عصری تقاضے اور ہمارا نظامِ تعلیم


تعلیم و تربیت سے محروم اور شعور سے عاری معاشروں میں انسانی و حیوانی حقوق کی بے دریغ پامالی روزمرہ کا معمول ہوتی ہے۔ جہاں ذہنوں پر دلوں کا راج ہو وہاں انسانی قدریں تاراج ہوتی ہیں۔ عصبیت، عقلیت پر غالب ہوتی ہے۔ عصبیت، عسکریت پسند ہونے کے ناتے اکثریت کو اپنی گرفت میں رکھتی ہے۔ عقلیت، اقلیت میں ہوتے ہوئے مغلوب، مجبور اور مقہور رہتی ہے۔ ایسے معاشروں میں اصلاح احوال کی کوئی بھی تدبیر، تجویز اور ترہیب ثمر آور تب ہی ہو سکتی ہے جب افراد معاشرہ کو دل گرفتگی اور فکر شکستگی کے بھنور سے نکالنے کی کوئی عملی ترکیب کی جائے۔

یقیناً تعلیم ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو دماغوں کو دلوں کی قید سے رہائی دلاتا ہے اور دلوں سے نفرتوں، کدورتوں اور تعصبات کا صفایا کرتے ہوئے تزکیہ قلب کرتا ہے۔ یہی وہ سبیل ہے جس کی گھاٹ کا پانی داخلی کیفیات کو بدلتے ہوئے خارجی اعمال کو تعمیری، صحتمند اور مثبت بنا سکتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا نظامِ تعلیم عصری تقاضوں، قومی ضرورتوں اور انسانی قدروں سے ہم آہنگ ہے؟ اہل علم و دانش کو اس سوال کا جواب تلاشنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ تعلیم کو عام کرنے کے لیے حکومتوں کو اپنی ترجیحات میں تعلیم کو سر فہرست رکھنا ہو گا۔ جہاں قومی آمدن کی ایک حقیر اور توہین آمیز رقم تعلیم اور صحت کے شعبوں کے لیے مختص کی جائے جب کہ ایک خطیر اور قابل رشک حصہ ایسے مصارف کی نذر کیا جائے جن سے قومی فلاح و بہبود کا واسطہ تک نہ ہو وہاں صورت حال گمبھیر اور ڈراؤنی ہو گی۔ جس ملک میں شرح خواندگی بمشکل پچاس سے ساٹھ فیصد ہو وہاں سماجی انتشار، معاشی بدحالی، لاقانونیت، عدم استحکام اور انتہا پسندی عروج پر ہو گی۔

اعتدال، میانہ روی، رواداری، برداشت، عدل و انصاف، قانون کی بالا دستی، مساوات اور ایثار جیسی اعلیٰ انسانی اقدار کے فروغ اور اخوت و بھائی چارے کی فضاء قائم کرنے میں تعلیم کے کردار کو نظر انداز کرنا ہماری زبوں ہالی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ہم کثرت میں وحدت کے متلاشی ہیں لہٰذا جب تک ہم رواداری کو اپنا اوڑھنا بچھونا نہیں بناتے، اس مثالی منزل کا حصول ناممکن ہے۔ ہمارا سماج کثیر القومیتی، کثیر النسلی، کثیر السانی، کثیر المذہبی اور کثیر الثقافتی نوعیت کا حامل ہے۔ اس رنگا رنگی میں قومی یکجہتی اور اتحاد کو فروغ دینے کے لیے معاشی و معاشرتی ناہمواریوں سے نجات، سماجی انصاف، سیاسی و جمہوری استحکام، مذہبی انتہا پسندی و فرقہ واریت سے اجتناب، رواداری، صلح کل اور پر امن بقائے باہمی کے سنہری اصولوں پر عمل درآمد اشد ضروری ہے۔ قومی فلاح و بہبود کے مذکورہ اہداف کا حصول بذریعہ تعلیم ہی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

