نقاب میں چھپے چہرے

کل امی ابو کی برسی ہے میں نہیں آ سکوں گی، تم ادھر کام سنبھال لینا پلیز۔ نیوز روم سے نکلتے ہوئے بینا نے اپنے کولیگ فہد سے درخواست کی۔
کیسی نیک بی بی بننے کی اداکاری کر رہی تھی۔ جیسے حاجن یہی تو ہے۔ روز پینٹ پہنے، بنا دوپٹے کے گھومتی ہے۔ اور آج آ گئی چاول لے کر ”جی یہ ختم دلایا تھا میرے امی ابو کی برسی ہے“ ۔ سر پہ کس کے دوپٹہ ایسے لپیٹا ہوا تھا جیسے کسی نے اس کے رنگے بال دیکھے ہی نہیں۔ شرم نہ حیا، نہ اللہ رسول کا خوف۔ کوئی پوچھنے والا ہی نہیں حاجی کو، جوان جہان اکیلی لڑکی کو گھر کرائے پہ دے دیا۔ کون ہے، کہاں سے لایا، کہاں جاتی ہے، کسی کو کچھ پتہ نہیں۔ بہو بیٹیوں والا محلہ ہے، اسے دیکھ ہماری بچیاں بھی خراب ہوں گی۔ پورے محلے کی تائی، تائی سکینہ کو تپ چڑھی ہوئی تھی۔
بینا محلے میں چاول کیا بانٹ کر گئی۔ سب کو نئے سرے سے موضوع مل گیا۔ ویسے تو جس دن سے وہ ادھر شفٹ ہوئی تھی پورے محلے کا موضوع سخن وہی تھی۔ لیکن آج تو حد ہو گئی تھی۔
ارے ہو گا حاجی کا اس سے چکر وکر۔ خود کی نمائش کرتے ہوئے تو گزرتی ہے، پھانس لیا ہو گا اسے۔ الزام لگانے کی ماہر ماسی برکتے نے اپنا حصہ ڈالا۔
میں تو سنا، نشہ بھی کرتی ہے۔ وہ اپنی رجو نہیں، جو کام کرتی اس کے گھر، وہی بتا رہی تھی۔ کہ جب بھی جاؤں نشے میں دھت پڑی ہوتی ہے، میں ہی جا کر اٹھاتی ہوں اسے۔ رانی نے رجو کی بات دہرائی۔
تائی میں تو سنی سنائی پہ کبھی یقین نہ کرتی وہ تو ایک دن اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ وہی خوبصورت سا لڑکا جو کتنی بار آیا بڑی سی گاڑی میں، اس کے گھر سے نکلا اور یہ ڈولتی ہوئی دروازے تک اسے چھوڑنے آئی تھی۔ آنکھیں اس کی کھل نہیں رہی تھیں۔ تنگ پاجامے پہ کھلے گلے کی چھوٹی سی کرتی پہن رکھی تھی۔ رات ہی سے آیا ہو گا، میں تو اچانک دیکھ لیا۔ ورنہ ہم کون سا چوکیداری کرتے اس کی۔ ہر وقت دوسروں کی ٹوہ میں رہنے والی شمو کو جانے اعتراض اس کی چھوٹی سی کرتی پہ تھا یا خوبصورت لڑکے پہ۔
گڈو کے ابا نے دو دن بڑی کوشش کی اس سے رابطے بڑھانے کی۔ مجھے کہتا جا پوچھ کے آ کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتا دے۔ پر میں بھی سارے کس بل نکال دیے۔ وہیں ٹھونک بجا دیا۔ دیکھو میاں یا اس سے آنکھ مٹکا کر لو یا مجھ سیدھی سادھی سے نبھاہ، دونوں میں ایک کو چنو۔ بس ہو گیا وہی سیدھا پھر نہیں لیا نام اس نے۔ ارے ان جیسیوں کا اپنا تو گھر بار ہوتا نہیں اور دوسروں کا یہ رہنے نہیں دیتیں۔ شمو نے بات کرتے کرتے تنفر سے بینا کے دروازے کی طرف دیکھا۔
فیقا تو ان جیسیوں کو دیکھتا ہی نہیں۔ سر جھکا کے کام پہ جاتا ہے اور سر جھکا کے واپس آتا ہے۔ مانو نے شیخی بگھاری۔
ایسے لوگوں کو کیا پتہ دین اسلام کا۔ خدا جانے کس طرح کے پیسوں سے ختم دلایا۔ نذر نیاز تو حلال رزق سے دینی چاہیے۔ حرام کے پیسوں کی نیاز کہاں قبول ہوتی۔ میری مانو تو پھینک دو اس کے گھر سے آئے ختم کے چاول۔ تائی سکینہ فیصلہ سنا کے اٹھ کھڑی ہوئی اور گھر جا کر بینا کے گھر سے آئے چاولوں کی پوری پلیٹ اکیلے کھا گئی۔
گلی کی طرف کھلتے ڈرائینگ روم میں قرآن پڑھتی بینا تک ساری آوازیں پہنچ رہی تھیں۔ ان کی باتوں نے اسے بہت تکلیف دی تھی۔ لیکن اس نے باہر آ کر جواب دینا فضول سمجھا۔
