ایک بے ربط کہانی
شہرزاد خاموش ہے۔ اتنی خاموش کہ اس خاموشی سے خوف آنے لگا ہے۔ انگارہ سی آنکھوں میں ناچتی وحشت دِل دہلا دیتی ہے۔ کیا اس کے پاس کہنے کو اب کُچھ بھی نہیں رہا؟ وہ جو دِل کی زرخیز زمین پہ ہل چلا کر انواع و اقسام کی کہانیوں کی فصل ایک رات میں کاشت کر لیا کرتی تھی کیا وہ زمین بنجر ہو چُکی ہے؟ کیا اس کی نہ ختم ہونے والی کہانیوں کے سوتے خُشک ہو گئے ہیں؟ بزرگوں سے روایت ہے کہ جب کہانی گو کو چُپ لگ جائے تو سمجھو کہ کُچھ بُرا ہونے والا ہے۔
میری نگاہیں ان درویشوں کو ڈھونڈتی ہیں جو تاروں بھری رات میں آبادی سے دور صحراؤں کی ریت پہ بیٹھے یا کسی حُجرے ہیں دُنیا و مافیا سے الگ تھلگ دانش کے موتی بکھیرا کرتے تھے؟ کیا ایسی کوئی سر زمیں کبھی اس کرہ ارض پہ موجود تھی جہاں راوی قسمت میں چین ہی چین لکھتا ہو؟ اگر ہے تو اس کا پتہ کس سے پوچھا جائے؟ ایک سنہری خواب کے لالچ نے ایسا اندھیر مچایا ہے کہ اب نہ سوتی آنکھ خواب دیکھتی ہے نہ ہی جاگتی۔ راشد کا اندھا کباڑی یہ کیسا ظلم کر گیا ہے وہ بوجھ ہم پہ لاد گیا ہے جو اُٹھائے نہیں اُٹھ رہا۔ یہ کون سی جگہ ہے جہاں ان گنت سوالات کے خاردار کیکر و ببول تو اُگتے ہیں مگر جوابات کی ٹھنڈی چھاؤں والے گھنیرے پیپل کہیں موجود نہیں؟
یہ سوال میں روز شہرزاد سے پوچھتی ہوں مگر وہ جواب نہیں دیتی۔ نظریں اُٹھتی ضرور ہیں مگر فوراً جُھک جاتی ہیں ایسے کہ جیسے خلا میں کسی نادیدہ مخلوق کو دیکھ لیا ہو یا کسی ایسی عفریت کو جو اس کی نگرانی پہ معمور ہو تاکہ وہ کُچھ کہہ نہ سکے، کُچھ بتا نہ سکے۔ دِل کا بوجھ ہلکا نہ کر سکے۔ میں روز پوچھتی ہوں کہ ایسا کب تک چلے گا؟ تُم کب تک خاموش رہو گی کیا تمہارے نزدیک ہر مسلے کا حل خاموشی ہے۔ کل کا مورخ تمہاری اس خاموشی کو کیا نام دے گا؟
جواباً نظریں نیچی کیے کُچھ بدبداتی ہے۔ جانے کیا کہتی ہے کہ میں سمجھ نہیں پاتی بلکہ اس کے ارد گرد کہانی کی تلاش میں آنے والے معدودِ چند افراد میں سے کوئی بھی سمجھ نہیں پاتا البتہ کبھی کبھار چند بے ربط جملے سُننے کو مل جاتے ہیں۔ ان بے ربط جملوں سے وہاں موجود ہر فرد اپنی اپنی استطاعت کے مطابق معنی کشید کرتا ہے اور مایوسی سے سر ہلاتا روانہ ہو جاتا ہے۔ ایک دن ان ہی بے ربط جملوں میں جو کُچھ اُس نے کہا وہ یوں تھا
مورخ کون سا مورخ؟ ساری تاریخ جھوٹ کا پلندا ہے۔
آنکھوں میں دُھول ہی دُھول ہے
سب کا اپنا اپنا سچ ہے اس آپا دھاپی میں سچ کھو گیا ہے
