76 سال بعد
یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران
اے قائداعظم تیرا احسان ہے احسان
یہ خوبصورت پاکستانی ملی نغمہ جو فیاض ہاشمی نے خصوصاً بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح پر لکھا تھا، ہم سب ہی اِس سے واقف ہیں کہ کس طرح ہندو اور انگریزوں کے ظلم و ستم، جابرانہ پالیسیوں اور غلامی کی زنجیروں سے 14 اگست 1947 کو آزاد ہوا۔ آزادی کے متوالوں نے بلند حوصلوں کے ساتھ کیسی کیسی قربانیاں پیش کیں۔
مگر اب جس طرح کی صورتحال میرے وطن اور اس میں رہنے والے محب وطن پاکستانیوں کی ہے، میرے ذہن میں یہی فقرہ بار بار شور مچاتا ہے۔ کیوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران۔ میرا مقصد اس فقرے سے کسی کی دل آزاری کرنا نہیں مگر کیا کریں ملکی حالات نے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آخر ہمیں آزادی کی ضرورت ہی کیا تھی جب 76 سال بعد بھی ہم نے غلاموں کی طرح زندگی گزارنی تھی۔
مجھے آج بھی اپنے بچپن کا زمانہ یاد ہے، جیسے ہی اگست کا مہینہ شروع ہوتا تھا تو عجیب سی خوشی چہرے سے واضح ہوتی تھی، بازاروں میں خریداروں کا رش بڑھ جاتا تھا، گھر کو سجانے کے لیے جھنڈا، جھنڈیاں اور رنگ برنگی لائٹس وغیرہ خریدنے کا سلسلہ 13 اگست کی رات تک جاری رہتا تھا۔ 14 اگست کا بے صبری سے انتظار کیا جاتا تھا، گھر کے کونے کونے کو سجانے کے لیے نت نئے طریقوں کا انتخاب کیا جاتا تھا، بچے، نوجوان، بڑے اور بوڑھے سبز اور سفید رنگ کا لباس زیب تن کرتے تھے، اونچی آواز میں ملی نغمے سنے جاتے تھے، اپنے بڑے بہن بھائیوں کے ساتھ مل کر ان سارے کاموں کو سرانجام دیا جاتا تھا۔ بچپن میں آزادی شاید اسی کو کہتے ہوں گے مگر جب سے ہوش سنبھالا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ آزادی کا معنی ہی کچھ اور ہے۔
آزادی کا مطلب ہر شخص کو کھلی فضا میں سانس لینے کا حق ہے۔ آزادی ایک بیش بہا نعمت، قدرت کا انمول تحفہ اور زندگی جینے کا اصل احساس ہے۔ اِس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ جس طرح معاشرے میں شخصی آزادی نہایت اہم ہے اُس سے کہیں زیادہ اجتماعی آزادی کی اہمیت و ضرورت ہے۔ یا یوں کہئے کہ آزادی ایک عظیم نعمت ہے، اِس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی چیز نہیں اور اِس کی حفاظت ہماری اجتماعی اور قومی ذمہ داری ہے۔
ایک لمحے کو ذرا سوچیں کہ اپنے ہی وطن میں رہتے ہوئے ہمیں آزادی ہے کس چیز کی؟
جہاں اپنے حقوق مانگنے پر جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانا پڑے، جہاں سچ بولنے پر موت کی آغوش میں سو جانا پڑے، جہاں جھوٹے مقدمات میں چادر اور چار دیواری کی تقدس پامال ہو جائے، جہاں انصاف کا ترازو بک جائے، جہاں حقائق لکھنے والوں کا قلم اور ہاتھ توڑ دیے جائیں، آواز اٹھانے پر زبان کاٹ دی جائے، جہاں غریب اور امیر کے لئے الگ قانون بنا دیا جائے، جہاں چور ڈاکوؤں کو اس ملک کا حاکم بنا دیا جائے، جہاں آپ کے محافظ آپ کے قاتل بن جائیں وہاں کون آزاد ہو سکتا ہے؟
