دُمانی کے دامن میں – پانچواں حصہ


اصلی ہیرو ؛

اس تمام ایڈونچر کے اصلی ہیرو ہمارے پورٹر بھائی نعیم اور مہدی تھے۔ جنہوں نے کئی کلو سامان لاد کر نہ صرف ہمیں بحفاظت پہنچایا بلکہ کئی جگہوں پہ ہمارے لیے راستہ بنایا اور انتظار کیا۔

کسی بھی بڑے ٹریک پہ آپ کے پورٹرز آپ کا اصلی اثاثہ ہوتے ہیں۔ یہ خوش اور ٹھیک ہوں گے تو آپ خوش رہیں گے۔ سو ان کا خیال رکھیں، ٹریک کے دوران ہمیشہ ان کے مشوروں پہ عمل کریں اور ان کے ساتھ فضول میں مت الجھیں (اکثر دوست ایسا کرتے ہیں)۔

سلمان نے بھی اس ٹریک پہ گائیڈ ہونے کا بھرپور فرض ادا کیا اور اپنی تیز رفتاری کے باوجود ہمارے ساتھ قدم سے قدم ملا کہ چلتا رہا اور میرے تمام سوالوں کا خندہ پیشانی سے جواب دیا۔

میں نے اسے ٹریک پہ کہا بھی تھا ؛
سلمان یہ مشکلات گزر جائیں گی لیکن خوشگوار یادیں ہمیشہ رہ جائیں گی۔


تغافری سے ہپاکن اور مناپن ؛

تغافری پہنچ کہ ہم نے اپنے جوتے اتارے اور کپڑے بدل کہ چائے پی۔ اس کہ بعد کچن میں آگ کے پاس بیٹھ کہ گرما گرم نوڈلز (جو جلدی بن جانے کی وجہ سے یہاں کی سب سے عام خوراک ہے ) اندر کیے اور ٹریک پہ ہونے والے واقعات پہ تبادلہ خیال کیا۔ دو گھنٹے بعد ہم تینوں ہپاکن کے لیے عازمِ سفر ہوئے۔ نعیم اور کبرو بعد میں روانہ ہوئے۔ ایک تو اتنا لمبا اور مشقت بھرا ٹریک کر کہ واپس پہنچے تھے دوسرا اب ہپاکن تک اترائی تھی سو یہ ٹریک سوا ایک گھنٹے میں مکمل کر کہ عین مغرب کہ وقت ہم ہپاکن اپنے خیمے میں براجمان تھے۔

اللہ کا شکر ادا کر کہ فوراً سلیپنگ بیگ میں گھس گئے۔ تب تک کھانا تیار ہوتا رہا۔

ڈنر کا بلاوا آیا اور ہم کچن ٹینٹ کہ چبوترے پہ جا بیٹھے۔ میرے پسندیدہ گرما گرم دال چاول سامنے تھے اور یقین کریں دال تو بہت لذیذ تھی۔ ساتھ ایک سرپرائز یعنی میٹھا بھی تھا۔ ہم جو صبح سے بسکٹ، پانی اور نوڈؒلز پہ چل رہے تھے، کھانے کے بعد شدید تازہ دم ہو گئے۔ ہپاکن میں یو فون اور زونگ کے تھوڑے بہت سگنل بھی آتے ہیں، سو گھر بھی بات ہو گئی۔

سلمان کو کوئی ایمرجنسی تھی تو وہ ایک مقامی ساتھی کے ساتھ اسی وقت نیچے مناپن نکل گیا۔ ہم نے رات دیر تک گپ شپ کی اور سونے چل دیے۔

اگلی صبح بارش سے آنکھ کھلی اور دل نے سوچا کہ امتحان ابھی بھی باقی ہے۔ گزشتہ بارش نے ہمیں ذہنی اور جسمانی طور پہ تیار کر دیا تھا سو میں، نعیم اور وجیہہ ناشتہ کر کے نو بجے نکل کھڑے ہوئے۔

ہپاکن کی اترائی کے بعد آگے ٹریک کھلا اور صاف تھا۔ کچھ دیر میں بارش بھی رک گئی۔ چلتے چلتے، گپ شپ کرتے، تصاویر بناتے، راستے میں دیگر سیاحوں سے مصافحہ کرتے ہم گیارہ بارہ بجے مناپن پہنچ ہی گئے۔ خوبانی کے درخت دیکھ کہ منہ میں پانی بھر آیا لیکن میں نے خود کو باز رکھا۔ اگرچہ یہاں کے لوگ بہت اچھے اور مہمان نواز تھے لیکن میں نے بغیر اجازت راہ چلتے خوبانی توڑ کہ کھانے سے پرہیز کیا۔

مناپن پہنچ کہ ہم باہر لان میں رکھے تخت پہ ڈھے گئے اور میں نے اپنے ہوٹل مالک سے خوبانی کھانے کی اجازت طلب کی جو ظاہر ہے دے دی گئی۔ تازہ خوبانیاں توڑ کہ دھوئیں اور پہلی ہی خوبانی پہ پورا جسم شکر الحمد لِلہ پڑھنے لگ گیا۔ تین بجے کے قریب مابدولت سو کہ اٹھے اور فریش ہو کہ باہر آیا تو سلمان کو سامنے دیکھ خوشگوار حیرت ہوئی۔ وہ اپنا کام کر کہ واپس پہنچ چکا تھا۔ سلمان کے بڑے بھائی عثمان بھی ساتھ تھے جن کے ساتھ ہم نے دوپہر کا کھانا کھایا اور گپ شپ کی۔ ان دونوں کے جانے پر ہم نے کمرے کا رخ کیا۔

اوشو تھنگ اور تیان شورو ؛

آج کا ڈنر ہمارا اوشو تھنگ میں تھا جو یہاں کا سب سے مشہور اور زبردست ہوٹل ہے۔ اس کی یوں تو کئی خصوصیات ہیں جن میں سرفہرست اس کے منگولیائی خیمے، جناب مستنصر حسین تارڑ اور کئی غیر ملکی سیاحوں کی اس جگہ سے وابستگی ہے۔ یہاں تارڑ صاحب کے نام سے ایک بلاک ہے جہاں کمروں کے نام ان کی کتب پہ رکھے گئے ہیں۔

یہ ہوٹل کئی دنوں سے پیک تھا جہاں یورپی سیاح بھی نظر آ رہے تھے۔ اس کے مرکزی ہال میں تارڑ صاحب کی مختلف تصاویر، علاقائی ہتھیار اور نوادرات سیاحوں کی توجہ کھینچ رہے تھے۔ ایک جانب گوشۂ کتب تھا جہاں مجھے کئی جاننے والے مصنفین کی کتابیں بھی نظر آئیں۔

اسرار بھائی سے مل کہ اپنا تعارف کروایا اور لان کی ہلکی روشنی میں فوارے کے پاس ایک میز پہ ہم بیٹھ گئے۔ عثمان آیا تو ان سے پتہ چلا سلمان کسی ضروری کام سے اسلام آباد کے لیے نکل چکا ہے سو وہ ہمیں جوائن نہیں کر سکے گا۔

ڈنر میں ہم نے ”غوڑکن“ کا آرڈر دیا جس کی سلمان نے بہت تعریف کی تھی۔ غوڑکن، ایک قدیم پتھر کے برتن میں پکایا جانے والا بکرے کا سالن ہے جسے یہاں کے روایتی پکوانوں میں عظیم مقام حاصل ہے۔ نگر کے باسی کئی صدیوں سے ایک خاص قسم کے پتھر سے بنے برتنوں میں کھانا پکاتے آ رہے ہیں اور اسی روایت کو اسرار بھائی نے اوشو تھنگ میں زندہ رکھا تھا۔ گرم گرم شوربے سے آنے والی آواز ”غڑ غڑ غڑ“ کی وجہ سے اسے یہ نام دیا گیا ہے۔

میں نے نوٹ کیا کہ اوشو تھنگ کے عملے کو فنِ طباخی کی خاص تربیت دی گئی ہے، جو اکثر بڑے ہوٹلوں میں بھی مفقود نظر آتی ہے۔ ہوٹلنگ ایک بہت بڑی انڈسٹری ہے جس کا سیاحت سے گہرا تعلق ہے۔ اس قسم کی تربیت مہمانوں پہ بہت اچھا اثر ڈالتی ہے۔ کھانے سے پہلے یہاں کے ویٹر نے نہایت سلیقہ مندی سے ہم سب کے آگے سفید ٹیبل میٹ بچھایا اور ان پہ برتن رکھ دیے۔ علیحدہ سے ہری مرچیں اور سرکہ بھی میز پہ سجایا گیا۔

کھانا لگنے کے بعد اسرار بھائی بھی ہمارے ساتھ بیٹھ گئے اور گپ شپ کرنے لگے۔ اس دوران میں نے ان کو اپنی دونوں کتب ”شاہنامہ“ اور ”حیرت سرائے پاکستان“ دکھائیں جن میں گلگت بلتستان کی موسیقی، کھانوں، قلعوں اور عجائب گھروں سے متعلق مضامین کو انہوں نے تنقیدی نگاہ سے پرکھا اور میرا حوصلہ بڑھایا۔

”یہ کتابیں کل آپ مجھے سائن کر کہ دینا“
وہ بولے اور میں نے میں ہاں سر ہلا دیا

یوں تو غوڑکن منفرد سا تھا لیکن میں نے یہاں آلو کو بہت مس کیا۔ آپ جانتے ہیں نہ آلو کھانے کے بعد بندہ آلو سا لگنے لگتا ہے۔ عشائیے کے بعد ہمیں یہاں کی قہوہ ما راز ٹی اعزازی طور پہ پیش کی گئی جس کے بعد ہم نے واپس ہوٹل کی راہ لی۔ اوشو تھنگ جانے سے پہلے میں یہاں کی تمام نوادرات کی دکانیں چھان چکا تھا اور اس وقت اشکین، خشک خوبانی، اخروٹ کا تیل، نگر کا قہوہ، لکڑی کے چمچ اور چھوٹی کے لیے ایک خوبصورت دستکاری والا سوٹ میرے بیگ میں تھا۔

کل کا دن میری روانگی (اور امتحان) کا دن تھا اور وجیہہ نے آگے ہنزہ چلے جانا تھا۔

Facebook Comments HS