بینا ایم ایس سی ماس کمیونیکیشن کرنے کے بعد مشہور نیوز چینل پہ جاب کر رہی تھی۔ چاچا حاجی ابا کے پرانے دوست تھے۔ انھی کے اصرار پہ بینا ادھر شفٹ ہوئی تھی۔ پچھلے سال ایکسیڈنٹ میں امی ابا کے اچانک انتقال کر جانے سے وہ اکیلی ہو گئی تھی۔ چاچا روز اسے پوچھنے اس کے گھر جاتے تھے۔ اب خرابی صحت کی وجہ سے روز جانا ممکن نہ رہا تو اس کو گھر کے قریب اپنے ایک مکان میں لے آئے۔ کہ اکیلے رہنے کی وجہ سے اس کو اپنے گھر رکھنا نا مناسب لگا تھا۔ ادھر آسانی سے اس کی خبر گیری کر سکتے تھے۔ خوبصورت لڑکا فہد اس کا کولیگ تھا جو اس کی طبیعت خراب ہونے پہ پوچھنے آیا تھا۔ امی ابا کے انتقال کے بعد فہد سگے بھائی کی طرح خیال رکھ رہا تھا اس کا۔
لیکن وہ ان لوگوں کو وضاحتیں کیوں دے، وضاحتیں دینے سے ان لوگوں کی ذہنیت کون سا بدل جانی تھی۔
بڑے بازار میں موجود چاٹ کی چھوٹی سے دکان میں اچھو سے چنا چاٹ کی پلیٹیں پکڑتی مانو نے اپنی انگلیاں جان بوجھ کر اچھو کے ہاتھ سے لگائیں تو اچھو خوشی سے جھوم اٹھا۔ وہ دو ٹھنڈی ٹھار بوتلیں بھی پکڑا گیا۔
وہ راجو کچھ دے دلا کر بھی گیا تھا یا ایسے ہی خالی دل پشوری کرنے آیا تھا۔ اچھو چاٹ والے کی دکان پہ نقاب ہٹا کر کوکا کولا کی بوتل ایک ہی سانس میں ختم کر کے مانو نے شمو سے پوچھا۔
اس نے کیا دینا ہے نام کی طرح اس کی تو شکل سے بھی غربت ٹپکتی ہے۔ لایا تھا سستا سا جوڑا اور چوڑیاں۔ واپس کر دیں میں۔ کہا دکان تیری بھری ہے اچھے اچھے کپڑوں سے اور میرے لیے یہ لایا ہے، لے جا واپس میں نہیں پہنتی ایسے کپڑے۔
پھر؟
پھر کیا، لگا کانوں کو ہاتھ لگانے میری جان اس بار معاف کر دو دوبارہ ایسا نہیں ہو گا۔ نقل اتارتی شمو ہنس ہنس کر دوہری ہو رہی تھی۔
تم نے بھی پتہ نہیں کس کو لگادیا میرے پیچھے۔ بندہ تو کام کا ڈھونڈا کرو۔ خود تو بڑے سیٹھ پہ ہاتھ مارا ہوا ہے۔ اور میرے لیے رہ گیا یہ راجو فٹکا۔ ہونہہ، جا میں نہیں بولتی تجھ سے۔ شمو نے مصنوعی غصہ دکھایا۔ فکر نہ کر جیسے ہی کوئی تگڑی آسامی ہاتھ لگی جان چھڑا لیں گے اس سے تب تک تو اس کو ہاتھ میں رکھ، مانو نے گویا تسلی دی۔
چل ٹھیک ہے۔ پر دیکھ کوئی موٹا مرغا دیکھنا جیسا اپنے لیے ڈھونڈ رکھا ہے۔ تجھے تو پتہ ہے گڈو کے ابا کی ذرا سی تو تنخواہ ہے۔ اب یہ باہر والے کچھ ڈھنگ کا کھلا، پہنا دیتے ہیں ورنہ ہمارے گھر والے تو ساری عمر دال روٹی ہی کھلا کھلا کے مار دیں ہمیں۔
تو اور کیا۔ ویسے بھی ہم کون سا کچھ غلط کرتی بس دو چار محبت کی باتیں ہی تو کرنا ہوتی ہیں یا پھر زیادہ سے زیادہ ہاتھ پکڑ لیا اور بس، مانو نے شمو کی ہاں میں ملائی۔
لیکن تیرا سیٹھ تو سپیڈو سپیڈ آگے بڑھ رہا۔ شمو نے شرارت سے آنکھ ماری۔
چل کوئی نہیں اتنا تو اس کا حق بنتا ہے پیسہ بھی تو بہت لٹاتا مجھ پہ، بڑے بڑے ہوٹلوں میں لے کے جاتا۔ ہم نمانے تو بل کے ڈر سے پنکھا بھی سہک سہک کے چلاتے، اور ادھر اک سیکنڈ کے لیے اے سی بند نئی ہوتا، مانو اترا کے بولی۔ چل پھر ڈھونڈ میرے لیے بھی کوئی اپنے سیٹھ جیسا، شمو نے ترلا کیا۔
اچھا ڈھونڈ لیتی ہوں لیکن ابھی تو جلدی کر، وہ نہ ہو فیقا گھر آ کے سیاپا ڈال دے۔ گھر آتے ہی اس کو بھوک لگ جاتی ہے شودا نہ ہوئے تے۔ مانو نے جلدی مچائی۔
بس یہ چاٹ ختم کر لوں، شمو جلدی جلدی چاٹ کی دوسری پلیٹ کھانے لگی۔