جاؤ اُسے ڈھونڈو
ایک بہت بڑا سا میدان ہے شاید ہزاروں میل پہ محیط ہے
قبضہ کا میدان ہے اس کا رقبہ پھیلتا جا رہا ہے۔ تماشائیوں کے بیٹھنے کی جگہ سکڑتی جا رہی ہے مگر حکم کی سرتابی کی مجال کس میں ہے بیٹھنا تو پڑے گا
اس میں کمپنی اینڈ کمپنی نے سرکس لگا رکھا ہے
سرکس میں ایک رنگ ماسٹر ہے جس کا نام۔ تُم موگیمبو سمجھ لو۔ اس کے ہاتھ میں چمڑا منڈھی چھڑی ہے
ایسی چھڑی جو کھال کے ساتھ عزت بھی تار تار کر دیتی ہے مگر جنبش نہیں کرنے دیتی
نافرمانی کی سزا موت ہے۔ ہر پاؤں کے نیچے ایسی قبر ہے جس کا کوئی نشان نہیں ہوتا
ایک بچہ جمہورا ہے، نہیں نہیں کئی بچہ جمہورا ہیں
ہر بچہ جمہورا اس کے اشاروں پہ ناچتا ہے، وہ ہمیشہ سے اس کے اشاروں پہ ناچتا آیا ہے
بیٹھ جا کہے تو بیٹھ جائے گا ورنہ کھڑا رہے گا
کبھی مگر مچھ کے آنسو بہائے گا کبھی کانوں کو پھاڑ کھانے والے قہقہے لگائے گا تو کبھی منہ سے کف اڑائے گا
یہ تو لکھا ہوا سکرپٹ ہے
موگیمبو کو خوش رکھنا اس کا مقصد حیات ہے
وہ خوش ہو جائے تو جُھک کر سات فرشی سلام کرتا ہے
اور بھی بہت کُچھ کرتا ہے وہاں جہاں پرندہ پر نہیں مار سکتا
کیوں نہ کرے؟ موگیمبو خوش ہو کر راشن پانی کا بندوبست کرتا ہے اور آنا کانی کرتے ہوئے اُسے جیب بھرنے کا موقع دیتا ہے
مگر کانی آنکھ سے سب دیکھتا رہتا ہے۔ اس کے پاس ایسے آلات ہیں کہ اس کی نظر سے کُچھ بھی چُھپا ہوا نہیں ہے
شروع شروع میں بچہ جمہورا کو ڈھیل دی جاتی ہے کہ جا بچہ کُھل کے کھیل پر جہاں بچہ جمہورا نے غلطی کی، کُھل کر کھیلنے کے چکر میں اپنی مقررہ حدود سے قدم باہر نکالا اور ممنوعہ علاقہ میں داخل ہوا تو خیر نہیں۔
شجر ممنوعہ کا پھل کھانے پہ تو آدم بھی سزاوار ٹھہرے تھے تو بچہ جمہورا کس کھیت کی مولٰی ہے؟
اوقات سے باہر ہونے کی سزا تو ملے گی۔ سزا اور جزا اس کھیل کا لازمی جزو ہے بچہ جمہورا نافرمان ہو جائے تو رنگ ماسٹر نیا بچہ جمہورا لے آتا ہے۔ اس کردار کے بہت سے طلبگار ہیں پر موقع اُسے ہی ملتا ہے جو پیا من بھائے۔
پیا کے من پسند بچے جمہورے دیدہ و دِل فرش راہ کیے اپنی اپنی کمیں گاہوں میں باریابی کی منتظر رہتے ہیں
اسپنوزا کا خُدا اُداس ہے کہ پڑی بڑی حویلیوں اور عبادت گاہوں کے حجروں سے بلند ہونے والی چیخیں اللہ و اکبر کے نعروں میں دب جاتی ہیں
جمہور کس چڑیا کا نام ہے؟ پرندے گھونسلے چھوڑ رہے ہیں۔ خُدا کی بستی سنسان ہے تو آدم بُو کی آوازیں کون لگا رہا ہے؟
