پیمرا ترمیمی ایکٹ 2023 کی منظوری۔ اندرونی کہانی
سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگ زیب نے پیمرا ترمیمی بل 2023 کی بعض شقوں پر اعتراضات پر پارلیمنٹ سے واپس لے لیا تھا لیکن جب پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن اس بل کو منظور کرانے کے لئے ڈٹ گئی تو پھر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ہنگامی طور لایا گیا اور اس کی منظوری حاصل کی گئی بعد ازاں جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر مشتمل ایک وفد نے ایوان صدر میں حاضری دی اور صدر سے بھی اس بل کی توثیق کرا لی۔
مریم نواز کو اندیشہ تھا کہ صدر مملکت اس بل کی منظوری میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ لہذا انہوں نے میڈیا کی تمام تنظیموں کو متحرک کیا مریم اورنگ زیب اس بل کی منظوری میں جس قدر دلچسپی لے رہی تھیں وہ سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ انہوں نے بل میں جو ترامیم کی ہیں، کل وہ بھی اس کی زد میں آ سکتی ہیں۔ نئی شقوں کے ذریعے آزادی صحافت کا گلا با آسانی گھونٹ جا سکے گا۔ ہتک عزت کا قانون یکسر غیر موثر کر دیا گیا اب پیمرا خود تمام خود سر اینکر پرسنز سے نمٹے گی۔ اس بل میں جہاں میڈیا کارکنوں کی دو ماہ کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کو سرکاری اشتہارات سے منسلک کرنے کی ”شوگر کوٹیڈ“ شق شامل کر کے میڈیا کارکنوں کی حمایت حاصل کی گئی وہاں اس بل میں ڈس انفارمیشن اور مس انفارمیشن کی شق کو خوبصورتی سے شامل کر کے میڈیا پر ایک ایسی تلوار لٹکا دی گئی ہے جس سے کسی بھی وقت ”آزادی صحافت کے علمبرداروں“ کے سر قلم کیے جا سکتے ہیں۔
اس بل پر بڑی لے دے ہوئی ہے۔ بالآخر اس منظوری کا شرف حاصل ہو گیا ہے۔ اس وقت کی وفاقی وزیر اطلاعات نے جس تیز رفتاری سے قومی اسمبلی سے پیمرا ترمیمی بل 2023 منظور کرایا اسی رفتار سے سینیٹ میں بل کو من و عن شکل میں منظور ہونے سے روک دیا گیا سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کو سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے اطلاعات و نشریات میں بل کی منظوری کے حوالے سے نہ صرف اپوزیشن بلکہ حکومتی ارکان کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں غصے کے عالم میں سرے سے بل ہی واپس لے لیا لیکن پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے سبکدوش ہونے والے صدر صدیق ساجد نے جہاں بل کو دوبارہ پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنے کے لئے ایجی ٹیشن کا راستہ اختیار کیا وہاں انہوں چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی اور سپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کو اس بل کو دوبارہ زیر بحث لا کر منظور کرایا۔ یہ بل قومی اسمبلی کے آخری اجلاس میں منظور کیا گیا اس سے قبل سینیٹ میں دوبارہ زیر بحث آیا پھر صدر مملکت نے بھی اس بل کی توثیق میں دیر نہیں لگائی وزیر اعظم ہاؤس سے پیمرا ترمیمی بل 2023 ایوان صدر پہنچا ہی تھا کہ صدر نے فوری طور پر توثیق کر دی
یہ واحد بل تھا جس پر میڈیا ہاؤسز کے مالکان اور کچھ دیگر عناصر ایک پیج پر تھے۔ بل کی توثیق پر جہاں ڈھول بتاشے بجائے گئے وہاں اس کا کریڈٹ حاصل کی بھرپور کوشش کی گئی پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (برنا) کی طرف سے پیمرا ترمیمی بل 2023 کی حمایت کی گئی جب کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (دستور) نے اس بل میں شامل کی گئی آزادی صحافت کے خلاف ترامیم کو یکسر مسترد کر دیا پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (دستور) اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (دستور ) کے زیر اہتمام ”پیمرا ترمیمی بل 2023 پر مباحثہ کرایا گیا جس میں بل میں خامیوں بارے اپنے تحفظات کا اظہار کیا گیا مشترکہ اعلامیہ میں پیمرا آرڈیننس کو کالے قانون میں تبدیل کرنے کی قبیح کوشش قرار دیا اور اس کے خلاف ملک تحریک چلانے کا اعلان کیا دلچسپ امر یہ ہے۔
کراچی پریس کلب میں پیمرا ترمیمی بل 2023 پر منعقد ہونے والی کانفرنس میں پی ایف یو جے کے تمام دھڑوں نے نہ صرف پیمرا ترمیمی بل مسترد کر دیا بلکہ اس مجوزہ قانون کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے کے عزم کا اظہار کیا سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نیشنل پریس کلب کے علاوہ پشاور اور کراچی پریس کلب بھی گئیں کراچی پریس کلب میں بھی انہیں بل کے حوالے سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد ان کے مائنڈ سیٹ میں کچھ تبدیلی آئی انہوں نے اس بل میں پی ایف یو جے (دستور) اور دیگر صحافیوں کی ترامیم کو شامل کرنے کی بجائے بل کو واپس لینے کا اعلان کر دیا اگرچہ ان سے کہا گیا کہ وہ بل میں کارکنوں کی تنخواہوں سے متعلق ترامیم کو برقرار رکھتے ہوئے بل کو منظور کرا لیں جب کہ اس میں سے آزادی صحافت سے متصادم ترامیم خارج کر دیں لیکن وہ راضی نہ ہوئیں سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے اطلاعات و نشریات کے ارکان نے بھی اس بات پر زور دیا کہ بل کو جزوی طور منظور کرا لیں لیکن مریم اورنگزیب اس بات پر بضد رہیں کہ اب وقت کم رہ گیا مزید ترامیم نہیں ہو سکتیں تاہم انہوں نے چیئرمین پیمرا کی تقرری کے لئے پارلیمنٹ کی کمیٹی کی شق شامل کر دی۔ پیمرا آرڈیننس 2002 میں 21 سال بعد پہلی بار ترامیم کی گئی ہیں۔
پیمرا ایکٹ میں کے ابتدائیہ سمیت 9 سیکشنوں میں ترامیم کی گئی ہیں جب کہ 5 نئے سیکشنوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔ پیمرا قانون کے 2، 6، 8، 11، 13، 24، 26، 27 اور 29 کے سیکشنوں میں ترامیم کی گئی ہیں جب کہ بل میں 20، 20 اے، 29 اے، ، 30 بی، اور 39 اے کی نئی شقوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔ پیمرا ایکٹ میں ترمیم کر کے میڈیا مالکان کو دو ماہ کے اندر تنخواہوں کی ادائیگی کا پابند بنایا گیا ہے۔ تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر سرکاری اشتہارات روک دیے جائیں گے۔ مالکان کو سب سے بڑا یہ ریلیف دیا گیا کہ براڈ کاسٹ میڈیا کا لائسنس 20 سال اور ڈسٹری بیوشن کا لائسنس 10 سال کے لئے ہو گا۔ اب متعلقہ شخص کا موقف لئے بغیر دی جانے والی خبر ڈس انفارمیشن کے زمرے میں آئے گی جس پر 10 لاکھ سے ایک کروڑ روپے جرمانہ کیا جا سکے گا۔

