ہائے وعدوں کے ستم


ناشتے کی میز پر بابا جان بیٹھے انتظار کر رہے تھے سب جمع ہوئے اور بابا جی کہنے لگے کہ آج شہر میں جلسہ ہے الیکشن کا وقت قریب ہے میں نے کہا بابا وہ مشہور مقولہ ہے جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں اور جو برستے ہیں وہ گرجتے نہیں ہمارے سیاست دان بھی تو ایسے ہی کرتے ہیں جب الیکشن کا وقت قریب ہوتا ہے تب وہ سارے وعدے کرتے ہیں سڑکوں کا گیس کا ہسپتال کا سکول کا وغیرہ وغیرہ لیکن جب وعدے پورے کرنے کا وقت آتا ہے الیکشن کے بعد تو سیاست دان کہاں گم ہو جاتے ہیں کس وادی میں چلے جاتے ہیں کوئی نہیں جانتا عوام کو یہ صرف ووٹ مانگنے کے وقت نظر آتے ہیں اس کے علاوہ عوام کو یہ کبھی نظر نہیں آتے الیکشن کے بعد عوام ان کو صرف اسمبلی کے ایوانوں میں دیکھتے ہیں۔

واصف علی واصف لکھتے ہیں کہ ایک سیاستدان سے کسی نے پوچھا آپ نے اتنے وعدے کیے پورا کوئی نہیں کیا اس نے کہا وعدے پورے کرنے کا وعدہ تو کیا ہی نہیں ایک نئی تحقیق میں یہ سامنے آیا ہے کہ وہ سیاست دان جو زیادہ جھوٹ بولتے ہیں ان کے لیے کسی قسم کا عہدہ حاصل کرنے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔ جہاں عوام گمبھیر مسائل کا شکار ہوتے ہیں سیاستدان نسل در نسل عوام سے مختلف وعدے تو کرتے رہتے ہیں اکثر دیکھتے ہیں کہ ہم دور دراز قصبے میں آباد لوگوں کو ایک پل کی ضرورت ہوتی ہے تو وہاں کی تیسری نسل اس پل کی تعمیر کا انتظار کر رہی ہوتی ہے یا اس پل کے لیے سیاستدانوں کی تیسری نسل کے وعدے سن رہی ہوتی ہے ایک ٹیوب ویل ایک پانی کا کنواں چند کلو میٹر سڑک ڈسپنسری یا دیہی شفا خانے کا قیام جیسے چھوٹے چھوٹے منصوبے کے قیام کے لیے ستر ستر سے انتظار ہو رہا ہوتا ہے کچھ جگہوں پر مقامی لوگ اپنے نوجوان سیاستدان کو بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ اسی جگہ پر کھڑے ہو کر آپ کے دادا جان نے ایک ڈسپنسری کے قیام کا اعلان کیا تھا مگر اتنا وقت گزرنے کے بعد بھی مخالف حکومتوں نے یہ کام نہیں ہونے دیا اب ہمیں قوی یقین ہے کہ آپ کے دور اقتدار میں ہماری یہ دیرینہ خواہش ضرور پوری ہوگی ہائے رے مظلوم عوام وعدوں کے سہارے جیتی ہے وعدوں کا سلسلہ مشرق اور مغرب دونوں میں جاری ہے مغرب میں بڑے وعدوں کا سلسلہ کم ہے کیونکہ وہاں عوام کو بنیادی مسائل کا سامنا نہیں ہوتا مشرق میں وعدوں کی ہی بنیاد پر رعایا کو ووٹ کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS