چاند کو گل کریں تو ہم جانیں


ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کسی ناول پر لکھنے کا ارادہ کیا جائے مگر یہ سوچ کر اسے واپس رکھ دیا جائے کہ جانے حق ادا ہو بھی پائے گا یا نہیں! ایسا ہی ایک حیرت انگیز، دلچسپ، وقت کی اڑان پر سفر کرتا اور ماضی میں گم بستیوں کو پھر سے آباد کرتا منفرد اور انوکھا ناول اسامہ صدیق صاحب کا ہے، جس نے وقت کے بے حد طاقتور دائروی گھماؤ کو بڑے سلیقے سے اپنے اندر سمیٹ لیا ہے۔

ناول کیا ہے سمے کی بہتی مایا ہے، ایک ایسی بھید نگری جس میں ماضی، حال اور مستقبل کا اٹوٹ سنگم موجود ہے۔ حیرت انگیز انوکھی دنیاؤں کو متعارف کرانے والا یہ ایسا شش جہاتی ناول ہے، جس نے اپنے اندر بیک وقت کئی قدیم زمانوں، فنا ہو جانے والی تہذیبوں اور آنے والے وقت کی چاپ کو سمویا ہوا ہے۔ یہاں قاری وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب سے اپنا سفر شروع کرتا ہے اور گندھارا کی راجدھانی سے ہوتا ہوا مغلیہ سلطنت اور پھر وہاں سے اپنے حال میں جھانکتے ہوئے، جانے کب مستقبل کی اجاڑ، ویران اور مضطرب بھول بھلیوں میں گم ہوجاتا ہے، اسے مطلق احساس نہیں ہوتا۔ ایسا ایک بار نہیں بلکہ بار بار ہوتا ہے۔

ناول کا دلکش نام ’چاند کو گل کریں تو ہم جانیں‘ فیض صاحب کی نظمیہ شعریات کا ہی نہیں بلکہ ان تمام بوسیدہ زمانوں میں جینے والے دبنگ کرداروں کی جرات کا بھی بھرپور علامتی اظہار ہے، جو جبر کے عہد میں اپنی تمام تر مزاحمت کے ساتھ جیتے رہے اور ہر عہد میں پھر مثل ماہ طلوع ہوتے رہے، جنھیں عہد بہ عہد گل کرنا کسی طاقتور کے بس کی بات نہیں۔

ناول کا منفرد اور کئی زمانوں کی کہانیوں پر پھیلا، پیچیدہ لیکن مربوط پلاٹ قاری کی دلچسپی کو کہیں ٹوٹنے نہیں دیتا۔ بار ہا بدلتے اور اپنے عہد کی گواہی دیتے کہیں مظلوم تو کہیں سرکش کردار، ہمیں کرب بھری انسانی جبر کی تاریخ باور کراتے ہیں۔ سب سے اہم چیز مصنف کی عمدہ اور منفرد بیانیہ تکنیک ہے جو ناول کو اپنی طرز کے ایک انوکھے فکری ناول میں ڈھال دیتی ہے۔ مصنف قاری کو ایک عہد سے دوسرے عہد میں یوں سہولت سے منتقل کرتے ہیں، جیسے ان کے پاس قدیم داستانوں کا کوئی طلسمی دروازہ موجود ہو۔

اسامہ صدیق نے کتابِ سراب، کتابِ شگون، کتابِ سوز، کتابِ نفرت اور کتابِ انحراف کی پانچ صورتوں میں، ہماری بھولی بسری تاریخ کی ماضی تا مستقبل ایک شش جہاتی صورت گری کی ہے۔ جہاں اختتام میں ارتقاء یافتہ تاریخ اپنی تباہ حال، مسخ شدہ شکل لیے، مستقبل کے کئی خطرات سے گھری ہمارے سامنے کھڑی ہے۔ قاری کا اس ناول کے اثرات باہر آنا کسی حیرت کدے سے نکلنے کے مترادف ہے۔ ناول کے مختلف زمانوں اور تہذیب کا مختصر سا احوال دیکھیے :

