صدر بے اختیار ہے یا مجبور بھی؟
صدر عارف علوی نے پارلیمنٹ کے منظور کردہ 2 بلوں آرمی ایکٹ ترمیمی بل اور آفیشل سیکرٹس ترمیمی بل پر دستخط کرنے سے انکار کیا ہے۔ دو روز پہلے یہ خبر سامنے آئی تھی کہ صدر نے ان بلوں پر دستخط کر دیے ہیں جس کے بعد یہ بل اب قانون بن چکے ہیں۔ تاہم صدر کے سوشل میڈیا آؤٹ لیٹ ایکس پر بیان کے بعد اب یہ غیر واضح ہے کہ ان دو قوانین کی کیا حیثیت ہے۔ صدر اگر ان بلوں پر دستخط کرنے سے انکار کر رہے ہیں تو اس سے کیا مراد ہے۔
اس بارے میں صدر عارف علوی نے اتوار کو سہ پہر کے قریب جو پیغام ایکس پر جاری کیا اس کا متن یہ ہے : ’میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے آفیشل سیکرٹس ترمیمی بل 2023 اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 پر دستخط نہیں کیے کیونکہ میں ان قوانین سے متفق نہیں تھا۔ میں نے اپنے عملے سے کہا کہ وہ بغیر دستخط شدہ بلوں کو مقررہ وقت کے اندر واپس کر دیں تاکہ انہیں غیر موثر بنایا جا سکے۔ میں نے ان سے کئی بار تصدیق کی کہ آیا وہ واپس جا چکے ہیں اور مجھے یقین دلایا گیا کہ وہ جا چکے ہیں۔ تاہم مجھے آج پتہ چلا کہ میرا عملہ میری مرضی اور حکم کے خلاف گیا۔ اللہ سب جانتا ہے، وہ انشاء اللہ معاف کر دے گا۔ لیکن میں ان لوگوں سے معافی مانگتا ہوں جو اس سے متاثر ہوں گے‘ ۔
ایک دنیاوی معاملہ ہے جس میں انسانوں سے کوتاہی ہوئی یا انہوں نے جان بوجھ کر غیرقانونی راستہ اختیار کیا۔ لیکن صدر نے اپنے بیان میں اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے اللہ اور اور متاثرین سے معافی مانگی ہے۔ کیا کسی ملک کے آئینی، قانونی اور انتظامی معاملات کو اسی طرح اللہ کا نام لے کر نظر انداز کیا جاسکتا ہے؟ ملک کے صدر کا یہ رویہ اس سارے معاملہ کی حقیقت بیان کرنے کی بجائے اسے مزید الجھانے کا سبب بنا ہے۔ اسی طرح اس بیان کے بعد پاکستانی سیاست میں موجود سیاسی گروہ بندی مزید کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ ایک طرف تحریک انصاف نے کھل کر صدر کی حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس معاملہ کو سپریم کورٹ لے جانے کا عندیہ دیا ہے۔ تو دوسری طرف مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی صدر سے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان جماعتوں کا موقف ہے کہ اگر صدر اپنے ہی عملے کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہیں تو انہیں اس عہدے پر فائز رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔
تاہم یہ مطالبہ بھی صدر عارف علوی کے بیان کی طرح نامکمل اور غیر واضح ہے۔ چونکہ سب سے پہلے حقیقی صورت حال کا علم ہونا ضروری ہے۔ یہ جاننا اہم ہے کہ اگر صدر نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل اور آفیشل سیکرٹس ترمیمی بل پر دستخط نہیں کیے تھے تو یہ اعلان کیسے جاری ہوا کہ صدر کے دستخط کرنے کے بعد یہ دونوں بل قانون بن چکے ہیں۔ پھر جیسا کی صحافی و اینکر پرسن زہرہ نسیم نے ایکس پر ایک پیغام میں لکھا ہے کہ ’واضح طور پر صدر نے ان پر دستخط نہیں کیے۔ یہ منظر عام پر لانے سے پہلے کن حالات نے انہیں لگ بھگ 30 گھنٹوں تک خاموش رکھا؟ امید ہے کہ وہ گرفتار نہیں ہوں گے اور اس پر بات کریں گے‘ ۔ یہ ایک سنگین موقف ہے کہ ملک کا آئینی طور سے منتخب صدر کسی بھی وجہ سے ایسے حالات میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے جس میں وہ تیس گھنٹے تک اپنے نام سے جاری ہونے والی معلومات کی تردید کرنے کا حوصلہ نہیں کرتا۔ اور جب وہ ایک بیان میں دستخط نہ کرنے کا دعویٰ کرتا ہے تو حقائق سامنے لانے کی بجائے عملہ کے نامعلوم ارکان پر الزام عائد کر کے اللہ سے معافی کے بعد بظاہر معاملہ ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
