رانی پور کی ننھی پری کی کہانی
رانی پور کی فاطمہ کی نہ عفت محفوظ رہی نہ عصمت بچ سکی نہ عزت رہ گئی اور نہ ان کی روح و جان سلامت رہ گئی۔ وہ زندہ درگور کی گئیں۔ اس کی عمر جو گڑیوں کے کھیلنے کی تھی اس میں وہ ”سید زادے“ کے حرم کی کنیز بنی اور درندوں کے ہوس کا نشانہ بن کے سب کچھ لٹا کے بالآخر تڑپ تڑپ کر اس مردود دنیا فنا سے تو چلی گئیں لیکن اپنے پیچھے ایک بڑی کہانی چھوڑ کے گئیں۔ وہ کہانی جو بڑی عبرت ناک بھی ہے، افسوس ناک بھی ہے اور شرمناک بھی ہے۔ لیکن ذرا ٹھہرئیے یہ ایک فاطمہ کا قصہ نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک طویل ناول کا ایک باب ہی کھول دیا گیا وگرنہ پڑھنے کے لئے تو بہت سارے باب بند پڑے ہیں جو وقتاً فوقتاً کھلتے جائیں گے۔ آگے بڑھنے سے پہلے ”حسن بن صباح کی جنت“ کا مختصر تعارف سینیئر صحافی آغا خالد سے سن لیتے ہیں۔
”عروس البلاد کراچی میں بیٹھ کر ہم تصور بھی نہیں کر سکتے کہ رانی پور یا اندرون سندھ کے سیدوں، پیروں اور وڈیروں کی قوت ظالم و اظلم کس شدت کی ہے علاقہ کی انتظامیہ اور پولیس ان کے سامنے بے بس ہوتی ہے اور ایس ایچ او کو تو وہ ذاتی نوکر سے زیادہ اہمیت ہی نہیں دیتے ایسے میں ایک چھوٹے سے شہر میں ایک غریب خاندان کی کمسن و بے بس بیٹی کا مقدمہ اس جرات سے لڑنا اپنی مثال آپ ہے رانی پور سکھر سے 60 کلو میٹر کے فاصلہ پر کراچی کو ملکی دارالحکومت اسلام آباد سے ملانے والے نیشنل ہائی وے پر واقع ہے جبکہ ماضی میں سندھو کی راج دھانی رہنے والے خیرپور سے صرف 40 کلومیٹر پہلے یہ ایک چھوٹا سا شہر ہے جس کی وجہ شہرت اس کے مشہور پیر اور ان کی درگاہ ہے سندھ کی اولین روحانی درگاہوں میں سے رانی پور کی گدی ہے اور یہاں کے اولین گدی نشیں اب مدفون شخصیت (دستگیر شاہ جیلانی عرف سورج سائیں ) کے جد امجد بغداد کے پیران پیر پیر عبد القادر جیلانی بتائے جاتے ہیں اس طرح ان کا شجرہ نصب حضرت علی کرم اللہ سے جا ملتا ہے اور انہی کی کمائی برصغیر کے دیگر گدی نشینوں کی طرح وہ کھا رہے ہیں“ دستگیر درگاہ ”کی اہمیت کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی سب سے طاقت ور گدی پیر پگارہ اول بھی ان کے خلیفہ تھے 10 سالہ ملازمہ بچی کو وحشیانہ تشدد سے ہلاک کرنے کے ملزم موجودہ پیر کے بھتیجے اور دوسرے بھائی کی بیٹی کے شوہر ہیں ان کے گھر کی سیاسی طاقت کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ قومی اسمبلی کی ایک اور صوبائی کی دو نشستیں ان کے خاندان کی جدی پشتی ملکیت ہیں ملزم اسد علی شاہ ولد خیر علی شاہ موجودہ ایم این اے پیر سید فضل علی شاہ کا بھتیجا ہے صوبائی کابینہ میں وزیر اوقاف پیر سید پیار علی شاہ کا بھی بھتیجا ہے سابقہ وفاقی وزیر پیر سید عبد القادر شاہ جیلانی کا پوتا ہے، شاہ ایران، سکندر مرزا، ایوب خان، جرنل کرنلز کی فوج ظفر موج ان کی مہمان بننے میں فخر محسوس کرتی رہی ہے، دستگیر شاہ کے دادا پیر غلام محی الدین (عرف میراں سائیں ) جنرل ضیاء کے دور میں ان کی مجلس شوری کے ممبر رہے ہیں،
