عورت سے عدوات کیوں؟

عورت کا اپنے اپنے معاشرے کی تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار فراموش نہیں کیا جاسکتا، یہ صنف نازک کئی قسم کی ہوشربا صلاحیتوں سے نوازی گئی ہے۔ تصویر کائنات میں سارے حسین اور انمٹ رنگ اسی کے دم سے ہیں۔ عورت نے انسانی زندگی کے تمام ارتقائی مراحل میں مرد کے شانہ بشانہ اپنا منفرد اور موثر کردار منوایا ہے۔ دنیا کی ہر قدیم سے قدیم تہذیب اس بات کی شہادت دے گی کہ اس دور کی عورت باصلاحیت تھی، تخلیق کار تھی، پختہ کار تھی، جفاکش تھی، بہادر تھی، باہمت، ہنرمند اور حوصلہ مند تھی۔ ہڑ پہ، موہن جو دڑو اور مصری تہذیب کو سیراب کرنے میں اس عہد کی پر جوش خواتین نے اپنا خون اور جنون شامل کیا۔ میدان تجارت میں سرگرم حضرت خدیجہؓ ہوں، حضرت عائشہ ؓ ہوں یا تحریک قیام پاکستان کی روح رواں حضرت فاطمہ جناح ؒ ہوں، مادر وطن کی ننھی پری ارفعٰ کریم ہو، مصری شہزادی افرودیتی ہو یا قلوپطرہ، فرانس کی جون آف آرک ہو یا ہندوستان کی چاند بی بی، سب نے اپنی خوبیوں اور خداداد صلاحیتوں سے اپنی بصیرت، فہم و فراست، عصمت اور بہادری کی داستانیں رقم کی ہیں۔ عہد عباسی میں ملکہ خیزران اور ملکہ زبیدہ کا کردار اسلامی تاریخ کا سنہری باب ہے۔ ہندوستان کی تاریخ میں رضیہ سلطانہ اور نور جہاں کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ اے میری ہم وطن خواتین! بیدار ہو جاؤ، اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے، اپنی زندگی کے گلشن کی خود آبیاری کرو۔ اپنی عزت و عصمت کی حفاظت کے لئے، اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کے لئے، اس معاشرے سے اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو اپنے اندر سے ہر خوف کو نکال باہر کرنا ہو گا۔ اپنے اندر کی عورت کو جگانا ہو گا، جو بہت توانا، دانا، مضبوط، طاقتور اور نڈر ہے۔ اے میرے وطن کی بہنوں! تمہاری حفاظت کے لئے ملکی قوانین موجود ہیں۔ محتسب اور جج عدالتوں میں آپ کی عظمت و عصمت کا پہرہ دینے کے لئے براجمان ہیں۔ آپ کو ان قوانین سے جو آپ کے لئے بنائے گئے ہیں آگاہ رہنا ہو گا۔ آپ کو اپنے حقوق اور فرض کا ادراک ہونا چاہیے۔ پاکستان کی بیٹیوں علم کی روشنی سے اپنے کردار کو روشن کرو۔ آپ کی روشن کی ہوئی ایک مشعل تاریک سیاہ راتوں کے خاتمے اور نوید سحر کا اعلان ہوگی۔
جاگو اور دیکھو وقت آپ کے روبرو فریاد کناں ہے۔ کوئی معاشرہ عورت کے کردار کے بغیر تعمیر و ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں کر سکتا۔ خواتین نے سماجی ترقی کے لئے ہر کردار کو بخوبی اور با احسن نبھایا ہے۔ جدید دور میں سماجی تعمیر میں عورت کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل اور ناگزیر ہے۔ سیاسی، معاشی اور معاشرتی ترقی عورت کے کردار کے بغیر ادھوری ہے۔ جو معاشرے عورت کو عزت اور اس کا جائز مقام نہیں دیتے وہ ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اگرچہ تاریخ میں عورت کو اس کا جائز مقام نہیں دیا گیا اور اب بھی خواتین پر رشک کرنے کی بجائے ان سے حسد کیا جاتا ہے، مخصوص سوچ کے حامی مرد حضرات کو کامیاب عورت سے عداوت کیوں ہے، میں بحیثیت عورت یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں۔ عورتیں معاشرے کے پسماندہ اور پسے ہوئے طبقات میں شمار ہوا کرتی تھیں۔ غلام مردوزن اور عورتوں کو معاشرے کے محروم ترین طبقہ سمجھا جاتا تھا لیکن اب صورت حال یکسر مختلف ہے۔ اب عورتیں ملکوں کی حکمران اور کئی ریاستی و نجی اداروں کی سربراہان بھی ہیں۔ عورت کو سٹیٹ بنک کی ہیڈ بھی بنایا گیا۔ پروفیشنل خواتین افواج پاکستان سمیت دنیا کی مختلف سپاہ میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ کھیلوں کے میدان میں بین الاقوامی سطح پر کامیابیاں سمیٹ کر ملک و ملت کا نام روشن کر رہی ہیں۔ غرض زندگی کا کوئی میدان نہیں جس میں عورتیں پیچھے ہوں۔ آج کی عورت جاگ گئی ہے، اب یہ کسی کے ڈر سے میدان چھوڑ کر بھاگ نہیں سکتی۔ اس کا شعور پوری طرح بیدار اور یہ توانائیوں سے سرشار ہے۔ آج کی خواتین اپنے حقوق پہچان گئی ہیں۔ اب عورتوں کو اپنے حقوق کے لئے بھیک نہیں مانگنا پڑتی بلکہ وہ ضرورت پڑنے پر اپنا حق چھین بھی سکتی ہیں۔ اب کسی عورت کی پکار پر محمد بن قاسم نہیں آئے نہ آئے خواتین ضرور اس کی مدد کے لئے امڈ آئیں گی۔ آج کی عورت اپنے بل بوتے پر ہر ظالم سماج اور فرسودہ رواج کا مقابلہ کرنا جان گئی ہے۔ آج کی عورت اپنے تحفظ کے لئے خود سیسہ پلائی دیوار بن گئی ہے۔ آج کوئی عورت اپنا استحصال برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اے میرے وطن کی بہادر اور نڈر بیٹیو! میری بہنو! دیکھو وقت کی نبض پر ہاتھ رکھو اور بازی اپنے حق میں پلٹ دو۔
سب سے اہم اور ضروری بات جس کی بدولت انسان اپنی منزلت برقرار رکھتا ہے وہ اس کی معاشی حیثیت کی مضبوطی ہے۔ اسلام کے سوا دوسرے تمام مذاہب نے عورت کو معاشی حیثیت سے کمزور کیا ہے لہٰذاء عورت کو اس معاشی بے بسی کو بدلنا ہو گا کیونکہ عورتوں کی معاشی کمزوری غلامی کی سب سے بڑا سبب بنتی ہے۔ معاشی ضرورتوں اور مجبوریوں نے عورت کو ایک خود کفیل فرد بنا دیا ہے۔ اسلام تو اعتدال کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ عورت کا ملازمت کرنا مرد کی طرح سخت رویوں کا سامنا اور انہیں برداشت کرنا، لوگوں کی نظروں کو نظر انداز کرنا شاید اب اتنا معیوب خیال نہیں کیا جاتا ہے۔ حضرت خدیجہؓ جو اسلام کی پہلی تجارت سے وابستہ خاتون تھیں۔ حضرت صفیہ کا میدان جنگ میں دشمنوں کا قلع کم کر کے کامیابی کے جھنڈے گاڑنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عورت کا ملازمت کرنا معیوب نہیں ہے لیکن لباس کی تمیز کو فراموش نہ کرتے اور رائج اصولوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے اجازت دی گئی ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ”اپنے گھروں میں بیٹھی رہو اور زمانہ جاہلیت کی طرح بناؤ سنگھار نہ کرتی پھرو“ عورت کا خود کو چھپانا اتنا ہی اہم ہے جتنا زندہ رہنے کے لئے سانس۔ مگر افسوس آج کا انسان اس واضح غلط فہمی کا شکار ہے کہ پردہ داری ایک غیر ضروری امر ہے دنیاوی مسائل پردہ داری سے کئی زیادہ توجہ کے طلب گار ہیں اور کچھ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ صرف مولویوں تک محدود ہے اور انہی کی دقیانوسی باتیں ہیں۔ یہ باتیں تو ناولز میں ہی اچھی لگتی ہیں مگر میں بتاتی چلوں کہ قرآن پاک میں بیشتر مقامات میں پردے کا بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کسی انسان کی ایجاد نہیں ہے۔ چونکہ معبود برحق کا حکم ہے اس لیے غیر ضروری ہرگز ہرگز نہیں ہے۔ جب کوئی فنکار اپنے فن پارے کو اپنی مرضی کے بغیر ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں دیتا تو وہ رب اپنے تخلیق کیے ہوئے بندوں کے بارے میں کس طرح ایسا رویہ پسند کر سکتا ہے۔ میری بہنو! خوش رہو، ہم اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے بھی زندگی کی رنگینیوں سے لطف اندوز ہو سکتی ہیں۔ معاش، روزگار یا ناگزیر صورت سے گھر سے ضرور نکلیں لیکن مقررہ حدود سے ہرگز باہر نہ نکلیں۔

