اسلام سے پہلے اور جڑانوالہ
ڈی لیسی اولیری نے قبل از اسلام کی عرب تاریخ پر ایک کمال کتاب تصنیف کی ہے جس کا ترجمہ ”اسلام سے پہلے“ کے عنوان سے ہوا ہے۔ وہ عرب سرحدی علاقے نجران کی تاریخ کے حوالے سے ظہور اسلام سے کچھ قبل کا ایک واقعہ بیان کرتا ہے کہ نجران میں ایک قوم پرستانہ بغاوت ہوئی۔ حاکم مسیحی تھے جبکہ باغی یہودی مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ بغاوت کو کامیاب کرنے کی غرض سے ذوالنواس جو یہودی تھا اس نے اس میں مسیحی یہودی اختلاف کا بھی بھرپور استعمال کیا، وہ کامیاب ہو گیا، نجران پر قابض ہو گیا اور جب قابض ہو گیا تو اس نے نجران کے مسیحیوں کے سامنے دو راستے رکھ دیے اول یہ کہ وہ مسیحیت کو ترک کر کے یہودی بن جائیں۔ دوئم اس نے گہری کھائی کھدوا کر اس میں آگ روشن کردی اور مسیحیوں کو اس کے گرد بٹھا دیا کہ ورنہ جو مسیحیت ترک نہیں کرے گا اس کو اس آگ میں پھینک دیا جائے گا اور بہت ساروں نے آگ میں جل مرنے کا ہی راستہ اختیار کیا۔
میری یاد داشت میں یہ واقعہ سانحہ جڑانوالہ کے دن دوبارہ تازہ ہو گیا اور مجھ کو یہ بھی علم تھا کہ ان واقعات کے اصل منصوبہ ساز مذہب کے لئے نہیں بلکہ اپنے مقاصد کے لئے مذہب کو استعمال کرتے ہیں۔ پھر اس پر بھی حیرت ہوئی کہ اے سی جڑانوالہ کے دفتر کو ہی کیوں جلا دیا گیا حالاں کہ امن و امان سے تو اس دفتر کا اب کوئی براہ راست تعلق ہی نہیں جو اس پر غصہ نکلتا۔ ذرا سی تحقیق کی تو تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی سامنے آیا اور اس پر مکمل غیر جانبداری سے تفتیش ہونی چاہیے کہ کہیں یہ ہی تو حقیقت نہیں ہے۔
اور دوسرا رخ یہ ہے کہ اس وقت کے اسسٹنٹ کمشنر جڑانوالہ شوکت مسیح، مسیحی ہے۔ انہوں نے گندم کی خریداری اور دیگر معاملات پر بہت سخت پیشہ ورانہ انداز اختیار کیا ہوا تھا جو کہ کسان مافیا کے ایک طاقت ور گروہ کو کسی صورت میں ہضم نہیں ہو رہا تھا اور ان کو منظر سے ہٹانے اور سبق سکھانے کی غرض سے یہ سارا سانحہ وقوع پذیر ہو گیا۔ میں دنیا بھر میں جگ ہنسائی کی بات نہیں کروں گا کیوں کہ اگر دنیا کو علم نہ بھی ہو تو ظلم ظلم ہی رہتا ہے اور اس کی بیخ کنی کی بھی اتنی ہی اہمیت ہوتی ہے۔
اب اس سانحہ کا ایک ایسا پہلو بھی ہے جو اجتماعی قومی نفسیات سے جڑا ہوا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ آخر لمحوں میں اتنی درندگی اتنی لاقانونیت کیوں ننگا ناچ پیش کرنے لگتی ہے۔ یہ سب کیوں وقوع پذیر ہو جاتا ہے؟ اور اس حقیقت کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے کہ یہ صرف پاکستان کے مسلمانوں کی نفسیات کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ بطور پاکستانی قوم ہم سب اسی نوعیت کے رویہ کا جگہ جگہ مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں۔ 2015 میں سانحہ یوحنا آباد ہوا، دہشت گردی کی بد ترین کارروائی کا سامنا مسیحیوں کو کرنا پڑا۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک اور بھی سانحہ ہوا کہ دو مسلمان اس وقت مشتعل ہجوم کے ہتھے چڑھ گئے جو محنت مزدوری کرنے آئے ہوئے تھے ان کو پکڑ کر سڑک پر زندہ نذر آتش کر دیا گیا۔