ممتاز بھٹو کی نگران کابینہ میں بھی اسد شاہ کے بھتیجے ابو سائیں وزیر تھے یہ ان کی موروثی وجاہت اور طاقت کی محض ایک جھلک ہے ان کے معتقدین کی بڑی تعداد بلوچستان، سندھ اور پنجاب میں ہے رانی پور میں درگاہ کے عرس جیسے روحانی جشن میں صوبے کا سب سے بڑا میلہ لگتا ہے جس میں لاکھوں لوگ شرکت کرتے ہیں اس میلہ میں دنیا بھر کی خرافات کے ساتھ سرعام جوا، سٹہ، ریچھ اور کتوں کی لڑائی، کبڈی، ملا کھڑا، رنگ رانگ، ہیجڑوں اور رنڈیوں کے مجرے غرض ہر وہ قانون شکنی جن کا عام حالات میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ”
آگے بڑھتے ہوئے دل کو تھام لیجیے اور جگر کو پھاڑ دینے والی ننھی پری کی پوسٹ مارٹم رپورٹ پڑھ لیجیے گا۔
”پیر اسد شاہ کی حویلی میں تشدد اور زیادتی کے بعد جاں بحق ہونے والی فاطمہ کے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق فاطمہ کا جسم گلنے کے مرحلے میں داخل ہو چکا تھا، فاطمہ کا چہرہ ایک طرف سے نیلا اور دوسری جانب سے ہرا ہو چکا تھا جبکہ اس کے جسم پر متعدد تشدد کے نشانات بھی موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فاطمہ کے جسم پر تشدد کے 9 نشانات ہیں، جس میں آنکھ، کمر، پیشانی، پیر، گھٹنے اور ہاتھ پر تشدد ہوا تھا، کچھ اجزا کو مائیکرو بیالوجی کے لئے بھیجا گیا ہے۔ فاطمہ کے ساتھ متعدد وقتوں میں دو طرفہ زیادتی کی جاتی رہی ہے، جس کے زخم بھرنے لگے تھے، موت سے کچھ وقت قبل بھی زیادتی کی گئی تھی، دن رات زیادتی کی وجہ موت کا سبب بھی بنی ہے، نسوانی پوشیدہ حصے پر لال ابھار آ گیا تھا، جہاں کا پانی لے کر مائیکرو بیالوجی کے لئے بھیجا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق میڈیکل بورڈ نے فاطمہ پر جسمانی تشدد کی تصدیق کی ہے اور بچی کے ساتھ جنسی زیادتی بھی ہوئی ہے، تفتیش میں شامل سابق ایس ایچ او رانی پور، ہیڈ محرر، ڈاکٹر اور کمپاؤنڈر کا بھی ریمانڈ پر لینے کا فیصلہ کیا ہے، ملزمان کو حقائق مسخ کرنے، لاش بغیر پوسٹ مارٹم دفنانے پر نامزد کیا جائے گا۔
ڈی آئی جی جاوید جس کا نی کا کہنا ہے کہ حویلی سے تمام بچوں کو فوری ریسکیو کر کے ان کے گھروں کو بھجوانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں جبکہ حویلی کو سیل کر کے، پولیس کیمپ قائم کردی گئی ہے اور تمام مردوں کے ڈی این اے سیمپل بھی لیے جائیں گے۔