اللہ پاک نے پاکستان کو اپنی بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے یہاں، وسیع میدان، پہاڑ، سمندر، صحرا، جنگل ہیں۔ چاروں موسم ہیں، پاکستان کی جغرافیائی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں یہ ایک ایٹمی ملک ہے، اس میں نمک کی دوسری بڑی کان، دنیا کی پانچویں بڑی سونے کی کان، تانبے کی ساتویں، دنیا کا دوسرا بڑا ڈیم، اور پیداوار کے لحاظ سے کپاس، چاول، آم، مٹر خوبانی گنا میں خود کفیل اور دنیا میں دوسرے، تیسرے، چوتھے نمبر پر اور صنعتی لحاظ سے 55 ویں نمبر پر ہے۔ پاکستان میں گیس کے وسیع ذخائر ہیں۔ کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے زرعی، صنعتی، معدنی اور افرادی قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ساری نعمتیں اللہ نے پاکستان کو دی ہیں۔ سوال یہاں یہ بھی ہے کہ ہم جشن کس بات کا منا رہے ہیں، کیا ہم کمر توڑ مہنگائی کا جشن منا رہے ہیں، جس نے غریبوں سے جینے کا حق چھین لیا ہے، ضروریات زندگی نصف آبادی کو میسر نہیں ہیں۔
دوسری طرف ہمارے حکمرانوں کو علم ہی نہیں کہ غربت کیا ہوتی ہے۔ نہ ہی وہ بے روزگاری کے عفریت سے آگاہ ہیں، نہ ہی ان کو آٹا، چینی، گھی، دال، سبزی کی قیمتوں کا علم ہے، اسی لئے اس سال 14 اگست کے موقع پر 40 کروڑ کا جھنڈا لہرا کر غریب عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام بھی بھر پور طریقے سے سر انجام دیا۔ ایسے حالات میں جو عوام بنیادی حقوق کے لئے ترس رہے ہوں ضرورت زندگی مناسب داموں خرید نہ سکیں، ایک باپ غربت کے مارے اپنے خاندان کو ابدی نیند سلانے کے بعد خود بھی موت کو خوشی خوشی گلے لگا لے وہاں آزادی کے گیت گانا ظلم کے سوا کچھ نہیں۔
ملک میں قانون صرف غرباء کے لیے ہے، پیسے والا، اختیار والا قتل بھی کر سکتا ہے اور اسے کوئی خوف نہیں ہے، جبکہ ہمارے ملک کی جیلیں ایسے افراد سے بھری پڑی ہیں جن پر روٹی، سائیکل یا بھینس چوری کرنے کا الزام ہے۔ اس لاقانونیت سے ہمارے اخبار بھرے پڑے ہیں ملک میں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ جس ملک میں عدالتوں میں انصاف نہ ہوتا ہو فیصلوں میں تاخیر اتنی کہ زندگی گزر جائے۔ مقدمات کا فیصلہ نہ ہو۔ ایسے میں تو ریاست اپنا مقصد ہی کھو دیتی ہے، بھلا وہ کس طرح آزادی کا جشن منائے؟
پاکستان کو معرض وجود میں آئے 76 سال ہو چکے ہیں، اتنے سالوں میں میرے ملک کو حکمرانوں نے صرف دیمک بن کر کھایا ہے، مگر عوام کا کسی نے نہیں سوچا۔ کاش کوئی اللہ کا بندہ ایسا ہوتا جو اس ملک کا سوچتا، عوام کا سوچتا، اپنی جیبیں بھرنے کے بجائے عوام کی تکلیفیں دور کی ہوتیں، بیرون ممالک میں اپنی جائیدادیں بنانے کی بجائے عوام کے لئے اسکول، کالج، ہسپتال بنائے ہوتے، لوگوں کے ٹیکس چوری کرنے کے بجائے عوام کا پیسہ عوام کی خدمات میں سرف کیا ہوتا، عدالتی نظام کو مضبوط کیا ہوتا، مہنگائی کا خاتمہ کیا ہوتا، رشوت خوری، چور بازاری اور اقرباء پر وری کا خاتمہ کیا ہوتا، بیرون ممالک کی پیروں میں پڑی غلامی کی ان زنجیروں کو توڑا ہوتا تو پھر مزہ آتا آزادی اور جشن منانے کا۔ پھر فخر محسوس ہوتا اپنے آزاد ہونے پر کہ ہاں ہم نے جس مقصد کی خاطر آزادی حاصل کی تھی وہ پورا ہو گیا، ان تمام برے کاموں سے ہم نے 76 سال میں چھٹکارا حاصل نہیں کیا تو ہمیں آزادی منانے کا بھی کوئی حق نہیں۔ مگر افسوس ہم جہاں تھے آج اس مقام سے بھی کئی گنا زیادہ نیچے گر چکے ہیں۔ جس طرح پہلے جشن آزادی منائی جاتی تھی آج وہ رنگ پھیکے پڑ چکے ہیں۔