1۔ وادیٔ سندھ کی تہذیب

ناول کا پہلا زمانہ 2084 قبل از مسیح کا ہے، جہاں پرکا اور موتلا کے مزاحمتی کرداروں سمیت، موہن جوداڑو کی وہ قدیم بستی آباد ہے جسے اسامہ صدیق نے اپنے زرخیز تخیل کی قوت سے خلق کیا ہے۔ انسانی تہذیب کے ارتقاء کا یہ ابتدائی زمانہ ہے، جہاں یہ باشعور کردار اپنی بستی کے راج پروہت سے اس لیے نفرت کرتے ہیں کہ وہ نسل در نسل بڑھتی حکمرانوں کی پیڑھی کا کاسہ لیس اور حاشیہ بردار ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ مذہبی پیروکاروں کے تیزی سے بڑھتے اثر و رسوخ کی واحد وجہ، معصوم لوگوں کی مذہب پرستی کے اندھے اعتقادات اور توہمات ہیں۔ جہاں حکم عدولی کرنے والے کو گنہگار و سرکش قرار دیا جاتا ہے اور معصوم لوگوں کو ہر طرح کی قربانی کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔

پھر وہ وقت بھی آیا جب ان پروہتوں کا جبر اس حد تک بڑھ گیا کہ لوگوں پر اپنی مذہبی عظمت کی جھوٹی دھاک بٹھانے کے لیے، انھوں نے خود تراشے جھوٹے دیوتا پارتھا ہار کو خوش کرنے کے لیے، بیل کے ساتھ ساتھ انسانی جان کی بھی قربانی دی۔ جسے دیکھ کر مظلوم لوگ تڑپ اٹھے اور خوف و ہراس میں مبتلا ہو کر مذہبی عقائد پر مزید کاربند ہو گئے۔ ذرا ناول کا یہ ہولناک حصہ ملاحظہ کیجیے جس کا اطلاق مذہبی شدت پسندی کی صورت، ہمارے موجودہ حالات پر بخوبی کیا جا سکتا ہے :

”مجمع کی طرف سے حیرانی کی ہلکی سی کراہ بلند ہوئی۔ بیل کی قربانی کے بعد ایک کان پھاڑ دینے والی سنکھ کی آواز ہوا کو کاٹ گئی۔ پیتل کی اوپری شاخیں ایک طرف ہٹ گئیں۔ ایک قد آور مخلوق نمودار ہوئی جس کے اطراف میں دونوں بازو ہوا میں لٹک رہے تھے۔ سر پر بڑے بڑے نوکیلے سینگ اوپر کی جانب مڑے ہوئے تھے۔ اس کی ڈراؤنی شکل مسخ ہوئی نظر آتی تھی، مجمع تعظیمی کلمات سے گونج اٹھا، جب کہ راج پروہت بھوگی رسم نبھانے کے لیے اپنے گھٹنوں پر جھک کر، ادب سے حالتِ رکوع میں چلے گئے۔“

”راج پروہت نے دبے دبے لفظوں میں کہا: ہم نے شرمناک گناہ کیے ہیں، ایک عرصے سے کر رہے ہیں، اب ہمیں قیمت چکانی ہوگی۔ نچلی نسل کے جانور کا خون پارتھاہار کی پیاس نہیں بجھا سکتا، ہم میں سے جو برتر ہے اسے دیوتا کو مزید گوشت پیش کرنا چاہیے۔ پھر کانپتی انگلیوں سے اس نے گرہ کھولی۔ لوگوں کی چیخیں نکل گئیں، سامنے ایک کٹا ہوا انسانی سر تھا۔ جس کے لمبے بالوں کے گچھے سے ابھی تک خون رس رہا تھا۔“

