جڑانوالہ واقعہ: غور وفکر کے پہلو


جڑانوالہ میں مشتعل ہجوم نے عیسائی برادری کی عبادت گاہوں اور گھروں کو جلایا اور انھیں گھروں سے باہر نکلنے پر مجبور کیا۔ الزام یہ ہے کہ ایک عیسائی نے قرآن پاک کے اوراق کو جلانے کی گستاخی کی، اور اس کی توہین کی اور دین اسلام و رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے نازیبا الفاظ لکھے۔

فی الحال تک یہ معمہ حل طلب ہے کہ
کیا واقعی یہ مکروہ فعل کسی عیسائی نے کیا ہے اور کسی نے اسے دیکھا بھی ہے کہ نہیں؟
اگر کیا ہے تو اس کی وجوہات کیا ہیں؟
کیا واقعی پولیس والوں نے نہ واقعے کی رپورٹ درج کی اور نہ ملزم کے خلاف بروقت کارروائی کی؟
کیا پولیس والوں نے متاثرین کی عبادت گاہوں اور گھروں کو بچانے کی سنجیدہ اور موثر کوشش کی؟
عوام کو مشتعل کس نے کیا اور کیا اب تک وہ گرفتار ہوچکے ہیں کہ نہیں؟
یہ اور اس طرح کے دیگر کئی سوالات ہیں جو تحقیق طلب ہیں اور ان سوالوں کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے کہ کہیں یہ کسی ذاتی رنجش اور دشمنی کا شاخسانہ تو نہیں۔

اس کے تانے بانے کہاں سے ملتے ہیں، کہیں یہ کوئی بیرونی سازش تو نہیں کہ اسلام اور پاکستان کے تشخص کو مجروح کیا جائے اور سویڈن وغیرہ میں جو قرآن جلانے اور توہین کے جو واقعات رونما ہوتے جا رہے ہیں اس سے دنیا کی نظریں ہٹا کر یہاں پر فوکس کرائی جائیں۔

درجہ بالا سوالات اپنی جگہ پر لیکن جو واضح ہے اور سمجھنے کی بات ہے وہ یہ ہے کہ اس طرح کے واقعات کی نہ اسلام اجازت دیتا ہے اور نہ پاکستان کا آئین اور قانون۔

سزا کا تعین، ملزم کی گرفتاری اور سزا دینا ریاست ہی کی ذمہ داری ہے۔ کسی بھی معاملے میں خود مدعی بننا، وکیل بننا، گواہ بننا، منصف بننا اور سزا دینا ہرگز شریعت کا منشا نہیں ہے کہ اس سے فساد فی الارض پیدا ہوتا ہے جس کی شریعت ہرگز بھی اجازت نہیں دیتی۔

یہ بات بھی بالکل واضح ہے کہ اسلامی ریاست میں اقلیتوں کے حقوق مکمل محفوظ ہوں گے۔ ان کے جان و مال، عزت، عبادت گاہوں کا تحفظ اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے۔

اس حوالے سے اسلامی تعلیمات اور رسول اللہ ﷺ کا کیا عمل رہا ہے، آئیے اس پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔

”اسلامی معاشرے میں مسلمانوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اقلیتوں سے نیکی، انصاف اور حسن سلوک پر مبنی رویہ اختیار کریں۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے۔

” اللہ تمہیں اس بات سے منع نہیں فرماتا کہ جن لوگوں نے تم سے دین (کے بارے ) میں جنگ نہیں کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے کہ تم ان سے بھلائی کا سلوک کرو اور ان سے عدل و انصاف کا برتاؤ کرو، بیشک اللہ عدل و انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے“ (سورۃ الممتحنة۔ 8 )

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :

”سنو! جس نے کسی ذمی (اقلیتی فرد) پر ظلم کیا یا اس کا کوئی حق چھینا یا اس کی طاقت سے زیادہ اس پر بوجھ ڈالا یا اس کی کوئی چیز بغیر اس کی مرضی کے لے لی تو قیامت کے دن میں اس کی طرف سے وکیل ہوں گا“ (سنن ابوداؤد۔ 3052 )

نبی اکرم ﷺ کے عہد میں ایک مسلمان نے ایک غیر مسلم کو قتل کر دیا۔ نبی ﷺ نے قصاص کے طور پر اس مسلمان کے قتل کا حکم دیا اور فرمایا :

” غیر مسلموں کے حقوق کی حفاظت میرا سب سے اہم فرض ہے“ (ابن ابی شیبة، المصنف 5 : 408، رقم : 2745 )

” جس کسی نے کسی ذمی (اقلیتی فرد) کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پا سکے گا“ (البخاری۔ 3166 )

آپ ﷺ کا اہل کتاب کے علاوہ مشرکین سے بھی جو برتاؤ رہا اس کی بھی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔ مشرکین مکہ و طائف نے آپ ﷺ پر بے شمار مظالم ڈھائے، لیکن جب مکہ فتح ہوا تو آپ ﷺ کے ایک انصاری کمانڈر سعد بن عبادۃ نے ابوسفیان سے کہا :

”آج لڑائی کا دن ہے۔“

یعنی آج ان مشرکین سے جی بھر کر انتقام لیا جائے گا تو آپ ﷺ ناراض ہو گئے اور ان سے جھنڈا لے کر ان کے بیٹے قیس کے سپرد کر دیا اور ابوسفیان سے فرمایا :

الیوم یوم المرحمة۔ ” (آج لڑائی کا نہیں بلکہ) آج رحمت کے عام کرنے (اور معاف کر دینے ) کا دن ہے۔“ (ابن حجر عسقلانی، فتح الباری، 8 : 9 )

