دنیا میری زندگی کے دن کم کرتی جاتی ہے کیوں

خون پسینہ ایک کیا ہے یہ میری مزدوری ہے
آج میں کافی عرصے کے بعد ایک بار پھر حاضر ہوا ہوں دوستوں کی خدمت میں ایک نئی تحریر کے ساتھ اپنے ان ضعیف العمر پینشنرز، بیواؤں اور یتیم بچوں کے مسائل لے کر جو کہ نہ تو کاروباری ہیں نہ ہی منافع خوری سے ان کا کوئی دور پرے کا تعلق رہا ہے۔ وہ صرف اور صرف ریاست اور عوام کے خدمت گار بن کر اپنی ڈیوٹیاں نہایت ایمانداری، دیانت داری اور ذمہ داری کے ساتھ نبھاتے رہے ہیں۔ اور اپنی خدمات پیش کر کے اپنے کام کی اجرت لیتے رہے ہیں۔ اور اپنی اس اجرت سے آمدنی ٹیکس دیتے رہے ہیں۔ اور یہی وہ ملازمین ہیں جنہوں نے ایک حالیہ سروے کے مطابق تمام کاروباری، اور تمام طبقہ سے 200 فیصد بڑھ کر ٹیکس کی ادائیگی کی ہے۔
انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ کچھ ناعاقبت اندیش لوگ سرکاری ملازمت کو پھولوں کی سیج تصور کرتے ہیں۔ سرکاری ملازمین اور ریٹائرڈ ملازمین کو ریاست پر بوجھ تصور کرتے ہیں ان کو بناتا چاہتا ہوں کہ سرکاری ملازمت پھولوں کی سیج نہیں ہے یہ آرام دہ کرسی اور پینشن کا لالچ نہیں ہے۔ بلکہ ساری زندگی قناعت پسندی اور اپنے کام سے اخلاص سے عہد وفا بھی ہے۔ جسے یہ سرکاری ملازم نبھاتے ہیں اپنے پیاروں سے کوسوں میل دور رہ کر یہ اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
جہاں صاف پینے کا پانی نہ بجلی کی سہولت میسر ہوتی ہے تپتے ہوئے صحراؤں میں سنسان جنگلات میں سنگلاخ پہاڑوں میں سخت ترین گرمی کی شدت ہو یا کہ پھر ٹھٹھراتی ہوئی سردی ہو بارش ہو آندھی ہو یا طوفان ہو تمام تر موسمی شدت کے باوجود یہ اپنی ذمہ داریاں بڑی خندہ پیشانی اور ذمہ داری کے ساتھ نبھاتے ہیں۔ اور حکومت ان کی تنخواہوں اور پینشن میں معمولی اضافہ کر کے احسان جتلا دیتی ہے۔ لیکن کبھی بھی آج تک ایسا نہیں ہوا ہے کہ مہنگائی کی شرع سے اس تناسب سے ان کی تنخواہوں یا پینشن میں اضافہ کیا گیا ہو درجہ چہارم سے لے کر اوپر تک کے گریٹ کا سرکاری ملازم دوران سروس بڑی مشکل سے اپنا گزارا کرتا ہے۔
جہاں وزیر اعظم پاکستان، چیئر مین سینٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی سے لے کر سینیٹرز اور ممبر قومی اسمبلی کے ممبران دو ہائی دیتے ہوئے نظر آئیں کہ دو لاکھ تین لاکھ روپے ماہانہ میں بھی ان کا گزر اوقات گزارا کرنا بہت مشکل ہو چکا ہے۔ تو ذرا تصور تو کیجئے کہ تیس پینتیس ہزار تنخواہ دار ملازم کیسے اپنا اور اپنی فیملی کا گزر اوقات کر پا رہا ہو گا۔ اور یہی وہ سوچنے کا مقام ہے کہ جب امیر ریاست اور ریاست جب کسی ملازم کو اس کے کام کے مطابق اس کی ضروریات کے مطابق اس کی محنت کا معاوضہ ادا نہیں کرتی تو یہی وہ وجہ بنتی ہے کہ ملک میں رشوت خوری اور بد عنوانی کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔
