کیے تقریباً دس مہینے ہو چکے ہیں۔ موت غم کا استعارہ ہے۔ جب وہ خبر بن کر آپ تک پہنچتی ہے وہ آپ کو غمگین کر دیتی ہے۔ موت کی خبر جن الفاظ میں بیان ہو سن کر ملال ہوتا ہے۔ خبر دیر سے ملے یا سویر، اس کی غم ناکی اور اداسی کا اثر زائل نہیں ہوتا۔ ذیشان میرا دوست تھا۔

Read more

بولنے سے سب ہوگا

گوگل نے اپنے انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں اضافہ کرنے کی غرض سے ایک نئی تحریک شروع کی ہے۔ اس تحریک کا نام ”بولنے سے سب ہو گا“ دیا گیا ہے۔ اس کی ویڈیو تشہیر ہندی سنیما کے اداکار گجراج راؤ کر رہے ہیں۔ اس ایڈ میں لوگوں کو گوگل سے بول کر اپنے سوالوں کے جواب حاصل کرتے دکھایا جا رہا ہے۔ گوگل نے انٹرنیٹ کو یوزر فرینڈلی بنانے کے لیے اس فیچر کو ترقی دینے کی کامیاب کوشش

Read more

”نہیں“ کہنا غیر اخلاقی نہیں

یہ شاید ہند و پاک کی تہذیب کا حصہ ہے کہ ہم سے جب کبھی کوئی کسی فیور اور مدد کی گزارش کرتا ہے تو ہم اسے منع نہیں کرتے ہیں۔ کوئی کسی پارٹی پر مدعو کرے، کسی کو کہیں کمپنی دینا ہو، کسی کے ساتھ فلم دیکھنے جانا ہو، یوں ہی کسی بھیڑ میں کسی کے ساتھ کھڑے ہونا ہو، کسی سے کچھ لینا ہو یا کسی کو کچھ دینا ہو، ہم ان سب کاموں کے لیے ہمیشہ تیار

Read more

پیرس میں ”جوائے لینڈ“ کی خوشی

صائم صادق کی ہدایت کاری میں بنی پاکستان کی فیچر فلم ”جوائے لینڈ“ کا پیرس، فرانس میں کافی چرچا ہو رہا تھا۔ ابھی یہ فلم یہاں کے سنیما گھروں میں لگی بھی نہیں تھی کہ پاکستانی نژاد کے لوگ اس پر خوب باتیں کر رہے تھے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ فلم پاکستانی تھی۔ دیار غیر میں رہتے ہوئے لوگ اپنے ملک سے آئی ہوئی ہر چھوٹی بڑی چیز کو ایک انمول تحفہ سمجھتے ہیں اور اسے

Read more

تبدیلی آپ کی کوشش سے پیدا ہوگی

میں انسٹاگرام پر فرانسیسی زبان میں ایک ویڈیو دیکھ رہا تھا۔ اس میں ایک خاتون زندگی کے مسائل پر بڑی اچھی گفتگو کر رہی تھیں۔ دوران گفتگو انہوں نے ایک جملہ استعمال کیا جو مجھے بے حد پسند آیا۔ وہ جملہ اس طرح ہے : Si tu ne changes rien, rien ne changera اس کا لفظی ترجمہ ہوا ”اگر آپ کچھ نہیں بدلتے ہیں تو پھر کچھ بھی نہیں بدلے گا۔“ میں نے یہ جملہ سنا اور ویڈیو وہیں روک

Read more

مثبت رویہ اختیار کریں – دو دلچسپ قصے

مثبت اور منفی رویے کی نشاندہی کے لیے اکثر اس گلاس کی مثال دی جاتی ہے جو نصف بھرا ہوا ہوتا ہے اور نصف خالی ہوتا ہے۔ مثبت سوچ کے حامل افراد کو آدھا گلاس بھرا ہوا نظر آتا ہے جب کہ وہی گلاس منفی سوچ رکھنے والوں کو آدھا خالی دکھتا ہے۔ گلاس ایک ہی ہے، اس کی طرف دیکھنے کے دو مختلف انداز اور رویے ہیں۔ دیکھنے کے دو مختلف انداز سے دو مختلف شخصیت کی پہچان ہوتی

Read more

نئے سال کی قرارداد

رواں سال کے اختتام اور نئے سال کے آغاز کے درمیانی مرحلے میں لوگ اپنی سوچ اور فکر کے اعتبار سے مختلف نفسیاتی کیفیتوں سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ عام طور پر رخصت ہونے والے سال سے لوگ خوش نہیں ہوتے ہیں لیکن آنے والے سال کی طرف وہ ضرور امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں۔ ان کو ایسا لگتا ہے کہ رواں سال ان کے لیے بیکار تھا، اس میں انہوں نے کچھ حاصل نہیں کیا اور نیا سال

Read more

کمفرٹ زون سے باہر نکلیں

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں (علامہ اقبال) ہم میں سے اکثر لوگ اپنی زندگی میں کسی تبدیلی کو دعوت دینے سے ڈرتے ہیں۔ ہم جہاں جس حالت میں ہوتے ہیں اسی میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ ہم ابھی

Read more

کامیابی آپ کی تقدیر میں نہیں لکھی ہے

پابندی تقدیر کہ پابندی احکام یہ مسئلہ مشکل نہیں اے مرد خرد مند اک آن میں سو بار بدل جاتی ہے تقدیر ہے اس کا مقلد ابھی ناخوش ابھی خورسند تقدیر کے پابند نباتات و جمادات مومن فقط احکام الہی کا ہے پابند (علامہ اقبال ) دنیا کے تمام لوگ، بلا تفریق مذہب و ملت، تقدیر پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ یقین کسی کے یہاں ایمان کا درجہ رکھتی ہے اور کوئی بس یوں ہی یہ بات تسلیم کرتا ہے

Read more

اوتھیلو سنڈروم: شریک حیات کو بے وفا سمجھنے کی نفسیاتی بیماری

بیماری دو طرح کی ہوتی ہے، ایک جسمانی اور دوسری نفسیاتی یا ذہنی۔ جسمانی بیماری کی علامتیں بہت واضح ہوتی ہیں۔ ایک جاہل اور انپڑھ انسان کو بھی جب جسمانی عارضہ لاحق ہوتا ہے تو وہ یہ سمجھ جاتا ہے کہ اسے کسی بیماری نے آ گھیرا ہے۔ وہ ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے اور اس کا علاج کراتا ہے۔ نفسیاتی بیماری کی نشاندہی مشکل ہے۔ اس کی علامتیں بہت پیچیدہ ہوتی ہیں۔ اکثر لوگ یہ نہیں سمجھ پاتے کہ وہ کسی نفسیاتی مرض کے شکار ہیں جب کہ وہ اس میں جوجھ رہے ہوتے ہیں۔

Read more