میرے ایک دوست نے سانحہ جڑانوالہ والے روز مجھ کو فون کیا اور واقعہ پر افسوس کرتے ہوئے کہا کہ اب ڈیجیٹل عہد ہے۔ ان شرپسندوں کی شناخت ہو جائے گی تو ان کو سزا بھی ضرور ہو جائے گی۔ میں نے کہا کہ کچھ عرصے شاید مقدمات کا سامنا ضرور کرے مگر سب چھوٹ جائیں گے۔
اس کی آواز میں حیرت تھی اس کی حیرت کو رفع کرنے کی غرض سے کہا کہ سانحہ یوحنا آباد کی بھی سب تصاویر ویڈیوز تھی، انسانوں کو زندہ آگ کے سپرد کرتے ہوئے چہرے پہچان لئے گئے تھے مگر پھر سب چھوٹ گئے لہذا یہ سب بھی چھوٹ جائیں گے کیوں کہ قانون میں اتنا دم خم ہی نہیں ہے کہ وہ اس نوعیت کے مجرموں کو قرار واقعی سزا دے سکے۔ ان دونوں مثالوں کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب تک ہم اس کو مذہبی تفریق سے دیکھتے رہیں گے اس وقت تک ہم اصل مسئلہ کی جڑ تک نہیں پہنچ سکیں گے۔
آئے روز بالخصوص سندھ میں ہندو خواتین کی جبری تبدیلی مذہب، شادی کے معاملات سامنے آتے ہیں مگر اس کے تدارک کے لئے کچھ ہوا، حقیقت یہ ہے کہ نہیں ہوا۔ مذہب کا بے دریغ استعمال مقاصد کو حاصل کرنے کی غرض سے عام کیا جاتا ہے۔ 1953 میں لاہور میں تحریک چلی تحریک میں مزید جوش ڈالنے کے لئے الزام عائد کر دیا گیا کہ پولیس والوں نے چوک دالگراں میں معاذ اللّہ قرآن مجید کی بے حرمتی کی ہے اور ایک کم عمر بچہ شہید ہو گیا ہے۔ ہجوم میں جوش اور بڑھ گیا حالاں کہ جسٹس منیر کمیشن رپورٹ کے مطابق ان دونوں واقعات میں کوئی صداقت نہیں تھی۔
انتہا پسندی پاکستانی قوم میں ایک اجتماعی رویہ بن گیا ہے اور اس میں مذہب کا تڑکا لگا دیا جائے تو مقاصد اور آسانی سے حاصل ہو جاتے ہیں۔ قانون کے احترام کا ویسے ہی ہمارے یہاں کوئی چلن نہیں ہے اور ہو گا بھی کیسے جب ایک دن کے اجلاس میں درجنوں بل منظور کرا لئے جاتے ہیں تو یہ تصور مضبوط ہوتا ہے کہ قوانین کی تشکیل اور منظوری کے عمل کے دوران جمہوری اخلاقیات کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا ہے۔
جب یہ تصور ہوتا ہے تو قانون کے احترام کے تصور کو کیسے راسخ کیا جا سکتا ہے۔ اگر ہم اس انتہا پسند رویہ کا حقیقی معنوں میں تدارک کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کا باریک بینی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ شرپسند یہ سب کرتے ہوئے ڈرتے کیوں نہیں اور اس میں ہمیں مذہب کی بنیاد پر فرق رکھنے کی بجائے سب کو ایک آنکھ سے دیکھنا ہو گا۔ ایک تو اس کے پیچھے کم و بیش کوئی معاشی و سیاسی مقصد ہی ہوتا ہے اور دوسرا شرپسندوں کو یقین ہوتا ہے کہ ان کو سزا نہیں ہو سکتی ہے اگر ایسا یقین نہ ہوتا تو سوشل میڈیا انتہا پسند تقاریر سے لبالب بھرا ہوا نہ ہوتا۔
اگر سانحہ جڑانوالہ کو ہی ایک ٹیسٹ کیس بنا لیا جائے اور اس شخص سے سزا کا آغاز کر کے جس کسی نے بھی قرآن کی بے حرمتی کی، مذہبی و نجی املاک کو نذر آتش کیا، لوٹ لیا کفر کردار تک پہنچا دیا جائے تو آئندہ ان واقعات کو روکنے میں بہت مدد مل سکتی ہے ورنہ اس وقت تو حقیقت یہ ہے کہ طاقت ور نے کھائی کھود کر آگ جلائی ہوئی ہے اور جو اس سے اختلاف رائے رکھتا ہے اس کو آگ کے سپرد کر رہا ہے سوال یہ ہے کہ کیا ہم ذہنی فکری عملی طور پر اسلام سے قبل کے عہد میں جی رہے ہیں؟ حالاں کہ بہت دفعہ ذوالنواس کو کوئی دوسرا بھی اس کی اپنی جلائی گئی آگ میں دھکا دینے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔

