چندریان-3 چاند پر: انسانیت کی بڑی جست اور ہمارے پیشواؤں کی الجھن

ناکارہ اور غیرپیداواری قوموں کے بڑے وارے نیارے ہوتے ہیں، اپنی قائم کردہ محدود سی دنیا میں مست رہتے ہیں اور اسی کنوئیں میں چکر لگاتے ہوئے خود ساختہ بادشاہ بنے رہتے ہیں۔
ہمارے ساتھ آزاد ہونے والا ہمارا ہمسایہ ملک انڈیا چاند پر پہنچ چکا ہے اور اس نے بڑی کامیابی سے وہاں اپنا ترنگا تک لہرا دیا ہے۔ جبکہ ہمارے روحانی پیشوا اس بات پر دست و گریباں ہیں کہ روحانی کمائی کا سب سے زیادہ حصے دار کون ہے؟ قبر والے کا قلبی و روحانی تعلق سب سے زیادہ بڑے بھائی کے ساتھ ہے یا چھوٹے بھائی کے ساتھ؟
شاہ محمود قریشی جو اقتدار کے مزے بھی خوب لوٹتے ہیں اور روحانی کمائی پر بھی خوب ہاتھ صاف کرتے ہیں، دربار بہاؤ الدین زکریا کے سجادہ نشین ہیں۔ جو آج کل جیل کی چار دیواری میں ہیں، ان کی عدم موجودگی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ان کے فرزند ارجمند زین قریشی نے دربار کو غسل دے دیا۔ جس پر شاہ محمود قریشی کے بھائی مرید حسین نے زین کو آڑے ہاتھوں لیا اور انہیں دجال ڈکلیئر کر ڈالا۔
سارا روحانی کمائی کا چکر ہے اور مریدین کنفیوز ہیں کہ وہ کس طرف جائیں؟ کس کے قدم چومیں، کس کی دست بوسی کریں؟
عوام تو بیچارے مہنگائی کی وجہ سے پہلے ہی بے حال ہو چکے ہیں بلکہ انہیں 1947 سے ہی جان بوجھ کر کنفیوز رکھا گیا ہے کہ ”کہیں وہ باشعور نہ ہو جائیں“۔ قوم کی اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہو سکتی ہے کہ مذہب کے نام پر حاصل کیے گئے ملک میں ہر وقت مذہب ہی خطرے میں پڑا رہتا ہے، جس کے تحفظ کے لیے وہی مولوی یا پیر خود کو ہلکان کیے رکھتے ہیں جن کا راشن پانی تک انہی کے مریدین کے ذریعے سے چلتا ہے جو انہیں نذرانوں اور صدقوں کی بھیک پر پالتے ہیں۔ یہ روحانی و مذہبی طبقہ اپنے اپنے نام لیواؤں کو آخرت کی بھول بھلیوں میں الجھا کر اپنی دنیا کو عیش و عشرت سے مزین کر لیتے ہیں۔ دوسری طرف ترقی یافتہ دنیا کی ترجیحات ملاحظہ فرما لیں۔
فرد کی انفرادیت کو مزید بہتر یا مستحکم کیسے بنایا جائے؟ گلوبل وارمنگ جیسے چیلنج سے کیسے نبرد آزما ہوا جائے؟ روز بروز پیدا ہونے والی بیماریوں سے کیسے نپٹا جائے؟ دنیا بھر سے پولیو جیسے خطرناک مرض کا خاتمہ کیسے کیا جائے؟
بڑھتی ہوئی آبادی کے خوفناک چیلنج سے کیسے نمٹا جائے؟ انسان کے لیے کم پڑتی زمین کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے نئے جہاں کیسے دریافت کیے جائیں؟
ہماری ترجیحات کیا ہیں؟ ایک چھوٹا سا نمونہ پیش کیے دیتے ہیں۔ شنید ہے کہ کسی نے مدنی چینل پر سوال پوچھا کہ ”کیا میاں بیوی آپس میں گندی باتیں کر سکتے ہیں“؟ جواب ملا اگر نیت بری نہ ہو تو کر سکتے ہیں۔
دوسرا سوال پوچھا گیا کہ موٹر سائیکل سوار کے پیچھے بیٹھنے سے اگر شیطانی خیالات آنا شروع ہو جائیں تو کیا کیا جائے؟ جواب دیا گیا کہ درمیان میں تکیہ وغیرہ رکھ لیا جاوے۔
ایک طرف ہماری ترجیحات ہیں اور دوسری طرف ان قوموں کی ترجیحات ہیں جنہوں نے کسی بھی تصوراتی جنت کے پیچھے بھاگنے کی بجائے اسی دنیا میں اپنے اپنے حصے کی جنت تعمیر کر لی ہے، انہوں نے اپنی قوم کا معیار زندگی اس قدر بلند کر دیا ہے کہ ہم ایسوں کو رشک ہونے لگتا ہے اور دھرتی کو اس قدر حسین بنا چکے ہیں کہ ایک خواب سا لگتا ہے اور آنکھوں کو یقین نہیں ہوتا کہ کیا یہ وہی لوگ ہیں جنہیں ہم کفار کہتے ہیں اور جن کے متعلق ہمارا تصور ہے کہ یہ لوگ ہمیشہ کے لیے جہنم کا ایندھن بنے رہیں گے۔
کووڈ 19 جیسی مہلک اور جان لیوا وبا سے پوری دنیا متاثر ہوئی تھی، انسانوں کو فوقیت دینے والے ممالک دوبارہ سے اپنی حسین و جمیل زندگیوں اور رعنائیوں کی طرف کب کے لوٹ چکے۔ مگر ہم آج تک اس وبا کی تباہی کے اثرات بھگت رہے ہیں، معیشت اس قدر بیٹھ چکی ہے کہ لوگ خود کشیوں پر مجبور ہو چکے ہیں۔
ہمیں جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں جبکہ ہمارا ہمسایہ ملک انسانوں کے لیے نئی بستیاں کھوجنے کے سفر پر روانہ ہو چکا ہے۔ دوسری طرف ہم ہیں جنہوں نے مذہب کے نام پر اپنے ہی لوگوں کے بیچ اس قدر نفرت کی دیواریں کھڑی کردی ہیں کہ ہم آج انسان ہی صرف اس شخص کو سمجھتے ہیں جو کٹر اور وہ بھی ہمارے والے برانڈ کا مذہبی ہوتا ہے۔ باقی سب کاٹھ کباڑ اور دوزخ کا ایندھن ہے، احساس برتری کا یہ خمار اب تک نجانے کتنے معصوم انسانوں کی زندگیاں نگل چکا ہے اور کب تک ایسا چلتا رہے گا، کون جانے؟
اب تک جو قومیں بھی ترقی کی معراج پر پہنچی ہیں انہوں نے سیکولر روایات کو اپنایا ہے تب کہیں جا کے انہیں بلندیاں نصیب ہوئی ہیں۔
مذہبی روایات دنیا بھر کے انسانوں کی مختلف ہوتی ہیں اور یہ انتہائی نجی سا دائرہ ہوتا ہے، جس کا تعلق انسان کے اندر سے ہوتا ہے نہ کہ باہر سے۔ من کی شانتی کے لیے کوئی جو بھی اختیار کرنا چاہے اس کا حق ہے ہم کون ہوتے ہیں مداخلت کرنے والے؟