ہمارے ہاں تعلیم کی دینی و دنیاوی تقسیم بھی توجہ طلب ہے۔ رائج الوقت نظامِ تعلیم مقصدیت سے تعلق خاطر نہیں رکھتا۔ سماجی و سائنسی تعلیم کی ساری مشق حصولِ اسناد کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔ امتحانات کے گھسے پٹے نظام نے طلباء کو رٹے لگانے اور نمبروں کی میراتھن ریس میں بھگا رکھا ہے۔ مروجہ نظام اپنا منتہائے مقصود سوائے روزگار کے اور کوئی تعمیری ہدف نہیں رکھتا۔ یہ نظام عملی زندگی کے تقاضوں، فکری و فنی مہارتوں اور طلباء کی تحقیقی و تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے اور اُنہیں بروئے کار لانے کی صلاحیت سے عملاً محروم ہے۔

مذہبی تعلیم، اُخروی نجات پر مرکوز، دنیا و مافیہا سے اصولاً اور عملاً لاتعلق دکھائی دیتی ہے۔ دُنیا و آخرت کی بھلائی کی قرآنی دعاء ’ربّنا آتنا فی الدنیا حسنۃ۔ الخ‘ اور رسولِ کریم ﷺ کے ارشاد گرامی ’الدنیا مزرعۃ الآخرۃ‘ کی تطبیق دینی تعلیم میں دنیا کو بظاہر خارج کیے ہوئے ہے۔

ناخواندگی کے شکار، واجبی تعلیم سے بہرہ مند اور رسمی تعلیم کے اسناد یافتہ سب ہی کی امامت و خطابت کے فرائض حضرات علمائے کرام ادا کرتے چلے آ رہے ہیں جن کی اکثریت جمعے کے دن اپنے خطبات میں سیاست و معیشت اور مسلکی اختلافی مسائل کو اپنا موضوع بنائے رکھتی ہے اور سامعین کی غیر رسمی تعلیم و تربیت کا ایک موثر و معتبر ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔ ایسے میں فہم و فراست اور گیان دھیان کا عوامی تناظر غور طلب ہے۔

ورقِ سادہ پہ تحریر آسان، نمایاں اور قابلِ قرات ہوتی ہے جب کہ تحریر شدہ اوراق کو دوبارہ قابل تحریر بنانے کے لیے لکھے ہوئے کو مٹانا آسان نہیں ہوتا خصوصاً جب انمٹ روشنائی استعمال ہوئی ہو۔ سیکھے ہوئے سبق کو بھولنا مشکل اور نئے سبق کو سیکھنا قدرے آسان ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں تعلیم و تعلم کسی کڑے امتحان سے کم نہیں۔ ہمارا واسطہ کچھ اسی طرح کی صورتِ حال سے ہے۔

ترقی یافتہ اقوام کی خوشحالی کا راز علم سے وابستگی اور اس کے فروغ میں مضمر ہے۔ تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ہمارے پالیسی سازوں کو از سر نو غور و فکر کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں بڑھ کر ہے۔

اہل مکتب کے سر سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس ذمہ داری کی نوعیت نہایت حساس ہے اور یہ تقاضا کرتی ہے کہ اس کی احسن ادائیگی میں ہی فرد اور معاشرے کی اصلاح ممکن ہے۔ بصورت دیگر ذرا سی لغزش و کوتاہی خوفناک اور بھیانک نتائج پیدا کر سکتی ہے جس کے شواہد اکثر دیکھنے کو ملتے ہیں۔

علم روشنی اور جہالت اندھیرا ہے۔ قوم کو تاریکی میں رکھنا ہے یا اُجالوں سے لو لگانی ہے۔ یہ فیصلہ کسی نے، کبھی تو کرنا ہے وہ اگر اور کوئی نہیں، میں اور آپ تو ہیں! آئیے ایک دوسرے کا اس کار خیر میں ہاتھ بٹائیں۔

Facebook Comments HS