”لگتا تھا پارتھا ہار نے انسانی خون اور گوشت کے نذرانے کو قبول کیا تھا، کیونکہ اس کے اثرات من چاہے تھے، مسلسل برستی پھوار کا زور ٹوٹ چکا تھا اور بادل چھٹ رہے تھے۔“

مذہب کو طاقت اور جبر کے پھیلاؤ کے لیے ایک آلہ کار کی صورت استعمال کرنے والے پروہت کی شکل میں، مصنف ہمیں ماضی سے حال تک کا المیہ سمجھاتے ہیں کہ ہر عہد میں انسان کو مذہبی بیانیوں کے بوجھ تلے کیسے بے بس کیا جاتا رہا ہے۔

موہنجوڈارو کی قدیم رقاصہ یہاں ستھوئی کی صورت جلوہ گر ہے، جس کے حسن کی آرائش کے بیان پر، ناول کے کچھ حصے مصنف کی رومانویت آمیز، دلکش و مرصع اسلوب بیان کا خوبصورت اظہار بن جاتے ہیں۔ ذرا پرکا کے ستھوئی کے لیے لطیف محبت بھرے احساسات کا بیان دیکھیے :

”میں نے تمہارے بالوں میں منقش سیپیوں اور ہاتھی دانت کی جڑاؤ کنگھیاں آویزاں دیکھی ہیں، جیسے کسی تاریک دنیا میں نازک، مدھم رنگ کے تیرتے پھول۔“

”کیا سنگِ موسیٰ کا بنا کوئی کنگن یا سنگِ سلیمانی کا بنا کوئی بازو بند خوبصورتی میں تاریک ترین راتوں سے بازی لے سکتا ہے؟ کیا یہ تمہارے بالوں کی کھلی فراوانی کے سامنے ہیچ نہیں؟“

”کیا تم اپنی تانبے کی چوڑیاں اور کانسی کی پازیبیں جنگل کے ہرنوں اور سورج تلے کھیلتے کودتے چمکتی آنکھوں والے بچوں سے بدلنا چاہو گی؟“

”کیا چیز تمہارے دل کی دھڑکنیں لے اڑتی ہے؟ کیا یہ انگوٹھیوں، جھمکوں اور خالص ترین چاندی کے زیوروں کی چمک دمک ہے؟ یا پھر بارش کے ہر قطرے میں روشنی کی کرن؟ یا چاندی کے ایک دوسرے پر گرتے سکوں کی جھنکار کی طرح کسی ننھی معصوم بچی کی ہنسی؟“

2۔ گندھارا کی راجدھانی

ناول کا دوسرا زمانہ 455 ء کے لگ بھگ کا ٹیکسلا ہے، جو گندھارا تہذیب کی راجدھانی رہا۔ یہ حصہ بدھ مت کے پیروکاروں کے گرد گھومتا ہے۔ جو اپنے من میں امن کا آسن جمائے، دنیا کے سکھوں کو تیاگ کر، جولیاں استھل سے کچھ فاصلے پر واقع سبز پہاڑی پر اپنے دھیان میں گم ہیں۔ جہاں بدھ متر نام کا گرو بھکشو اپنے چیلوں کو آنے والے کڑے وقت سے خبردار کرتا ہے اور انھیں بتاتا ہے کہ من کی دنیا سے ناتا توڑنے والے اور دھرتی کو دکھوں کی ردا پہنانے والے ’مارا‘ کا نزول ہوا ہی جاتا۔ جو عنقریب ہر شے نیست و نابود کر دے گا۔ یہاں مارا کی علامتی شکل میں سفاک انسانوں کے ہاتھوں ایک تباہ حال تہذیب کا المیہ رقم ہے ہے۔ ناول کا ذرا یہ حصہ دیکھیے :