اس سلسلے میں مختلف تنظیموں کی جانب سے ان کے تمام تر جائز حقوق دلوانے کے لئے۔ صدر پاکستان اسلامی جمہوریہ پاکستان، وزیر اعظم اسلامی جمہوری پاکستان۔ وفاقی وزیر پاکستان ریلوے اور محکمہ ریلوے کے تمام افسران بالاء کی توجہ کئی بار اس جانب مبذول کر اچکی ہے۔ مگر نہایت ہی افسوس اور دکھ کی بات ہے کہ یوں بار بار ان مسائل کی طرف توجہ مبذول کرانے کے باوجود کسی نے بھی اس طرف کان نہیں دھرے ہیں۔
تمام تر مندرجہ بالاء حقائق کے پیش نظر بندہ ناچیز ان ضعیف العمر پینشنرز بیواؤں اور یتیم بچوں کے جائز حقوق ان تک پہنچانے کے لئے۔ آپ کی توجہ اس جانب مبذول کراتے ہوئے آپ کی خدمت میں درخواست گزار ہے کہ انسانیت کے ناتے خدارا اس طرف توجہ دیجئے ان کے بارے میں کچھ سوچئے ان کے چولہے بجھ چکے ہیں یہ فاقہ کشی پر مجبور ہوچکے ہیں۔ ان کی زندگیاں بہت اجیرن اور کٹھن ہو چکی ہیں ان کو خود کشی کر نے پر مجبور نا کیا جائے۔
ان کو معاشرے میں عزت اور وقار کے ساتھ جینے کا حق دیا جائے۔ ان کی زندگیاں آسان بنائی جائیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کے سنہرے ماہ و سال اس ادارے کی خدمات کی انجام دہی میں قربان کیے ہیں۔ انہوں نے اس ادارے کے پہیے کو رواں دواں رکھنے کے لئے اپنا خون اور پسینہ بہایا ہے۔ یہ مجبور، لاچار اور بے کش لوگ ہیں ان کی بے کشی، لاچاری اور مجبوری کا مذاق نا اڑایا جائے۔ ان کی دی ہوئی خدمات اور قربانیوں کو یوں فراموش نا کیا جائے۔
ان میں سے اکثریت تعداد میں لوگ درازی عمر اور مختلف بیماریوں کے سبب بہت کمزور، لاغر اور محتاج ہوچکے ہیں یہ تو اب اپنے حقوق کی خاطر احتجاج کرنے کے لیے سڑکوں اور شاہراؤں پر آنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔ انہیں کس بات کی سزا دی جا رہی ہے کہ ان کو ریٹائرڈ ہوئے تین سال کا عرصہ بیت جانے کو ہے مگر ان کے واجبات کی ادائیگیاں نہیں کی جا رہی ہیں۔ دوران سروس وفات پا جانے والے ملازمین کی بیواؤں اور یتیم بچوں کو گروپ انشورنس سے محروم رکھا گیا ہے بیواؤں کو ان کے فنڈ کئی سال سے ادا نہیں کیے گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ خانہ بدوشی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ خدارا ان کے حال پر رحم کیجئے۔ ان کو ان کے حقوق کی ادائیگی کا بندو بست فوری طور پر کیا جائے تاکہ یہ بھی معاشرے میں برابری کی سطح پر اپنی زندگی گزار سکیں۔
آخر میں تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ میری یہ تحریر اگر پسند آئے تو اسے شیئر اور لائک ضرور کیجئے گا اور کمنٹس میں جاکر اپنی قیمتی آراء سے ضرور نوازیے گا۔ تاکہ ان مفلوک الحال لوگوں کی آواز حکام بالاء تک پہنچائی جا سکے۔

