شہزادی کی کہانی
وہ کہانی سناتے تھے اور میں سنتی تھی۔ ہر کہانی سبق لیے ہوتی، بہادری کا، بلند کرداری کا، ہمت کا، صبر کا، محنت کا۔ کہانی ہمیشہ شہزادی کی ہوتی پر واقعات مختلف ہوتے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ہر شہزادی کا نام ”پھل سنگ ستارہ بیگماں گل درداں بی بی“ ہوتا۔ پوچھا اس کا کیا مطلب ہے کہا یہ اس دور کا سب سے انوکھا اور خوبصورت نام تھا۔ پوچھا تو کیا جن شہزادیوں کی کہانیاں آپ سناتے ہیں ساری ایک ہی دور میں تھیں؟ اس پر کہیں کھو سے جاتے۔
میرے سوال ختم ہونے میں نہ آتے اور وہ جواب دیے جاتے۔ کبھی کبھی تو ان کا فلسفیانہ جواب مجھے چونکا دیتا مجھے حیرت زدہ دیکھ کر ایک مخصوص مدھم سی مسکراہٹ ان کی لبوں کی داہنی جانب آ ٹھہرتی، ذرا سا دہن ٹیڑھا کر کے کہتے۔
تم لوگ سکولوں، کتابوں کے پڑھے ہو ہم ٹھیکریوں کے پڑھے ہیں۔
ان کی کہانی کی ہر شہزادی عیش و آرام میں پیدا ہوتی پر رل رل کر پلتی، طرح طرح کے دکھوں اور دھکوں کا سامنا کرتی آخر لمبی تپسیا کے بعد ہنسی خوشی رہنے لگتی۔ اور میں سوچتی کیا واقعی ایسا ہوتا ہے کہ اک لمبی تپسیا کے بعد سب کچھ ٹھیک ہوجاتا ہے اور سب ہنسی خوشی رہنے لگتے ہیں؟ مجھے اس ہمیشگی پر ہمیشہ سے شک تھا اور ہے۔ مجھے لگتا ہنسی خوشی کا یہ دور صرف ماندگی کا وقفہ ہوتا ہو گا۔ اس کے پیچھے کہیں پھر سے کوئی دکھ کا بادل، مشکل کا پہاڑ چھپا بیٹھا ہوتا ہو گا۔ اظہار کیا تو چڑ کر بولے لڑکی کبھی اچھا گمان بھی رکھ لیا کرو زندگی قدرے آسان ہوجاتی ہے۔
پر میں اتنے سالوں میں میں ان کی کہی باتیں سمجھوں نہ سمجھوں، ان کہی ضرور سمجھنے لگی تھی اس لیے جان گئی کہ وہ کلی متفق ہیں کہ ہنسی خوشی والا انجام ابدی نہیں ہوتا بس اک پڑاؤ ہے۔
کتابوں تک رسائی ملی، فیری ٹیلز پڑھیں تو حیران رہ گئی۔ لمبے عرصے بعد ہونے والی اگلی ملاقات پر میں ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ تھی۔ کہا آپ نے مجھے خوب الو بنائے رکھا۔ الف لیلہ میں سنووائٹ کے ٹکڑے ملا کر سنائے اور ہر کولیس کو الہ دین کے ساتھ گڈمڈ کر دیا۔ سلیپنگ بیوٹی اور سسی کا مربہ بنا کے سنایا۔ ایلس کو ورجینا اور راپنزل کو شہرزاد بنا کر پیش کیا۔
یہ کیا کیا؟
میرے کہے کو پس پشت ڈالے بولے شکر ہے تمہیں ہنستے دیکھا ورنہ دو دن پہلے ہی تو تمہیں خواب میں روتے دیکھا تھا۔ اور ہنستے ہنستے میری آنکھیں پانیوں سے بھر گئیں۔
ایک دن کہنے لگے تم نے میری بیٹی ہونا تھا میرے گھر پیدا ہونا تھا یہ ہی لکھا تھا پر پھر بچے بانٹنے والی خدائی انتظامیہ سے کہیں کچھ غلطی ہو گئی اور تم اپنے باپ کے گھر پیدا ہو گئیں۔ میں نے کہا بچے بانٹنے والی خدائی انتظامیہ سے غلطی نہیں ہوئی بلکہ اپ نے فاش غلطی کی شادی نہ کر کے۔ آپ شادی کر لیتے میں آپ ہی کے گھر پیدا ہوتی۔ ہنس پڑے۔ کہتے کیا کہتی ہو! اب ناں کر لوں؟ میں نے کہا رہنے دیں اب کیا فائدہ اب تو میں سالوں پہلے غلط جگہ پارسل ہو چکی ہوں۔
آج وہ نہیں ہیں پر ان کی قبر بھی مجھے کہانی سنا رہی ہے ایک شہزادے کی کہانی اور اس کہانی کا سبق ہے کہ کبھی کبھی آپ بے لوث ہو کر چاہے جتنی بھی قربانیاں دیں لیں آخر میں خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں۔ اس لیے صلے کی تمنا کم از کم انسانوں سے تو ہر گز نہیں رکھنی چاہیے۔