”ڈر ہمیں مارا کی طرف دھکیلتا ہے اور مارا ہمیں ڈر کی طرف۔“

بدھ متر کے ان الفاظ کا اثر ہلا کر رکھ دینے والا تھا، جو غروبِ آفتاب کے وقت چٹیل پتھروں کی دیواروں والے اس تنگ سے کمرے میں ان کے منہ سے نکلے تھے۔ تاریکی میں ہر لہراتا سایہ کتنا بھیانک، ہر سرسراہٹ اور ہوا کا جھونکا کتنا پراسرار معلوم ہوتا تھا۔ بدھ متر نے آخر کار اس دعوے پر اپنی بات ختم کی:

”جس چیز نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے وہ مارا کی وہ صورت ہے جس میں مرتی کا سوانگ بھرا ہے۔ اس روپ میں اس پر کوئی روک ٹوک نہیں۔ وہ مرن دیوتا ہے، مٹا دینے والا، جس پر کسی کی پکڑ نہیں۔“

اپنی تپسیا کے بعد میں نے جو جتھے دیکھے، ان میں ایسے اچھے آدمی نہ تھے، جن کے من کبھی صاف رہے ہوں۔ یا جو بہلاووں پھسلاووں میں آن پھنسے ہوں۔ یہ وہ پرش تھے جو کسی اور ہی مٹی کے بنے تھے۔ ”

یہ جیتی جاگتی بدی ہیں، چلتے پھرتے راکشس۔ یہ اتنی آسانی سے کسی ننھے بچے کے سر پہ پتھر دے ماریں، جتنی آسانی سے یہاں کھڑا دیواتی گھاس کا کوئی تنکا توڑے۔ اتنی بے پروائی سے کسی بوڑھے کو یوں کچل ڈالیں جیسے دروازے کے ساتھ بیٹھا آنند کوئی مکھی اڑائے، یوں کسی کلونتی مہیلا کا ہرن کریں جیسے تم میرے پیارے گوتم اپنی کٹیا سے نکلنے سے پہلے جوتے پہنو! ”

ناول کا یہ حصہ مصنف کی گہری فکر، عمیق مطالعے اور انسانی تاریخ کے بسیط شعور کا مظہر ہے۔

3۔ سلطنتِ مغلیہ

ناول کا تیسرا زمانہ 1620 مغل فرمانروا شہنشاہ جہانگیر کا زمانہ ہے، جو اپنی زنجیر عدل سے مشہور ہے، جہاں مرزا فراستہ بیگ اور اسکندر ثانی نامی دو کردار اپنی چھوٹی موٹی ہیرا پھیری سے طبقہ امراء سے اپنا حق چھیننے کی کوشش میں سرگرداں ہیں اور قسمت انھیں حالات کے ایک ایسے جال میں پھنسا دیتی ہے جو انھیں تاریخ کے جبر و استبداد بھرے پہلوؤں سے روشناس کراتا ہے۔ مصنف کے غائر تاریخی شعور اور عمدہ تحقیقی بصیرت کی عکاسی کرتا ناول کا یہ تاریخی اقتباس ملاحظہ کیجیے :

”یہ شہنشاہ کا روزِ عدل تھا۔ وہی دن جب نوعِ انسانی اور سلطنت کے خلاف مختلف نوعیت کے بد ترین جرائم کا ارتکاب کرنے والے اپنے خالق سے جا ملتے تھے۔ کبھی فوراً تو کبھی درد و اذیت کے ایک طویل دور کے بعد ۔“

”جاسوس ہونے کا حیلہ اور پکڑے جانے کے بد ترین ممکنہ نتائج کے خوف سے انھیں وہ گھٹن ہوئی کہ سانس لینا بھی محال تھا۔ چور مینار پر اپنے ہم پیشہ افراد کی کھوپڑیوں کے مینار نے اس گھٹن میں مزید اضافہ کر دیا۔ دھم دھم کی اونچی اور مسلسل آواز کے بعد چٹخنے اور کچلے جانے کی آوازوں سے ایک متلی پیدا کرنے والا ملغوبہ سا انھیں سنائی دیا۔ یہ ایک عظیم الجثہ ہاتھی تھا جو مہاوت کی ظالمانہ چوٹوں سے بد مست ہو کر ان سب کو کچلنے میں مصروف تھا، جنھیں اس سزا کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ منصب دار نے یہ خبر دیتے ہوئے، اپنی طرف سے اس لذیذ ضیافت میں مزید لذت پیدا کی کہ ہاتھی تلے روندنا شہنشاہ کا پسندیدہ آلۂ عدل تھا۔“

