مصنّفہ کی کامیابی؟
نعیمہ آج پھر خورشید نقوی کے کمرے میں داخل ہوئی لیکن اس دفعہ وہ گھبرائی ہوئی نہیں تھی۔ خورشید نے سرسری نظروں سے نعیمہ کو دیکھا۔ ’بیٹھیں بیٹھیں، مجھے صرف پانچ منٹ کے لئے اجازت دیں۔ ‘ یہ کہہ کر خوش لباس اور انتہائی نحیف خورشید کمرے سے باہر جانے لگا۔
’رکیے۔ مجھے اپنے سوال کا جواب چاہیے۔ آپ نے فون پہ میرے سوال کا جواب نہیں دیا اس لئے میں خود چلی آئی۔ ‘
خورشید نے اشارے سے بتایا کہ وہ سگریٹ پینے کے لئے باہر جا رہا تھا۔
فیشن ایبل قمیض اور پاجامے میں ملبوس نعیمہ کرسی میں دھنس گئی۔ اس نے چاروں طرف غور سے دیکھا۔ نعیمہ کو ہڈیوں کا ڈھانچہ پبلشر اور اس کا فرنیچر ایک ہی وجود کے حصے لگ رہے تھے۔ آج سے دو ماہ قبل جب وہ یہاں آئی تھی تب بھی اس کمرے کا یہی حال تھا۔ لیکن ایک فرق واضح تھا۔ زلف کی تصویروں کے دو پوسٹر سامنے والی دیوار پہ سجے ہوئے تھے اور نعیمہ کا ناول بھی۔ وہ ان پوسٹروں میں زلف کی خوبصورتی میں گم ہو گئی اور دو ماہ پیچھے چلی گئی جب وہ اپنے ناول کو چھپوانے کے لئے اس پبلشنگ کمپنی کے پاس آئی تھی۔
تب خورشید نے کس طرح اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا تھا۔
’میں نے یہ ناول پڑھ لیا ہے۔ پھر اس نے جیب میں کچھ ٹٹولتے ہوئے کہا تھا۔ ‘ ہم آپ کے ناول کو چھپوا کر ایک لاکھ کاپیاں بیچ سکتے ہیں۔ ’
یہ سن کر نعیمہ کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا تھا۔ ’ایک لاکھ کاپیاں، واقعی! لیکن یہ تو میرا پہلا ناول ہے۔ ‘
’جی ایک لاکھ۔ ہم اس کو سارے ملک میں خود جا جا کر پروموٹ کریں گے۔ بس آپ کو ہمارا ساتھ دینا ہو گا۔ یہ رولر کوسٹر پروموشن ہو گی۔ ‘
’میں اپنے ناول کی کامیابی کے لئے آپ کا مکمل ساتھ دوں گی۔ کیا میرا ناول واقعی اتنا اچھا ہے؟ ‘
اور پھر خورشید نقوی کچھ لمحوں کے لیے خاموش رہا تھا۔
’میں نے آپ سے پوچھا ہے کہ کیا میرا ناول واقعی اتنا اچھا ہے؟ ‘
’کیوں نہیں، مگر ناول سے زیادہ اہمیت ناول کے پروموشن کی ہوتی ہے۔ ‘ خورشید نے آنکھیں سکیڑتے ہوئے کہا تھا۔ ’پروموشن کے لئے آپ کا ایک قلمی نام رکھا جائے گا۔ ‘
نعیمہ جھٹ بول پڑی تھی۔ ’میرے نام میں کیا برائی ہے؟ ‘
’آپ کا نام بہت اچھا ہے۔ لیکن قلمی نام ایسا رکھیں گے جسے لوگ بھول نہ پائیں۔ عشق کے چالیس اصول ناول کے لکھاری کا قلمی نام الف شفق ہے، یہ اس کا اصلی نام نہیں ہے۔ ‘
’میں اپنا قلمی نام سوچ کر آپ کو بتاؤں گی۔ ‘ نعیمہ کا چہرہ خوشی سے کھل رہا تھا۔
’میں نے آپ کے دلکش لمبے بالوں کو دیکھ کر نام سوچ لیا ہے۔ آپ کا قلمی نام زلف ہو گا۔ اور کتاب کی جلد پر بھی ایک طرف پس منظر میں لہراتی ہوئی زلفوں کی تصویر ہو گی۔ ‘
’زلف، زلف، زلف۔ ‘ نعیمہ آہستہ آہستہ نام کو دہرا رہی تھی جیسے وہ گنگنا رہی ہو۔
’اگر آپ کل تک معاہدے پہ دستخط کر دیں تو ایک مہینے کے دوران ہی کتاب کی چھپائی شروع کر دیں گے۔ ‘
پہلے پروموشن کی تاریخ نئی دہلی کے لئے طے کی گئی تھی۔ خورشید نے ایک فیشن ایبل عورت کی مدد سے نعیمہ کو زلف میں تبدیل کر دیا۔ ڈیزائنر کے ملبوسات، ہیر اسٹائل، ناخنوں سے لے کر کانوں تک کی زیبائش، سب کچھ کتنا مختلف تھا، کتنا سندر تھا۔
جب نعیمہ پہلی کتاب کشائی کی تقریب کے لئے تیار ہوئی تھی تو وہ آئینے کے اندر کھڑی زلف پہ حیران ہو رہی تھی۔ اگلے ہی روز اخبارات اور میگزین اس کی تصویریں شائع کر رہے تھے۔ ریڈیو اور ٹیلیویژن والے اس کو انٹرویو کے لئے بلا رہے تھے۔ دو روز بعد لکھنؤ میں کتاب کشائی کی تقریب میں ہزاروں کا مجمع کتاب خرید کر اس کے آٹو گراف کے لئے بے قرار تھا۔ ہر تقریب میں زلف نئے ڈیزائنر لباس اور مختلف میک اپ کے ساتھ جا رہی تھی۔ وہ جس تقریب میں بھی جاتی، لوگ دیوانہ وار اس کا ناول خریدتے تھے۔ بیس دنوں میں پبلشر اور زلف نے دس شہروں میں کتاب کشائی کی تقریب منعقد کی تھی۔ وہ کتنے طوفانی مگر رنگین دن تھے!
اچانک قدموں کی چاپ نے نعیمہ کو جیسے نیند سے چونکا دیا۔
خورشید کو دیکھتے ہی نعیمہ نے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی۔ ’تبصرے پڑھے آپ نے! آپ نے بھی تو ناول کو پڑھا ہو گا لیکن کچھ بھی نہیں بتایا تا کہ میں کہانی کی کمزوریوں کو دور کر لیتی۔ ایسا کیوں کیا آپ نے؟ ‘
’آپ ناراض کیوں ہو رہی ہیں؟ میں تو پبلشر ہوں مجھے تو کتاب کی مارکیٹنگ کرنی ہوتی ہے، اسے مقبول بنانا ہوتا ہے۔ اس کے لئے ناول اور ناول نگار دونوں کو پروموٹ کرنا ہوتا ہے۔ اور وہ ہم نے کر دیا۔ کس طرح لوگوں نے قطاروں میں کتنی کتنی دیر کھڑے ہو کر انتظار کیا کتاب پر آپ کے آٹو گراف کے لئے۔ ‘ پھر خورشید کی آواز بلند ہو گئی۔ ’ہم نے ایک لاکھ کاپیوں کی فروخت کا ٹارگٹ پورا کر دیا۔ ‘
’لیکن کیسے؟ اگر کہانی میں کچھ کجی ہے تو میری سمجھ میں نہیں آیا کہ لوگ کیوں جوق در جوق ناول پہ تبصروں کو نظر انداز کر کے خریدنے کے لئے چلے آ رہے تھے۔ ‘
’آپ کو تو پتا ہو گا کہ لوگوں کی اکثریت بے وقوف ہوتی ہے۔ جس طرف لگاؤ، چل پڑتے ہیں۔ ہم نے بھی یہی کیا۔ لکھاریوں کو پروموٹ کرنا آسان کام نہیں ہوتا، وہ اپنی حالت اتنی خراب رکھتے ہیں دیوانوں کی طرح۔ لیکن آپ ان سے مختلف ہیں۔ ‘
نعیمہ کے ماتھے پہ اضطراب کی جگہ مسکراہٹ نے لے لی۔
خورشید معنی خیز نظروں سے نعیمہ کو دیکھ رہا تھا۔ ’مجھے یقین ہے کہ آپ کو یہ نیا سیلیبریٹی اسٹیٹس پسند ہے۔ اس لئے میں آپ کے ناول کی کامیابی کا راز بتائے دیتا ہوں۔ ‘
پھر خورشید نے غور سے زلف کے پوسٹر کی طرف دیکھا اور پھر نعیمہ کی طرف۔ ’نعیمہ جی، میں آپ کے ناول کو نہیں بلکہ زلف کو بیچ رہا تھا۔
‘