سید کامران نقوی نے اس حوالے سے مزید چشم کشا انکشافات کیے ہیں۔ فاطمہ کیس میں گرفتار پیر اسد شاہ کی والدہ سے حویلی میں موجود نوکرانیوں کی تعداد کے بارے میں جب معلوم کیا گیا تو اس نے جواب دیا کہ سینکڑوں ہیں، آج تک کبھی گنی ہی نہیں ہیں۔ سندھ میں اس قسم کی نوکرانیوں کو ”ٻانھی“ کہا جاتا ہے، جن کا باقاعدہ کوئی معاوضہ مقرر نہیں ہوتا۔ بس روٹی کے دو ٹکڑوں پر ان کے والدین اپنی بچیوں کو حویلی چھوڑ جاتے ہیں کہ مرشد کی شفاعت سے جنت کا راستہ آسان ہو جائے گا۔ اب پیر صاحب، ان کی بیگمات اور حویلی میں موجود ملازمان، ان بچیوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں، یہ وہ راز ہیں جو حویلی کی حرم سراؤں تک ہی محدود رہتے ہیں۔ والدین کبھی پلٹ کر ان کی خبر تک نہیں لیتے کہ مرشد ناراض ہوا تو دین اور دنیا دونوں ہی ختم ہو جائیں گے۔ یہ سب کچھ صدیوں سے ایک منظم نظام کے تحت ہوتا آ رہا ہے اور اس میں سرکاری افسران، پولیس، ڈاکٹرز اور دیگر اہلکار اپنا حصہ وصول کر کے سہولت کاری فراہم کرتے ہیں۔
فاطمہ کیس میں بھی یہی ہوا۔ معصوم بچی کا مبینہ ریپ ہوا، ایس ایچ او اور ڈاکٹر کی مدد سے پوسٹ مارٹم کیے بغیر ہی لاش کو دفنا کر معاملہ نمٹا دیا گیا اور بچی کے والدین کو اس کی بیماری کا بتا کر چار پیسے دے کر خاموش کروا دیا گیا۔ یہ سب کچھ ایک بالکل نارمل اور روٹین پریکٹس کے تحت کیا گیا۔ کیونکہ ایسے کتنے ہی کیس ہیں جو آج تک منظر عام پر ہی نہیں آ سکے۔ لیکن فاطمہ کی بات کسی نہ کسی طرح باہر نکل گئی اور سوشل میڈیا پر آ گئی۔ جس کے نتیجے میں ایسا احتجاج ہوا کہ فاطمہ کی قبر کشائی کے احکامات جاری کیے گئے۔ اس واقعے کے بعد لوگوں کو کچھ حوصلہ ملا اور اکا دکا واقعات سامنے آنے لگے ہیں۔ جہالت، پسماندگی، رجعت پسندی اور ذہنی غلامی کا کیا منظر ہے جو دیکھنے کو ملتا ہے۔ آخر گلہ کس سے اور آخر میں تاسف اور پچھتاوا کیوں؟ کیا اس خونی منظر نامے میں لوگوں کا اپنا کوئی دخل بھی نہیں ہے؟
کیا یہ جہالت کی انتہا نہیں ہے۔ بدقماش ہیں، بدکردار ہیں، شرابی ہیں، زانی ہیں، ظالم ہیں اور اسلام کی الف ب کا اسے پتہ ہی نہیں۔ قرآن ہی کیا کلمہ طیبہ تک پڑھنا نہیں آتا اور زندگی میں کبھی نماز پڑھی ہی نہیں روزہ رکھنا تو دور کی بات البتہ اپنے مکروہ چہرے کو ”صاف ستھرا“ دکھلانے کے لیے شاید ارض مقدس ”ٹور“ پہ گیا ہو تاکہ حاجی صاحب کے لاحقے کا اضافہ ہو کر دھندا مزید اوپر جائے۔
لیکن۔
بیچارے ”جاہل لوگ“ اسے عرش تک پہنچانا اور خود زمین کی تہہ تک پہنچنے کو ثواب سمجھ لیتے ہیں۔ ان کے بدبودار ہاتھوں ہی کیا گندے ترین پاؤں تک کے چھونے کو اعزاز سمجھ لیتے ہیں۔ کیوں؟ یہ ”سید“ ہیں، یہ شاہ ہیں، یہ پیر ہیں، یہ مخدوم ہیں، یہ علامہ ہیں
اور اسے کروڑ گناہ معاف ہیں۔ اس لئے وہ ان کے مریدین ہیں۔ ان پہ دولت قربان، عزت قربان، غیرت قربان اور عفت و عصمت قربان۔
پیراں نمی پرند مریداں می پرانند۔
پیر خود نہیں اڑتے، مرید اڑاتے ہیں!