سلطنت مغلیہ میں بادشاہت کی ہولناک سزائیں اور ایذا رسانی کے دہشت ناک مناظر ملاحظہ کرنے کے باوجود کے اسکندرِ ثانی اور مرزا فراستہ منصب دار کے مہمان بنے، اس آفت سے نکلنے کے لیے وہ نئے حیلے سوچتے ہوئے جانتے ہیں کہ مذہب کی چھتری تلے پناہ لینے والا ہر مہاتما خود ایک بہروپیا ہے۔ اس حوالے سے ان کے خیالات ملاحظہ کیجیے :

”جتنا زیادہ کوئی شخص سر پھرا اور حواس باختہ نظر آئے، یعنی بہتی ناک، ٹپکتی رالیں، پھٹی آنکھیں، بکھرے بال، گندا جسم اور ایک عمومی بد حالی، اتنا ہی زیادہ یہ باور کرانا آسان ہو گا کہ وہ اصل میں ایک مہاتما ہے، جو کائنات کے اسرار پر غور کر رہا ہے۔ نتیجتاً لوگ اپنا شک و شبہ ظاہر کرتے ہوئے جھجکتے ہیں کہ کہیں گستاخی کے مرتکب نہ ہو جائیں، اب من موہن ہی ہماری خوشحالی کی کنجی ہے، کیوں کہ وہ ان تمام شرائط پر پورا اترتا ہے۔“

4۔ برطانوی ہند

ناول کا چوتھا زمانہ 1857 ء کے بعد کا ہے۔ جب انگریز فاتح قوم اپنے راستے کی ہر دیوار گرا دینا چاہتی ہے۔ ان کے جاسوس پنجاب میں ہر اس شخص کی بو سونگھتے ہیں جو برطانوی راج کے جبر و استبداد کے خلاف کھڑا ہے۔ اس ناکام جنگ آزادی کا آزار اٹھائے داستان گو میر صاحب اپنے ہم وطنوں کو خبردار کرنا چاہتے ہیں۔ یہاں کچھ ایسے جانباز بھی ہیں جو حق اور آزادی کی خاطر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر، مزاحمت کی راہ اپناتے ہوئے، دشمن سے اپنی ہر ہزیمت کا بدلہ چاہتے ہیں۔ برطانوی نو آبادیات کے متعلق مصنف کا گہرا مطالعہ و مشاہدہ ناول کی درج ذیل سطور میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے :

”انگریز اپنے خود بنائے عوام پہ حکمرانی کے طریقہ کار کو نمایاں کرتے، جس کے متعلق انھیں زیادہ موثر اور انسان دوست ہونے کا دعویٰ تھا۔ وہ انسان کو ظلم کے ہزار سالہ شکنجے سے نکالنے کے لیے، مقامی حکمرانوں کے استبدادی ڈھانچے کی مخالفت کرتے۔ وہ ارفع قوانین اور شرافت کی بات کرتے، بہتر سڑکیں اور شاندار عمارتیں تعمیر کرتے، ان کا جادو ہمیشہ سر چڑھ کر بولتا، جب کہ دوسری طرف ان کی اقلیمِ باطن تھی۔ وہ خوب چھپ چھپا کر زمین کی پیداوار کا زیادہ تر نفع لے اڑتے، تجارت کے بھیس میں لوٹ مار کرتے اور قانون کو خونی اور غیر انسانی قوانین میں بدل دیتے۔“