موگیمبو سب جانتا ہے کُچھ کہتا نہیں کہ سستے داموں ملنے والے کرائے کے وہ ٹٹّو جو ایک کال پر حاضر جناب کہیں انہیں گنوانا حماقت ہے
ٹکٹ مفت ہے تُم بھی جاؤ
وہاں بہت سے تماشائی ہیں شاید لاکھوں، نہیں نہیں کروڑوں
سروں کو انگنت فکروں کی میلی ٹوپیوں سے ڈھانپے اور ننگے بدن کو بد رنگ چیتھڑوں میں لپیٹے سب کے سب موگیمبو کی چھڑی سے سہمے ہوئے
چیتھڑوں میں جیبیں نہیں ہوتیں اور ننگے جسم پہ چوٹ بہت لگتی ہے
یہ انسان ہیں یا لکڑ بھگے کون جانے
کمپنی اینڈ کمپنی کے اپنے آدمی بھی کہیں درمیان میں موجود ہیں مگر وہ شر پسندوں پہ نگاہ کم رکھتے اور شر زیادہ پھیلاتے ہیں
ان شر پسندوں کی بغلوں میں اپنے اپنے بت ہیں اور یہ ہر کسی کو اُسے پوجنے پہ مجبور کرتے ہیں۔ یہیں سے فساد شروع ہوتا ہے کہ یہاں صرف کمپنی کا حکم چلتا ہے
کبھی ان میں سے کوئی آوازہ لگاتا ہے تو اندھے تماشائیوں میں بھگدڑ مچ جاتی ہے۔ پھر ایک دوسرے کو لوٹتے کھسوٹتے، مغلظات بکتے پاگل ہو کر یہ آگ اور خون کی ہولی کھیلتے ہیں۔ اپنے جیسے بے بس انسانوں کو قتل کرتے ہیں معبدوں کو جلا کر خاکستر کر دیتے ہیں پھر بھڑکتے شعلوں پہ ہاتھ تاپتے کہیں
پھسپھسے کھیل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ سب تو کرنا ہی پڑتا ہے کہ سنسنی نہ ہو تو تماشائی اُکھڑنے لگتے ہیں۔ دِلوں سے ڈر ختم ہونے لگتا ہے
جب ہاہاکار مچتی ہے تو کمپنی اینڈ کمپنی سب کو بول بچن کی لوری سُناتی ہے
پھر ایک سیٹی بجتی ہے اور پھر سے خاموشی چھا جاتی ہے
بچہ جمہورا کا کھیل پھر سے شروع ہو جاتا ہے
اب سب چُپ بیٹھے ہیں میری طرح چُپ چاپ کھیل دیکھ رہے ہیں
دُنیا اور مافیا سے بے خبر وقت کے ٹھکرائے ہوئے، حالات کے ستائے ہوئے، آنے والی کل کی فکروں میں غلطاں و پیچاں ننگے سر، ننگے پیر اور خالی پیٹ لیے۔ جب بھوک بڑھ جاتی ہے تو اپنے ہی بچے بیچ دیتے ہیں یا انہیں مار کر خود بھی مر جاتے ہیں۔ ایک موت ہی تو ان کے بس میں ہے۔
ایک ظالم ہے دوسرا مظلوم۔ جو یہ جانتا ہے وہ چپ ہے کہ آسمان سے لٹکتی رسی لمبی ہوتی جا رہی ہے
اب تو بھی چپ ہو جا مجھے اور کُچھ نہیں کہنا
شہرزاد کی آنکھیں بند ہیں اور ان بند آنکھوں سے ٹپکے چند قطرے پیاسی زمین جذب کر چُکی ہے، میں ان بے ربط جملوں کی بھول بُھلیّوں میں گُم ہوں سمجھ نہیں پا رہی کہ وہ کہنا کیا چاہتی ہے؟ اب میں درویشوں کے حجرے کی جانب جا رہی ہوں شاید وہ ہی کُچھ بتا سکیں۔ پتہ نہیں وہ بھی موجود ہیں یا روپوش ہو چُکے ہیں۔
۔


