عبادت گاہیں سبھی کے لیے حرم


وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جہاں بہت سے مسائل آج ہمارے سامنے ہیں ان میں سے ایک سب سے بڑا مسئلہ عدم برداشت کا ہے۔ یہ عدم برداشت سیاست میں ہو، مذہب میں ہو یا روزمرہ کے معاملات میں ہو یہ افسوسناک اور خطرناک ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمیں عدم برداشت تب ہی ایک مسئلہ لگتا ہے جب ہم خود یا ہمارے گھر میں سے کوئی اس عدم برداشت کا شکار ہوتا ہے۔ بچوں کو پہلے دن سے اسکول میں مقابلے کا رجحان دیا جاتا ہے نہ کہ رواداری کا۔ ان کو یہ نہیں سکھایا جاتا کہ آپ نے اگے بڑھنا ہے لیکن دوسروں کو ساتھ لے کر چلنا ہے، جبکہ رجحان یہ دیا جاتا ہے کہ اپ نے تو اگے بڑھنا ہے لیکن دوسروں کو پیچھے چھوڑ کے اگے بڑھنا ہے۔ اخر ہم لوگوں کی خوشیاں کیوں دوسروں کو دکھی کرنے سے یا ہماری خوشی دوسرے کے دکھ سے ہی منسلک کی گئی ہے۔ ہمیں یہ بات سوچنی ہوگی کیونکہ یہ جو المیہ ہے اس کا ذمہ دار کوئی ایک فرد واحد نہیں پورا معاشرہ ہے۔ کیونکہ ہمارے ہاں تربیت کا فقدان ہے یہاں پہ مقابلے کو ترجیح دی جاتی ہے اور روا داری کو کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ یہاں پہ کیوں یہ بتایا جاتا ہے کہ جو نظریات جو عقائد ہمارے ہیں وہی ٹھیک ہیں جو اس سے منحرف ہو گا یا جو ان کے سے اختلاف رکھے گا وہ غلط ہے۔ اختلاف رکھنا کسی بھی معاشرے کا حسن ہے لیکن وہ اختلاف جب مخالفت پہ اتر آئے یا مخالفت کی شکل اختیار کر لے تو وہ حد درجے کا خطرناک ہوتا ہے۔

اخر ایسی نوبت اتی ہی کیوں ہے کہ ہم کسی کے وجود کے انکاری ہو جاتے ہیں کسی کے عقیدے کے انکاری ہو جاتے ہیں کسی کے سیاسی سماجی نظریے کے انکاری ہو جاتے ہیں، اگر غور کیا جائے تو یہ جہالت کی بدترین شکلیں ہیں۔

سانحہ جڑانوالہ، فیصل آباد کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے، کیونکہ ایک فرد واحد کے عمل کی سزا کبھی کہیں بھی کسی گروہ کو نہیں دی جا سکتی اور خصوصاً جب یہ معاملہ دین یا مذہب کا ہو تو ہمارا مذہب ہمارا دین اس بات پہ ایک واضح حکم رکھتا ہے کہ جس کا جو جرم ہے اس کی سزا اسی کو دی جائے گی۔ نہ اس کی ماں، نہ اس کا باپ، نہ بہن، نہ بھائی اور نہ کوئی اور اس کا جواب دے ہو گا تو پھر میں کیسے مان لوں کہ ایک فرد واحد کے جرم کی سزا چرچوں اور مسیحی برادری کے گھروں کو جلا کر دی گئی۔ اس طرح کے اقدامات کرنے والوں کا نہ تو کوئی تعلق اسلام سے ہے نہ اسلامی تعلیمات سے ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے کو کس طرح حل کرتی ہے کیونکہ اگر کسی سیاسی اور عسکری تنصیبات کی عزت کی خاطر اتنا تیز رفتار انصاف کیا جا سکتا ہے تو وطن عزیز میں مسیحی برادری کے ساتھ یہ جو ظلم عظیم ہوا اس کے لیے بھی انصاف انہی بنیادوں پر کیا جائے تاکہ ان کو یہ احساس رہے اور ان کا یہ یقین قائم رہے کہ وہ بھی ہم سے بہتر ہم سے بڑھ کے پاکستانی ہیں۔ قرآن پاک کی جو بے حرمتی کی گئی، وہ ایک ناکام ناقابل برداشت اور قابل مذمت عمل ہے۔ پر اب المیہ یہ ہے کہ ابھی تک اس معاملے کے تعین ذمہ داران کا تعین کیوں نہیں کیا جا سکا کہ وہ بندہ جس پہ یہ الزام لگائے اس نے وہ کیا بھی ہے یا نہیں۔ سب سے پہلے تو یہ ثابت کیا جانا چاہیے اگر اس نے وہ کیا ہے تو پھر قانون کے مطابق اس کو سزا دی جانی چاہیے دوسری جانب چرچوں کی بے حرمتی ہو یا مسیحی برادری کے گھروں کی آگ ہو یا ان کی زندگیوں کو جو خطرات لائق ہیں اس معاملے میں بھی انصاف کیا جانا چاہیے اور جو بھی ذمہ داران ہیں ان کا تعین کر کے ان کو عبرت ناک سزائیں دی جانی چاہیے۔ تاکہ وطن عزیز پاکستان میں اب یہ جو مذہبی اور دینی عدم برداشت کا ماحول پیدا کیا جاتا ہے اور فائدہ اٹھایا جاتا ہے اس کا خاتمہ ممکن ہو۔

Facebook Comments HS