یہ کوئی کہانی نہیں بلکہ حقیقی دنیا کی عکاسی ہے۔
صوبہ سندھ سے ایک صاحب لکھتے ہیں۔ ”مجھے دوسرے صوبوں کے بارے میں نہیں معلوم لیکن سندھ میں پیر اپنے مریدوں سے نوجوان لڑکیوں کو کئی سال تک خدمت کے لیے لے جاتے ہیں، بعض صورتوں میں وہ غلامی میں مر جاتی ہیں یا بوڑھی ہو جاتی ہیں لیکن کوئی ان کے خلاف بات نہیں کرتا، کوئی کارروائی نہیں ہوتی کیونکہ یہ پیر ہیں“
حکومت اور سیاست دان جائیں بھاڑ میں کہ ان الیکٹیبلز کے سہارے تو ان کی بھی دکانیں چلتی ہیں لیکن دینی تحریکات، تنظیمات، ادارے اور علماء کرام کیوں نہ ایسی بڑی تحریک برپا کریں کہ لوگوں کو دین کا صحیح تصور پیش کر کے، تطہیر افکار، تعمیر سیرت اور اصلاح معاشرے کا فریضہ سر انجام دیں۔ حکومت الٰہیہ کے قیام کے لئے بھی ایسا کرنا ناگزیر ہے۔ ہمہ گیر اور ہمہ پہلو جدوجہد وقت کا تقاضا ہے۔
تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ جس حویلی کے اوپر کبھی نر پرندہ بھی پرواز نہیں کر سکتا تھا، آج وہاں پولیس پکٹ قائم کردی گئی ہے۔ حویلی مکمل طور پر ویران ہے، کیونکہ اس کے سارے مکین مرد اپنی عورتوں سمیت فرار ہیں اور رانی پور کی قومی شاہراہ پر احتجاج ہو رہا ہے اور ہزاروں گاڑیوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔
اس دن جناب سراج الحق نے شہید فاطمہ کے لواحقین سے اظہار یک جہتی اور قاتلوں و ظالموں کو مزید بے نقاب کرانے اور دلوں میں موجود غصے اور نفرت کو اس ظالمانہ نظام کے خلاف تحریک اور جدوجہد میں تبدیل کرانے اور حوصلوں کو ممیز دلانے کے لیے وہاں کا دورہ کیا جہاں لوگوں کی ایک کثیر تعداد نے ان کے ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ یہ بیداری اور بغاوت حقیقتاً ہوا کا تازہ جھونکا ہے۔
اب وہاں سے یہ آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔
”طاقت کے ایسے مراکز میں صحافت کرنا لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہے مگر سندھیوں کی نئی نسل جو تعلیم یا کم از کم سیاسی شعور سے لبریز ذہن کی مالک ہے اس جنگل کے قانون یا چند خاندانوں کی صوبے پر اجارہ داری کے خلاف آمادہ بغاوت ہے یہ اس صوبے کے سہانے مستقبل کا خواب دیکھنے والوں کے لئے نعمت جدیدہ سے کم نہیں جبکہ سوشل میڈیا کے بے لگام گھوڑے نے نئی سندھی نسل کے اس جذبہ کو مزید مہمیز لگائی ہے اور گزشتہ چند برسوں میں سندھو کے دور دراز پس ماندہ معاشرہ میں پیش آمدہ قوت محرکہ کے چند دلخراش واقعات پر شدید ردعمل نے نئی راہوں کا تعین کر دیا ہے دروازے کھلے ہیں کھڑکیاں وا ہوئی ہیں روشن دانوں سے تازہ ہوا کے جھونکوں سے رسموں کے اسیر روایات میں جکڑے مایوس معاشرہ میں امید کی روشن کرن پھوٹ پڑی ہے۔
طفیل مزاری لکھتے ہیں۔
”یہ ایسے مناظر ہیں جن کے دیکھنے کے لئے ہماری آنکھیں ترس گئیں اور امیدیں دم توڑ رہی تھیں، لیکن سوشل میڈیا کی بدولت آج ایسا ممکن ہوا ہے۔ شکریہ سوشل میڈیا، جس نے دھرتی کے خداؤں کو آج اس طرح پسپا ہونے پر پر مجبور کیا ہے ورنہ ان تاریک غلام گردشوں میں نجانے کتنی فاطمائیں بے گور و کفن ہی دفنا دی گئی ہوں گی۔ ”


