برکس کا اجلاس


برکس (BRICS) دنیا کی ابھرتی ھوئ معیشت والے ممالک جو مغربی استعمار کے خلاف پرعزم ایک تنظیم ھے ، جس میں چین سرفہرست ھے ۔ برازیل ، روس ،بھارت ،چین اور ساؤتھ افریقہ شامل ھیں یہ دنیا کی کل معشیت کا ایک چوتھائی حصہ رکھنے والے ممالک کا ایک مختصر سا قافلہ ھے البتہ اس میں شمولیت کے لئے کئ ایک ممالک خواہشمند نظر آتے ھیں ۔ جنوبی افریقہ میں منعقدہ یہ کانفرنس 22 اگست سے شروع ھونے جا رہی ھے یہ پندرواں سربراہی اجلاس ھے جو تین دن جاری رہے گا ۔ اس کا اس مرتبہ موضوع سخن ھی برکس کی معشیت ، استعداد اور افریقہ رکھا گیا ھے ۔ یہ اجلاس جوھانسبرگ میں منعقد ھورہا ھے اور اس کا افتتاح جنوبی افریقی صدر سائرل رامپھوسا کریں گے ۔ اس میں اہم ترین مہمان چینی صدر چی جنپنگ کریں گے ، نریندرا موذی ، برازیل کے صدر لولا ڈی سیلوا ، اور لگ بھگ پچاس دیگر رھنما شرکت کریں گے ۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹن پہ چونکہ عالمی پابندیاں ھیں اور وارنٹ گرفتاری جاری ھوچکے ھیں لہذا وہ بذاتِ خود تو شرکت صرف آنلائن ھی کریں گے لیکن روسی نمائندگی وزیر خارجہ سرگئی لاروف ھی کرپائیں گے ۔ رواں سال میں اپنا دوسرا غیر ملکی دورہ کرنے والے چینی صدر نے اجلاس سے قبل جنوبی افریقہ کے صدر سے خصوصی ملاقات کی ھے جس میں سائرل رامپھوسا نے امید ظاھر کی ھے کہ ھم مل کر ایک نئی دنیا بسائیں گے جہاں باھمی احترام ھوگا اور ھم ملکر یہ جدوجہد تیز کریں گے ۔ شی جنپنگ نے بھی ایسے ھی اعلیٰ خیالات کا اظہار کیا ۔ اس تنظیم میں شامل ممالک کی آبادی دنیا کی 40 فیصد ھے لیکن معیشت میں اس کا اتنا اھم حصہ شامل نہیں جتنا ھونا چاھیئے تھا ۔ بساط عالم میں اسوقت روس اور چین کے مقابل امریکہ نے سینگ پھنساۓ ھوۓھیں اس عالم میں ان ممالک نے ملکر کوئی ایسا مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ھے جس سے ان ممالک کی معیشت کو صحیح معنوں میں سہارا ملے اور وہ بھی بلا تردد ترقی کی شاھراہ پہ گامزن ھوسکیں ۔
روس بھی اس اجلاس میں نہایت جوش وخروش سے حصہ لے رہا ھے تاکہ عالمی تنہائی کسی قدر کم ھو ۔البتہ روسی وفد کو یہاں بھی سکون کے لمحات کم ھی میسر نظر آتے ھیں کیونکہ یوکرائن کے کچھ لوگوں نے ایک گروپ بنایا ھوا ھے جس کی سربراہی 41 سالہ لیزا کارپنسو کررہی ھیں جہنوں نے سرگئی لاروف کے خلاف پمفلٹ اٹھا کر جوھانسبرگ میں مظاھرہ کیا جس پہ لکھا تھا لاواروف واپس جاؤ اور یوکرائن خالی کرو۔

برکس کا قیام 2009 میں ھوا تھا تو اس میں بس چار بڑے ممالک شامل ھوۓ تھے مگر دھیرے دھیرے جنوبی افریقہ کو بھی ممبرشپ مل گئ اب کم از کم دیگر 40 ممالک اس میں شمولیت کے خواہاں ھیں جن میں سعودی عرب ،ایران ، بنگلہ دیش اور ارجنٹائن وغیرہ شامل ھیں ۔اب اس اجلاس کے اختتامیہ تک امید واثق ھے کہ اس بات کی منظوری دے دی جاۓ گی ۔
ماہرین اس بارے البتہ خاصے محتاط نظر آتے ہیں ۔ چین کا نظریہ ھے کہ اس بلاک کو وسعت دینے کی ضرورت ھے لیکن ھندوستانی رویہ اس کا مخالف ھے اس کے خیال میں اتنے ممالک ھی ٹھیک ھیں ۔ ظاھر ھے بنیا ذھینت کب کہیں وسعت قلبی کا مظاھرہ کرتا ھے ۔ اس تنظیم کی بڑی خوبی بھی تو متفقہ الیہ فیصلہ سازی کی رہی ھے اب دیکھیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ھے ۔

Facebook Comments HS