ہماری نئی نسل اور تعلیمی نظام


کسی بھی قوم کی ترقی میں نئی نسل مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔ وہ قوم کے روشن مستقبل کے ضامن ہیں۔ اگر کسی قوم کی نئی نسل تعلیم یافتہ، ذمہ دار اور فرض شناس ہیں تو یہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اس قوم کا مستقبل محفوظ ہے۔ اور اگر اس کے بر عکس کسی ملک و قوم کی نئی نسل غیر ذمہ دار ہیں تو اس کا مستقبل تاریک ہے۔ پاکستان کو عظیم بنانے کے لئے ہمیں اپنی ترجیحات کو بدلنا ہو گا۔ ملک کی ترقی کے لئے قوم کی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہم اداروں کے استحکام کی بات کرتے ہیں لیکن اداروں کو مستحکم کرنے کے لیے آنے والی نسل کی سوچ میں بیداری لانا ضروری ہے جو کہ اداروں کے معمار ہیں۔ انسانی شعور میں بدلاؤ کے لئے علم و ادب اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

قرآن پاک مسلم دنیا کی مقدس اور مکمل کتاب ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ تمام مسلمانان دین پر قرآن پاک کی حرمت لازمی ہیں۔ ہمارے نظام میں مساجد اور مدرسے موجود جہاں دینی تعلیم بہترین طرح سے دی جاتی ہیں اور والدین بالکل آزاد ہیں کہ اپنے بچوں کو دینی تعلیم سے مستفید کریں۔ آج ایک نوٹیفیکیشن نظر سے گزرا۔ جس میں ناظرہ قرآن پاک کو تمام اسکولز میں لازمی قرار دیا گیا ہیں۔ اس مراسلہ پر محکمہ تعلیم کے بڑے عہدہ داران کے دستخط ثبت ہیں۔

محکمہ تعلیم نصاب سازی سے منسلک ہونے اور بہ حیثیت ایک ذمہ دار شہری کے یہ پیغام وفاقی اور صوبائی حکومت تک پہنچانے کی کوشش ہو گی کہ اس طرح سے اسکولز میں ناظرہ قرآن پاک لازمی کرنا نامناسب ہو گا۔ اس اقدام سے بے تحاشا مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ جس کا ہما ری سماجی ’معاشی‘ معاشرتی اور ہماری نسل کی تعلیمی زندگی پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔

خاتم الانبیا حضرت محمد ﷺ نے ہمیں تقسیم نہ کیا۔ لیکن ہم مسلکی مسلمان بن گئے۔ اس طرح قرآن پاک کی توہین کا ذمہ دار کون ہو گا۔ جب اسکولز کے اندر مختلف مسلک کے مسلم اساتذہ قرآن پاک کا ترجمہ الگ الگ طرح سے پیش کرنے لگیں گے۔ کیا وہ علماء اصول تفسیر کا علم رکھتے ہیں؟ عین ممکن ہے کہ مترجم محکمات کے بجائے متشابہات میں بات کریں۔ یعنی اصل کے بجائے الگ معانی پیش کریں۔

ناظرہ قرآن کو تدریسی مواد میں شامل کرنے کا مطلب ایسی منصوبہ سازی ہے کہ آئے دن قرآن کی توہین کے الزامات اٹھیں۔ اور یہ مقدس آسمانی کتاب عام ہاتھوں میں آ جائے گی۔ لوگ دوسری کتابوں کی طرح ہر جگہ رکھنے لگیں گے۔ قرآن کا احترام مجروح ہونے کا خدشہ ہے۔ ہمارے اسکولز میں بنیادی ضروریات اور خاص طور پر پانی مہیا نہیں ہے۔ قرآن میں واضح فرمایا گیا ہے کہ ”قرآن کو ہاتھ نہ لگائے مگر پاک صاف ہو کر“ یعنی وضو کر کے احترام کے ساتھ قرآن اٹھا یا جائے۔ آیا یہ تمام چیزیں جو زمینی حقائق ہیں اس صورت حال میں ناظرہ قرآن لازمی کرنا بہتر اقدام ہو سکتا ہے؟

اسکولز کے اندر کیا حکمت عملی اختیار کی جائے گی؟ جماعت ششم تک پانچ پارے پڑھائے جائیں گے تو تدریسی وقت کی تقسیم کیسے ممکن ہو گی۔ اور امتحانات میں غیر مسلم طالب علم کو 50 نمبر کم دینا ناانصافی نہ ہو گی؟ ان تمام امکانات کی نفی کرنی چاہیے نہ کہ مواقع فراہم کیا جائے۔ ہمارے ملک میں مذہبی اقلیتیں بھی وجود رکھتی ہے۔ ہمارے وطن کے ان شہریوں کے مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اس طرح کے فیصلوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے جس میں نفرت عدم برداشت کے رویہ جنم لے۔ ایسا مواد تعلیمی پالیسی میں شامل نہیں کرنی چاہیے جو مختلف مسا لک کو ہم آہنگ نہ کر سکے۔ ان تمام صورتحال کو بہت سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

ایک مثالی پیغام ہے۔ ”انسانیت کے درجات کو سمجھو تم جس چیز سے بھی فیضیاب ہو (یعنی علم، مال و دولت، اخلاقی قدروں )، اسے دوسروں میں تقسیم کرتے جاؤ، تاکہ اپنی آنے والے نسلوں کو روشن، تابناک اور خوبصورت مستقبل کی نوید دے سکو۔

Facebook Comments HS