تفتان بارڈر پر سرطان: مشکلات اور تجاویز


چند ایک سرکاری اہلکاروں کے منفی رویے کی وجہ سے مسافر حضرات ایک طرح کے عدم تحفظ، احساس کمتری، نفرت اور انجانے سے خوف میں مبتلا ہیں۔ ہم نے اپنے طور پر سروے کر کے دیکھا ہے آپ بھی سروے کر لیجیے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ تفتان کے مسئلے سے عوام کو بہت منفی تاثر جا رہا ہے۔ یہ سوچ عام ہو رہی ہے کہ زیارات کے لئے ایران جانے یا وہاں پڑھنے کی وجہ سے سرکاری اہلکار لوگوں کو ٹارچر کرتے ہیں۔ حالانکہ بات صرف ایک یا چند سیکورٹی گارڈز یا امیگریشن کے عملے کے چیک اینڈ کنٹرول کی ہے۔

تفتان بارڈر پر درپیش مشکلات کے ذکر کے ہمراہ ہم کچھ تجاویز بھی پیش کر رہے ہیں، ہمیں بحیثیت پاکستانی بھرپور امید ہے کہ ارباب حل و عقد مذکورہ مشکلات اور تجاویز کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ضروری احکامات صادر کریں گے۔

1۔ بارڈر پر مذہبی جنونیت کا سامنا

بدقسمتی سے سیکورٹی عملے کے نام پر تفتان بارڈر پر کچھ مذہبی جنونی افراد تعینات ہیں جو وہاں پوچھ گچھ کے دوران عوام کو اپنے عقائد کی تبلیغ کرتے ہیں اور لوگوں کے عقائد کے ساتھ چھیڑخانی کرتے ہیں۔ ظاہر ہے ڈیوٹی پر مامور مذہبی جنونیوں کی طرف سے عوام کو شدید اہانت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ برائے مہربانی پہلی فرصت میں تفتان بارڈر پر موجود جنونی افراد کے بارے میں انکوائری کی جائے اور آئندہ تمام بارڈرز پر ایسے افراد کو متعین کیا جائے جو ایسے امراض کا شکار نہ ہوں۔

2۔ لوگوں کا ذاتی اور نجی ڈیٹا غیر محفوظ ہاتھوں میں ہے

”صوفی صاحب اینڈ کمپنی“ کے مسئلے کو سنجیدہ لیا جائے۔ ان کی تعلیم، کوالیفکیشن اور خاندانی بیک گراؤنڈ کو چیک کیا جائے۔ ویزہ ملنے کے باوجود جو ڈیٹا بار بار عوام سے از سر نو جمع کیا جاتا ہے اور لوگوں کے ساتھ جو برتاؤ کیا جا رہا ہے وہ یہ آشکار کرتا ہے کہ ان لوگوں پر اعلی حکام کی طرف سے کوئی چیک اینڈ کنٹرول نہیں۔ جہاں فوری طور پر چیک اینڈ کنٹرول کا بندوبست ضروری ہے وہیں عوامی ڈیٹا فوری طور پر محفوظ ہاتھوں میں منتقل کیا جانا بھی ضروری ہے۔

3۔ فیڈ بیک کو اہمیت نہ دینا

ملک کے سارے روٹس اور بارڈر پر فیڈ بیک اور عوامی رائے کی جمع آوری کا کوئی انتظام نہیں۔ سفری مشکلات سے بچنے اور بارڈرز پر سیکورٹی عملے کی بدعنوانی کی صورت میں جگہ جگہ موبائل نمبرز لکھے ہونے چاہیے تاکہ لوگ فوری مدد طلب کرسکیں۔ اس سے عوام کا اداروں پر اعتماد بحال ہو گا اور عوام اور فوج و پولیس کے درمیان حائل خلیج بھی ختم ہو جائے گی۔ شکایات اور فیڈ بیک کے حصول کے لئے عوام کی شناخت مخفی رکھنے کا اعلان ہونے کی صورت میں سیکورٹی اداروں کو عوام کی طرف سے بھرپور مدد ملے گی۔

4۔ بارڈر پر آقا اور غلام کی تفریق

بدقسمتی سے تفتان بارڈر پر سرکاری کارندے تو چھت اور پنکھے کے نیچے بیٹھے ٹھنڈا پانی پی رہے ہوتے ہیں اور ان کے کمرے کے باہر لمبی لائنوں میں عوام گرمی اور پیاس میں جھلس رہے ہوتے ہیں۔ بارڈر پر جو بنیادی سہولیات عوام کو حاصل نہیں وہ سرکاری اسٹاف کو بھی نہ دی جائیں تا کہ مساوات اور فرض شناسی کا عنصر زندہ رہے۔ یا پھر عوام کے لئے بھی ایک چھت اور پنکھے کا انتظام کر دیا جائے۔

