ہم کام کیوں کرتے ہیں؟


پاکستان میں چھوٹی بڑی فرم ہو یا کمپنی انسان جب وہاں اپنا سب سے قیمتی سرمایہ (وقت) دیتا ہے تو بدلے میں مہینے کے چند ہزار پاتا ہے جس میں اس کی روٹی، بجلی پانی گیس کا بل، اس کے دیگر اخراجات، گھر کا کرایہ اگر ذاتی گھر نہ ہو تو، اور اس کی ایمرجنسی کی صورت میں کسی کے ہاتھ نہ پھیلانے کے لیے بچت سنبھال کر رکھنا پہلا اور آخری مقصد ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں سماجی اور اقتصادی حالات بگڑتے اور بدلاؤ آتے ہیں۔ زیادہ تر کمپنیاں اپنے امپلائیز کی دیکھ بھال کرنے، اس کے حقوق پورے کرنے میں ناکام رہتی ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں نوکری آسانی سے مل جاتی ہے اور ایمپلائیز بھی بدلتے رہتے ہیں۔ لیکن ملٹی نیشنل کمپنیاں حقوق کی استحصالی تو کرتی ہیں مگر اتنی ڈائریکٹ نہیں ہوتی جتنی کہ دیگر بڑی کمپنیاں اور ایجنسیاں۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی کمپنیوں میں ملازمین گورنمنٹ ملازمین کے جیسے تحفظات کے ساتھ کچھ نہ، کچھ حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔

پاکستان کی بات کی جائے تو ہر کاروباری آدمی ملازم کم اور انٹرن زیادہ رکھنا چاہتا ہے کیونکہ انٹرن کو پیسے نہیں دینے پڑتے اور زیادہ سے کام نکلوایا جا سکتا ہے یہ کہہ کر ”وہ تو سیکھنے آیا ہے“ جب کہ اس جملے کے پیچھے کی حقیقت ہر باس جانتا ہے کہ وہ کسے بے وقوف بنا رہا ہے۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ایسی ایجنسیاں کامیاب ہیں؟ بالکل ہیں کیونکہ ایسی ایجنسیاں اپنے اخراجات کم رکھنے میں کامیاب رہتی ہیں مگر ان کی سب سے بڑی خامی یہ ہوتی ہے کہ ایسی ایجنسیاں یا فرم اور چھوٹی بڑی کمپنیاں چونکہ کھلم کھلا استحصال کرتی ہیں اس لیے ان کے کام کا معیار اتنا اچھا ہو نہیں پاتا جتنا ہو سکتا ہے۔ چونکہ یہاں کے ایمپلایز اس خلوص اور لگن سے کام کر نہیں پاتے جو کہ استحصالی کا ہی نتیجہ ہیں اس لیے اس کے کلائنٹس بھی وہی رہتے ہیں جنہیں سستا کام چاہیے ہوتا ہے۔ کوی ایکا دوکا جیک پاٹ لگ گیا تو لگ گیا۔ نیں تہ کوئی گل نہیں۔ کام تو چل ہی رہا ہے۔

قابل قدر بات یہ ہے کہ ہم بطور ایمپلائی ایسی کمپنیوں میں کام کرنے پر مجبور اس لیے بھی رہتے ہیں کیونکہ ہمارے تعلیمی نظام نے ہمیں ذہن کی عمارت اسی طرح تعمیر کر رکھی ہے۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر کیوں بننا ہے کہ کسی اسپتال میں نوکری کر سکیں۔ انجینئیر کیوں بننا ہے کہ کسی فرم میں انجینئیر لگ سکیں یعنی نوکری۔ فوجی کیوں بننا ہے کہ فوج کی نوکری کر سکیں۔ ٹیچر کیوں بننا ہے کہ اسکول میں نوکری لگ جائے۔ کویٔ بھی مضمون میں اعلیٰ ڈگری کیوں چاہیے کہ گورنمنٹ یا پرائیویٹ نوکری لگ جائے۔ گورنمنٹ کے چانس بہت کم ہیں کہ کچھ سفارش پر تو بہت سی نوکریاں پی پی ایس سی یا متعلقہ صوبوں کے اداروں کی جانب سے پبلک سروس کا فضول امتحان پاس کر کے آتے ہیں اور کام پر لگنے سے پہلے اسی کام کی ٹرننگ لیتے ہیں۔ مان لیا یہ طریقہ کار ٹھیک ہے مگر وہ امتحان کس لیے جس نے آگے کام بھی نہیں آنا۔ نہ نوکری میں نہ پروموشن میں۔ جس کا مقصد صرف وقت کا ضیاع ہے۔

معلوم ہے کہ اب تک کا تمام کہا لکھا پڑھا سنا سمجھا صرف مایا ہے، اس سب باتوں کا کوئی فائدہ نہیں۔ کیوں کہ یہ پاکستان ہے۔ یہاں نہ کچھ بدلا جا سکتا ہے نہ کبھی بدلے گا۔ یہ کرپشن کی علامت ہے اور سدا رہے گا مگر ہم کام کیوں کرتے ہیں؟ اس لیے کہ ہمیں ہاتھ پھیلانے کی عادت نہیں۔ ہم ان پڑھ مزدور نہیں۔ ہم دیہاڑی دار ضرور ہیں مگر کسان نہیں، ہم اینٹیں نہیں پکاتے۔ ہم بھالے نہیں اٹھاتے، ہم مستری ترکھانی نہیں کرتے۔ ہم وہ مزدور ہیں جنہوں نے یونیورسٹیوں میں لاکھوں روپے فیس بھر رکھی ہے۔ یہی سب امتحان دے کر انٹرویو دے کر نوکری حاصل کر رکھی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم بالآخر دوستوں پر منحصر ہیں جو خود بھی ہمارے جیسے ہیں۔ انہیں سے ادھار چلے گا کہ آج فلاں مسئلہ ہو گیا ہے یار، آج فلاں کام کرنا ضروری ہے وغیرہ وغیرہ اس لیے ہم دوستوں کے دم پر زندہ ہیں۔ ایک دیہاڑی دار مزدور میں اور ہم جیسے مزدور میں یہی فرق ہے کہ ہم بھوکے ہوں تو دوست یار کھانا لیے آ پہنچتے ہیں پھر چاہے وہ ہری مرچ کی چٹنی ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن مسائل تو مسائل ہیں۔ بھلا ہری مرچ کی چٹنی کھانے سے سر پر آئے بڑے مسائل حل ہوں گے؟ ہر گز نہیں۔ انتظار ہے اس حوصلے کا جو یہ کہنے کے قابل بنا دے کہ ہمارا استحصال بند کرو۔ ہم نوکری اس لیے کرتے ہیں کہ مشکل وقت میں دوستوں کو تنگ نہ کرنا پڑے۔ اپنے مسئلے خود حل کر سکیں نہ کہ اس لیے کہ ہم یہ سنیں۔ ”یہ کمپنی کا ایشو نہیں ہے۔“ کیونکہ کمپنی ہم سے ہے۔

Facebook Comments HS