رانی پور کا درندہ


خدا برباد کرے رانی پور کے نام نہاد پیر کو ، نصیرملت سید نصیر الدین نصیر نےکیا خوب فرمایا تھا کہ پیر کے گھر پیدا ہونے والا ضروری نہیں کہ پیر ہی ہو ۔
گدیوں اور آستانوں میں چھپے ایسے شیطان مردود معاشرے اور درگاہوں پر کالے دھبے ہیں۔ آج فیس بک پر ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی پوسٹ دیکھی جس میں معصوم پری پر رانی پور کے پیر کے گھر ہونے والے مظالم کی پوسٹ مارٹم رپورٹ پڑھی تو دل دہل گیا۔ کچھ دن پہلے بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ مارٹم بارے خبریں چل رہی تھیں لیکن پڑھ کر اگنور کیا کہ اللہ کرے یہ جھوٹ ہو۔ ہر روز سنتے ہیں کہ ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے۔ سندھ پولیس جو کہ پہلے ہی پولیسنگ کے نام پر کالک اور وڈیروں کی باندی ہے اگر رانی پور کے پیر کو اور میرٹ پر تفتیش کے بعد مزید ذمہ داران کو کسی پولیس مقابلے میں پار کردے تو شاید اپنے گناہوں کا ازالہ کر سکے۔ ویسے تو ہم مجموعی طور پر جعلی پولیس مقابلوں اور ماورائے عدالت قتل کے کسی بھی طور حامی نہیں لیکن جب ایسے کالے کرتوت والے لوگ سامنے آتے ہیں تو دل چاہتا ہے کہ ان ناسوروں کو کسی بھی طرح سے ختم کر دینا چاہیے کیونکہ ڈیڑھ صدی پہلے بنائے گئے قوانین پر ابھی تک ملک چل رہا ہے اور چوٹی کے وکلاء موجود ہیں جو ظالم کو آٹے سے بال کی طرح نکلوا لیتے ہیں ، ایسی ہی ہماری عدالتیں اور نظام انصاف ہے۔ مجھے یاد ہے لودہراں میں ایک نامعلوم شخص ہر دوسرے تیسرے دن کسی بچی کو اغوا کرتا اور زیادتی کا شکار کر دیتا تھا۔ پولیس اور کمیونٹی اپنے تئیں کوشاں تھی کہ یہ ظالم پکڑا جائے ۔ اس وقت اسد سرفراز ڈی پی او تھے اور انہوں نے دن رات ایک کر کے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بہاولپور سے ملزم پکڑ لیا۔ دو دن بعد وہ پولیس مقابلے میں مارا گیا تو پورے ضلع نے سکھ کا سانس لیا۔
رانی پور میں عیاش پیر کے کمرے میں معصوم بچی سے زیادتی ہوتی رہی اور گھر کی خواتین بھی مبینہ طور پر اس تمام ظلم سے واقف تھیں اور اس ظلم میں برابر ملوث ہیں۔ ابھی سول جج کی بیوی کے مظالم سے زندگی موت میں مبتلا رضوانہ کا دکھ ختم نہیں ہوا کہ یہ غیرانسانی عمل سامنے آ گیا۔
پاکستان میں نوے فیصد کیس تو رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ چپ رہنے سے ظالم کا حوصلہ بڑھتا ہے اور وہ مزید ظلم ڈھاتا ہے، اسی طرح بچوں کا ڈھیر لگانے والے والدین بھی سزا کے مستحق ہیں جو معصوم بچوں کو چند سو روپے کیلئے کسی کے پاس ملازم بنا دیتے ہیں ، جب پال نہیں سکتے تو پیدا کیوں کرتے ہو؟

Facebook Comments HS