کیا صدر عارف علوی کے بیان کا یہ مقصد ہے کہ وہ ان بلوں پر دستخط کرنے کے جرم میں تو شامل نہیں ہیں لیکن جو بھی ہوا، اب ان دونوں بلوں کو ملک کے قوانین کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔ اسی لئے وہ متاثرین سے معافی مانگ رہے ہیں۔ اس حوالے سے یہ پہلو بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ صدر کی اس ’کوتاہی‘ کا سب سے پہلا شکار سابق وزیر خارجہ اور تحریک انصاف کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی بنے ہیں جنہیں گزشتہ روز ہی اس نئے متنازع قانون کے تحت سائفر معاملہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔ عمران خان پر بھی اسی الزام میں مقدمہ درج کیا جا چکا ہے۔ لیکن اگر صدر نے دستخط ہی نہیں کیے تو وہ کیوں ان بلوں کو قانون ماننے کا اعتراف کر رہے ہیں؟
اس حوالے سے وزارت قانون کے بیان اور نگران وزیر قانون احمد عرفان اسلم کے بیانات پر غور کرنا بھی ضروری ہے۔ وزارت قانون کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آئین کے آرٹیکل 75 کے مطابق جب کوئی بل منظوری کے لیے صدر کو ارسال کیا جاتا ہے تو صدر کے پاس دو اختیارات ہوتے ہیں۔ یا اس بل کو منظور کر لیا جائے یا پھر مخصوص مشاہدات کے ساتھ یہ معاملہ دوبارہ پارلیمان کو بھیج دیا جاتا ہے۔ آرٹیکل 75 میں کوئی تیسرا آپشن نہیں ہے۔ وزارت قانون کا کہنا ہے کہ مذکورہ معاملے میں کوئی بھی ضروریات پوری نہیں ہوئیں۔ اس کی بجائے صدر نے جان بوجھ کر منظوری میں تاخیر کی۔ بلوں کو بغیر کسی مشاہدے یا منظوری کے واپس کرنا آئین میں فراہم نہیں کیا گیا۔ ایسا اقدام آئین کی روح کے منافی ہے۔ اگر صدر کے پاس کوئی مشاہدہ تھا تو وہ اپنے مشاہدات کے ساتھ بل واپس کر سکتے تھے جیسا کہ انہوں نے ماضی میں کیا تھا۔ وہ اس سلسلے میں ایک پریس ریلیز بھی جاری کر سکتے تھے۔ یہ تشویش ناک بات ہے کہ صدر نے اپنے ہی عہدیداروں کو بدنام کرنے کا انتخاب کیا۔ صدر کو اپنے اعمال کی ذمہ داری خود لینی چاہیے‘ ۔
نگران وزیرقانون احمد عرفان اسلم نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ’صدر نے بل اعتراضات لگا کر واپس نہیں بھیجے۔ آئین میں بل واپس کرنے کی مدت 10 دن واضح طور پر موجود ہے۔ اگر اس پر عمل نہ ہو تو بل قانون بن جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صدر کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا ترمیمی بل 8 اگست کو مل چکا تھا۔ جب کہ آرمی ترمیمی بل 2 اگست کو موصول ہوا تھا۔ قبل ازیں یہ بل سینیٹ اور قومی اسمبلی سے منظور ہوئے تھے‘ ۔
اس حوالے سے سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ کیا یہ دونوں بل صدر کی طرف سے اعتراض نہ لگانے اور دس دن کی مدت گزر جانے کی وجہ سے قانون بن گئے تھے؟ پھر تو نگران حکومت کو یہ وضاحت کرنی چاہیے کہ دو روز پہلے یہ اعلان کیوں سامنے آیا کہ صدر نے ان بلوں پر دستخط کر دیے ہیں جس کے بعد یہ بل قانون بن چکے ہیں۔ یہ کیوں نہیں کہا گیا کہ صدر نے چونکہ ان بلوں پر اعتراض نہیں کیا لیکن دستخط بھی نہیں کیے اس لئے اب وہ قانون بن چکے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر وزارت قانون کے بیان اور وزیر قانون کی پریس کانفرنس میں بھی صراحت کے ساتھ یہ نہیں بتایا گیا کہ بل صدر کے دستخط کے بعد قانون بنے ہیں یا کسی اعتراض کے بغیر واپس آنے کی وجہ سے انہیں قانون کا درجہ حاصل ہوا۔
