ململ کی بیلٹ اور بدزبان بڈھا: ایک دکھ بھری یاد


کچھ لوگ شاید ہمیشہ یاد رہیں گے ان میں سے ایک وہ دکاندار بھی ہے، بدمزاج، لمبی داڑھی والا وہ بوڑھا اس قدر بدتمیز تھا کہ شاید ہی اس درجے کے بدمزاج لوگ اس دنیا میں بہت کم ہی اترے ہوں گے۔
یہ جب کی بات ہے جس وقت ابو کی بیماری آخری مراحل میں تھی۔

جولائی کا آخری ہفتہ ابو جب اس مرتبہ ہسپتال سے گھر آئے تو ان کا پیٹ فوراً ہی پھولنے لگا ان کے گردوں نے مکمل طور پہ کام کرنا بند کر دیا تھا، شدید تکلیف میں تھے ہم نے ایک بیلٹ خریدا تھا لیکن وہ بہت سخت تھا، ہماری ایک عزیزہ نے امی سے کہا تم ململ کے کپڑے سے بیلٹ بنا کے باندھ کر دیکھو شاید کچھ افاقہ ہو۔

انکے جانے کے فوراً بعد ہی امی مجھے لے کر نزدیک ہی درزیوں والی مارکیٹ چلی گئیں، اس بازاز کی خاص بات یہ تھی کے زیادہ تر دکاندار سارا دن صرف مکھیاں مارتے تھے، وہاں چند دکانیں کپڑوں کی تھیں، کچھ لیس اور سلائی کے سامان کی اور ایک دکان جس میں باورچی خانے کے استعمال کے کپڑے ملتے تھے، امی نے دیکھا اس دکان میں ململ بھی رکھا ہے، چونکہ سب سے پہلے وہی دکان تھی ہم وہاں ہی ٹھہر گئے۔

امی نے پوچھا بھائی صاحب یہ ململ کیسے ہے؟
بڑے صاحب نے کہا پینتیس روپے کا میٹر ہے، قیمت فکس ہے۔
امی نے کہا ایک میٹر چاہیے۔
ٹھیک ہے میں نکال دیتا ہوں۔

پھر جناب نے نہایت اطمینان سے کپڑا ناپ کر کاٹا اور ہمیں دیا، تو امی نے 500 کا نوٹ ان کے ہاتھ میں رکھا

جوں ہی اس شخص نے پانچ سو ہاتھ میں لئے اس کا رنگ سیاہ پڑ گیا، آنکھیں پوری کھل گئیں چہرے کی نسیں ابھر گئیں اور گلے سے خوفناک آواز نکلی۔

آئے ہائے بی بی تمہیں میری دکان ملی تھی پانچ سو توڑنے کو؟
پیسے توڑنے ہی تھے تو پرچون کی دکان جاتی میں ہی ملا تھا؟

مسکین سی شکل بنا کے 35 کا سامان لیا اور پانچ سو تھما دیا، ارے اب تو میں اپنی ململ واپس جوڑ بھی نہیں سکتا ناں؟
پہلے کیوں نہیں بتایا کے پانچ سو کا نوٹ توڑنے آئی ہو؟
خدا کی قسم صاف انکار کر دیتا۔
ہم نے بڑی مشکل سے سمجھانا چاہا لیکن وہ بڈھا بڑبڑاتا ہی رہا۔

جب وہ سارا زہر اگل چکا تو اپنی شلوار کی جیب میں سے ایک بٹوا نکالا اور بقایا رقم گن کے ہمارے ہاتھ میں تھمائی اس کے بعد بھی وہ بڑبڑاتا رہا۔

ہم لوگ یوں بھی بہت فکرمند تھے، پھر اس وقت میری عمر کم تھی، آج والی ہوتی تو پیسے بھی نہ دیتی اور کپڑا بھی لے آتی۔
ہم دونوں ذلیل ہو کے گھر لوٹے ہم نے بیلٹ بھی بنا لیا لیکن ضرورت نہیں رہی۔
دو تین روز بعد ابو آخری بار ہسپتال گئے۔
پھر بیس اگست کی صبح ان کا جنازہ آیا۔

آج بھی بیس اگست ہے ابو کی چوبیسویں برسی۔ اس دوران بہت کچھ گزر گیا، دنیا بدل گئی، اس دکاندار کی ہڈیوں کا بھی سرمہ بن گیا ہو گا، لیکن کچھ باتیں کبھی بھی بھلائی نہیں جاتیں۔

ابو انتقال کے زمانے کی بہت سی تلخ یادوں میں سے یہ بھی ایک تلخ یاد ہے۔ جو میں بھول نہیں پاتی۔
شاید ہمیشہ جب بھی اگست کا مہینہ آئے گا یہ قصہ یاد آئے گا۔

Facebook Comments HS