5۔ پروفیشنل تربیت کا فقدان

امیگریشن اسٹاف میں جہاں اخلاقی بحران نمایاں ہے وہیں ان کی پروفیشنل تربیت میں کمی بھی آشکار ہے۔ بعض تو شکل و صورت اور حلیے سے کسی انڈین فلم کے ہیرو اور یا پھر کسی داعشی و طالبانی ٹولے کے کمانڈر لگتے ہیں۔ اسی طرح ان کے لباس پر ان کا نام بھی نہیں لکھا ہوتا جس کی وجہ سے وہ اپنی ڈیوٹی سے ناجائز استفادہ کرتے ہیں اور ان کی شکایت بھی درج نہیں ہوتی۔ انہیں اپنے لباس اور حلیے اور بالوں کے اسٹائل سے ایک مہذب پاکستانی نظر آنا چاہیے۔

پروفیشنل تربیت کے بغیر قومی مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ اس وقت مسافروں سے جو لوگ معلومات کی جمع آوری کے لئے ایک فارم پر کرواتے ہیں وہ یہ نہیں جانتے کہ اس فارم کے حوالے سے ان کی اپنی کیا ذمہ داری ہے؟ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی ذمہ داری فقط لوگوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرنا ہے۔ وہ خود لوگوں کی توہین کرنے میں مصروف رہتے ہیں اور لوگوں کو ایک سفید کاغذ دے دیتے ہیں کہ اس کاغذ پر اپنی معلومات لکھیں۔ ظاہر ہے کہ ایک سفید کاغذ پر لکھی گئی معلومات اوپر نیچے ہوتی ہیں وہ اس کو بھی لوگوں کی توہین کرنے کا ایک بہترین بہانہ بنا لیتے ہیں۔ انہیں سکھایا جانا چاہیے کہ فارم پر کرنا ان اہلکاروں کی اپنی ذمہ داری ہے، لوگ فارم پر کر کے ان کی مدد کرتے ہیں اور اگر کسی فارم یا سفید کاغذ پر لکھی گئی معلومات میں کوئی کمی بیشی ہو جائے تو اس کی اصلاح اور درستی خود سرکاری اہلکار کی آفیشل ذمہ داری ہے۔ معلومات کی جمع آوری کے لئے صرف فارم یا سفید کاغذ کا ہونا کافی نہیں بلکہ رائٹ پرسن فار دی رائٹ جاب [Right Person for the Right Job] بھی ضروری ہے۔ اس کے لئے کوئی بہت زیادہ اعلی تعلیم کی ضرورت نہیں بلکہ صرف سرکاری ملازم کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ وہ اپنا کام لوگوں پر نہ ڈالے۔

6۔ رشوت کا دھندا اور جرائم میں اضافہ

اب یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی کہ تفتان اور ریمدان دونوں بارڈرز پر مسافروں سے ویزہ ہونے کے باوجود تین، چار، پانچ ہزار سے دس ہزار تک رشوت وصول کی جاتی ہے۔ یقیناً اگر کسی کے پاس ویزہ نہیں ہوتا ہو گا تو اس سے قدرے زیادہ رشوت لے کر اسے بھی جانے دیا جاتا ہو گا۔ ماضی میں کلبھوشن یادو اور اس طرح کے دیگر نیٹ ورکس کا تلخ تجربہ ہم کر چکے ہیں۔ یہ سب کچھ رشوت اور بھتہ دیے بغیر ممکن نہیں۔ ملکی سلامتی اور امن و امان کی خاطر بارڈرز پر رشوت اور بھتہ خوری کو ہر قیمت پر روکا جانا چاہیے۔

پاکستانی عوام میں ابھی تک یہ امید زندہ ہے کہ اس ملک میں ابھی ایسے تعلیم یافتہ، پروفیشنلز، مہذب اور ذہین افسر موجود ہیں جو اس سرطان کو جڑ سے اکھاڑنا جانتے ہیں۔ چنانچہ اپنے ریاستی اداروں کی عوام دوستی اور دوراندیشی پر اعتماد کرتے ہوئے یہ تجاویز مرتب کی گئی ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ پاکستان کے وفادار اور محب وطن متعلقہ اعلیٰ حکام کی جانب سے جلد ہی تفتان بارڈر پر مذکورہ سرطان کا خاتمہ کیا جائے گا۔

Facebook Comments HS