نو آبادیات کا جبر ہندوستان کے لوگوں پر کیسے ٹوٹا اور طاقت کے غرور اور خود ستائشی کے ان تاریک زمانوں میں حاکمیت کیسے اپنا آپ تکبر سے منواتی رہی، ان تمام قصوں میں پنجاب کے مزاحمتی کردار کیسے جی داری سے لڑتے رہے، یہ سب مصنف نے بڑی مہارت سے ناول کے اس حصے میں رقم کر دیا ہے۔

5۔ پاکستان

ناول کا پانچواں زمانہ 2009 کا لاہور ہے، جہاں ایک غریب بیوہ رفیعہ بیگم انصاف کے حصول کی تگ و دو میں دانستہ پیدا کی گئی قانونی پیچیدگیوں اور مکار نوسر بازوں کے اوچھے ہتھکنڈوں کے ظلم کا شکار ہے، دوسری طرف پولیس سے مفرور اشتہاری بلا سینٹی زندگی اور حالات کے جبر کا شکار ہے، جہاں وہ جب بھی اپنے ماضی میں جھانکتا ہے، وہاں اسے گرد و پیش میں نوسربازی کا بازار ہی سجا نظر آتا ہے۔ ناول کا یہ حصہ ہمارے عہد کے اخلاقی و معاشی زوال کی حقیقی بنیادوں کی نشاندہی کرتا نظر آتا ہے۔ ذرا یہ حصہ دیکھیے :

”وہ اسے بتانا چاہتا تھا کہ دو کمرشل پلازوں سے کرایہ لینے کے علاوہ اس کا باپ بلال گنج میں گاڑیوں کے چوری شدہ پرزوں کا دھندا بھی کیا کرتا تھا، اور یہ کہ اس کے تین بھائی الہلال کوکنگ آئل کے نام سے گھٹیا گھی بیچنے کے لیے بدنام ہیں، پھر یہ بھی زبان زدِ عام حقیقت تھی کہ اس کے چچا نے ایک جعلی ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر کروڑوں کا گھپلا کیا اور اب وہ اپنے شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ سے دوبئی مفرور تھا، جہاں سے ہر دوسرے ماہ عمرے پر بھی جاتا تھا۔

یہ سبھی پڑھے لکھے لوگ تھے، سکول کالج بھی گئے، امیر تھے، با اثر لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے تھے اور داتا دربار پر باقاعدگی سے مسکینوں میں دیگیں تقسیم کرتے تھے۔ ”

6۔ قلعہ روہتاس کیمپ

ناول کا چھٹا اور آخری تحیر آمیز زمانہ 2084 ء کا مستقبل ہے۔ جسے اسامہ صدیق کے حیران کن ژولیدہ ذہن نے بڑی مہارت سے تخلیق کیا ہے۔ یہاں انسانیت دو بالکل مخالف گروہوں میں بٹ چکی ہے۔ دنیا سے معدوم ہوتے پانی کے ذخائر نے دنیا کو جنگ کے کنارے لا کھڑا کیا ہے۔ یہ آبی وسائل کی جنگیں ہیں، جن میں ترقی کی معراج پر کھڑا انسان، انسانیت کی معراج سے گر گیا ہے۔ تباہ حال دنیا کے بگڑے و مسخ مناظر انسانی غارت گری کا پول کھولتے ہیں۔ جہاں ایک زیر عتاب دانشور اس تحقیق میں سرگرداں ہے کہ وہ کون سے قیامت خیز واقعات تھے، جنھوں نے انسانیت کو اس تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ اس کے ذہن کے الجھے خیالات ملاحظہ کیجیے :