صدر عارف علوی کا بیان بھی غیر واضح ہے۔ وہ اپنے عملے کو مورد الزام تو ٹھہرا رہے ہیں لیکن انہوں نے کسی ایک ذمہ دار اہلکار کا نام نہیں لیا۔ اس بیان میں یہ بھی واضح نہیں ہے کہ کیا ان کو یہ شکایت ہے کہ عملے نے بروقت بل واپس نہ بھیج کر انہیں قانون بنوا دیا یا وہ یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ عملے نے ان بلوں پر ان کے جعلی دستخط کیے تھے۔ یوں تو دونوں معاملات ہی سنگین اور پریشان کن ہیں لیکن اگر ایوان صدر میں ملک کے سربراہ کی معاونت کرنے والے عملہ نے ان دو بلوں پر صدر کے جعلی دستخط ثبت کیے ہیں تو یہ بے حد سنگین اور ناقابل معافی جرم ہے۔ حیرت ہے کہ صدر نے اپنے عملے کی سرزنش کرنے، قصور واروں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے اور عوام کو درست تصویر دکھانے کی بجائے اللہ اور متاثرین سے معافی مانگ کر معاملہ سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔ یہ رویہ کسی صدر کے شایان شان نہیں ہے۔ اور نہ ہی کوئی بھی ملک اس بوجھ کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے۔
اگر ان قانونی دستاویزات پر جعلی دستخط ثبت کیے گئے ہیں تو اس اسکینڈل میں ملوث ہر عہدیدار کو دھوکہ دہی کے علاوہ اپنے حلف سے غداری کے الزام میں عدالتوں کے سامنے لانا چاہیے۔ اگر یہ معاملہ محض بلوں کو صدر کی مرضی کے برعکس تاخیر سے واپس بھیجنے کا ہے تاکہ وہ قانون بن جائیں تو اس کی وضاحت ایوان صدر کے ریکارڈ سے ہو سکتی ہے۔ انتظامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر جب کسی بل یا دستاویز پر دستخط سے انکار کرتا ہے تو ان کا پرنسپل سیکرٹری فوری طور سے اس دستاویز پر صدر کی رائے لکھ کر اسے ریکارڈ کا حصہ بنا دیتا ہے۔ اگر یہ نوٹ موجود ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کا سراغ نہ لگایا جا سکے۔
دونوں صورتوں میں صدر عارف علوی کا طرز عمل غیر ذمہ دارانہ اور اس عہدے کے شایان شان نہیں ہے۔ اول تو انہیں اس معاملہ پر بیان جاری کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے تھی۔ اور دوسرے اگر بیان جاری کیا تھا تو واضح کرتے کہ وہ کس پر کیا الزام عائد کر رہے ہیں۔ وہ اللہ سے ضرور معافی مانگیں لیکن قصور واروں کو قانون کے کٹہرے میں لانا بھی ان ہی کی ذمہ داری ہے۔ وہ کم از کم فوری طور سے اس ذمہ داری کو نبھانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔
جیسا کہ صحافی نسیم زہرہ نے اشارہ کیا ہے کہ کیا صدر قید میں ہیں؟ صدر کو اپنی صورت حال واضح کرنی چاہیے اور بتانا چاہیے کہ وہ کن وجوہات کی بنا پر بروقت اپنے نام سے جاری ہونے والی ’غلط معلومات‘ کی تردید کرنے میں ناکام رہے۔ دوسری طرف اگر صدر نے ان بلوں پر دستخط کیے تھے اور اب وہ کسی دباؤ میں اس سے انکار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں، پھر بیان جاری کر کے صدر مملکت خود دروغ گوئی کے مرتکب ہوئے ہیں اور انہیں اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔
تاہم ضروری ہے کہ کم از کم وزارت قانون یہ واضح کرے کہ زیر بحث دونوں قانون صدر کے مبینہ دستخطوں کے ساتھ واپس آئے تھے یا ان پر کوئی اعتراض نہ آنے کی وجہ سے ان کے قانون بننے کا اعلان کر دیا گیا تھا۔ اس وضاحت سے جرم کی نوعیت کا تعین ہو سکے گا۔ پھر قصور واروں کی تلاش بھی آسان ہو گی۔