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہماری حکومت کا اصول یہی ہے کہ: ”جو ہماری غیر مسلم رعایا میں سے ہے اس کا خون اور ہمارا خون برابر ہے اور اس کی دیت ہماری دیت ہی کی طرح ہے“ (بیھقی، السنن الکبریٰ، 8 : 34 )
(شافعی، الام، 7 : 321 )
اہل نجران کو حضور نبی اکرم ﷺ نے جو خط لکھا تھا اس میں یہ جملہ بھی درج تھا :

” نجران اور ان کے حلیفوں کو اللہ اور اس کے رسول محمد ﷺ کی پناہ حاصل ہے۔ ان کی جانیں، ان کی شریعت، زمین، اموال، حاضر و غائب اشخاص، ان کی عبادت گاہوں اور ان کے گرجا گھروں کی حفاظت کی جائے گی۔ کسی پادری کو اس کے مذہبی مرتبے، کسی راہب کو اس کی رہبانیت اور کسی صاحب منصب کو اس کے منصب سے ہٹایا نہیں جائے گا اور ان کی زیر ملکیت ہر چیز کی حفاظت کی جائے گی۔“ (ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، 1 : 228، 358 )

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بہت سی ہدایات ہمیں ملتی ہیں جو آپ نے لشکر اسلام کے سپہ سالاروں کو تحریری طور پر یا زبانی دیں۔ ان میں سب سے جامع ہدایات وہ ہیں جو آپ نے شام بھیجی جانے والی فوج کے سالاروں کو دی تھیں۔

آپ نے فرمایا تھا :

”میں تمہیں اللہ عزوجل سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں اللہ کے راستے میں جہاد کرو یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے دین کی نصرت فرمائے گا. غلول (مال غنیمت میں چوری) نہ کرنا، غداری نہ کرنا، بزدلی نہ دکھانا، زمین میں فساد نہ مچانا اور احکامات کی خلاف ورزی نہ کرنا۔ کھجور کے درخت نہ کاٹنا اور نہ انہیں جلانا, چوپایوں کو ہلاک نہ کرنا اور نہ پھلدار درخت کو کاٹنا، کسی عبادت گاہ کو مت گرانا اور نہ ہی بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو قتل کرنا، تمہیں بہت سے ایسے لوگ ملیں گے جنہوں نے گرجا گھروں میں اپنے آپ کو محبوس کر رکھا ہے اور دنیا سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے انہیں ان کے حال پر چھوڑ دینا۔ ان کے علاوہ تمہیں کچھ دوسرے لوگ ملیں گے جو شیطانی سوچ کے حامل ہیں جب تمہیں ایسے لوگ ملیں تو ان کی گردنیں اڑا دو۔“ (بیھقی، السنن الکبریٰ، 9 : 85 )
(مالک، موطا، 2 : 24
(عبدالرزاق، المصنف، 5 : 199 ) ”
سید مودودی نے بہت جامع انداز میں اس کا احاطہ فرمایا ہے۔

”غیر مسلموں کے ساتھ برتاؤ کرنے میں مسلمانوں کو تعصب اور تنگ نظری کی تعلیم نہیں دی گئی۔ ان سے خود جھگڑا نکالنے سے بھی روکا گیا ہے۔ ہماری اسلامی شریعت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم سب بڑھ کر انسانی ہمدردی اور خوش اخلاقی برتیں۔ کج خلقی اور ظلم اور تنگ دلی مسلمان کی شان سے بعید ہے۔ مسلمان اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ حسن اخلاق اور شرافت اور نیکی کا بہترین نمونہ بنے اور اپنے اصولوں سے دلوں کی تسخیر کرے۔“ دینیات صفحہ 134

یہ بات خوش آئند ہے کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ دینی اداروں، تنظیمات اور تحریکوں نے بھی بالکل واضح انداز میں اس واقعے کی مذمت کر کے عیسائی برادری کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر جناب سراج الحق نے رد عمل دیتے ہوئے کہا

”جڑانوالہ میں ہونے والے پرتشدد واقعات قابل مذمت اور اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں۔ کسی مذہب کے مقدسات جلانے، ان کی بے حرمتی کرنے، لوگوں کے گھر اور املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔ وفاقی و صوبائی نگران حکومتیں اور سکیورٹی ادارے اپنی ذمہ داری پوری کریں، شفاف تحقیقات کی جائیں، عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے“

پاکستان میں ایک اچھی خاصی تعداد اقلیتوں کی ہے، خود انھیں بھی یہ احساس ہونا چاہیے کہ اکثریت یعنی مسلمانوں کے جذبات کا بھی خیال رکھنا چاہیے اور جو نازک اور حساس موضوعات ہے اس کے چھیڑنے سے گریز کرنا بہتر ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ رسمی اور غیر رسمی تعلیم کے ذریعے لوگوں کو اصل اسلامی تعلیمات اور ہدایات سے روشناس کرائے اور باہمی رواداری، برداشت اور صبر و تحمل کا سبق مسلسل پڑھاتی رہے۔

دینی تحریکات، تنظیمات، اداروں، علماء کرام، خطباء اور اساتذہ کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ بلا تعصب لوگوں کو دین کا درست تصور اور حقیقی روح سمجھا دیں اور متشددانہ رویوں اور طرز عمل کی اصلاح کی فکر کریں۔ تطہیری افکار، تعمیر سیرت اور اصلاح معاشرہ کے لئے ہمہ گیر تحریک اٹھانا اور جدوجہد کرنا وقت کا تقاضا ہے۔

Facebook Comments HS