”الجھن یہ کہ انسان نے ہر زمانے میں یہ امتیاز کرنا سیکھا ہے، پھر بھی جو زہریلا ہے، وہ صحت بخش کو زیر کر لیتا ہے۔ علم میں ایسا کیا ہے جو آخر کار تباہی تک لے جاتا ہے؟ ایمان کیوں ہمیشہ اپنا حیات بخش کردار نہیں نبھاتا؟ کیوں ایسا ہوتا ہے کہ یہ انسانوں کو شیطانوں میں تبدیل کر کے انحطاط کا شکار ہوجاتا ہے؟ وہ نسلی امتیاز، نسل کشی، منظم قتلِ عام اور عالمگیر تباہی اور بربادی کرنے لگتے ہیں؟“

پھر وہ وقت بھی آتا ہے جب اپنی جدید ترین ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے، وہ ماضی کی قدیم ترین تہذیب کی چھوڑی گئی یادگار سے، بدھ متر کے ان ہی الفاظ و خیالات تک جا پہنچتا ہے جو انسانی سرشت میں بدی و برائی، حرص و ہوس اور تخریب کاری کی جبلت کا پتہ دیتی ہے۔ وہ بڑے دھیان سے بدھ متر کے الفاظ پڑھتا ہے جہاں لکھا ہے :

”جیون بھر بدی کی فطرت کے اصل معنی ڈھونڈتے ہوئے میں نے اکثر آنکھ میں کھٹکے اشاروں کو کھوجا۔ میں نے جانا کہ جو بھی بدی کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہیں، ان میں سے بہت سے محض اس لیے ظالم ہوتے ہیں کہ خود انھوں نے ظلم سہا ہوتا ہے، اس لیے لالچی ہوتے ہیں کہ کشٹ کاٹا ہوتا ہے، سنگ دل اور نردائی ہوتے ہیں کہ ان کے کانوں نے کبھی کوئی میٹھا شبد نہیں سنا ہوتا۔“

”میں نے ان راجوں کی بابت سنا جو صرف سمے بتانے کے لیے دیشوں کو تہس نہس کر دیتے ہیں۔ ان پرشوں اور مہیلاؤں کو دیکھا جو کسی کو بس اس لیے پتھر مارتے ہیں کہ وہ ان سے الگ دکھتا ہے، یا الگ بھاشا بولتا ہے، یا الگ سوچتا ہے، یا الگ ڈھنگ سے رہتا ہے، چاہے انھیں وہ کوئی دکھ نہ پہنچاتا ہو۔ میں نے ایسے تیزابی بغض بھرے اور زہریلے لہجے والے لوگ دیکھے جو اپنا پورا جیون دوسروں کو راکشس دکھلانے میں بتا دیتے ہیں۔“

ماضی کی گرد سے مستقبل کی دھند تک، زندگی، موت، طاقت، جبر اور مزاحمت کے فلسفے سے بھرپور اسامہ صدیق کا یہ ایک ایسا منفرد اور شاندار ناول ہے جو اپنے وسیع کینوس میں کئی زمانوں اور تہذیبوں کا اسرار بھرا خزانہ سمیٹے ہوئے ہے۔

انگریزی زبان میں تحریر کیے گئے، اس ناول کا نہایت عمدہ اور ماضی و حال کے ہر زمانے کی زبان سے میل کھاتا، تخلیقی و رواں اردو ترجمہ، معروف علم پرور مترجم محترم عاصم بخشی صاحب نے کیا ہے اور کیا خوب کیا ہے۔ کتاب دوست ناشران بک کارنر جہلم کے شاہد برادران نے اسے نہایت عمدہ و دیدہ زیب پیرائے میں شائع کیا ہے۔

وقت کی اڑان سے پرے ماضی، حال اور مستقبل کی فسوں خیز بستیوں کی سیر کراتے اس حیرت انگیز ناول کی صورت، ادب میں ایک وقیع اور گراں قدر اضافے پر محترم اسامہ صدیق صاحب کو دلی مبارکباد اور ان کے اگلے ناول کے لیے بہت سی نیک تمنائیں۔

Facebook Comments HS