”آئینی“ مداروں سے ”خلائی“ مداروں تک کا سفر
کم و بیش بارہ سو سال غلام و محکوم رہنے والی قوم جب سن 1947 ء میں آزاد ہوئی تو 76 سال بعد تقریباً ساڑھے 8 ارب بھارتی روپے (تقریباً 33 ارب پاکستانی روپے ) خرچ کر کے چاند پر کمند ڈالنے والا امریکہ، چین اور روس کے بعد چوتھا اور چاند کے جنوبی قطب تک رسائی حاصل کرنے والا پہلا ملک بن گیا۔
بھارتی عوام اپنی حکومت و ذمہ داران کی اس کامیابی پر ہر دم و ہر جا ناز و شاداں ہیں، اور یقیناً وہ اس کارنامے پر ہماری بھی مبارکباد کے مستحق ہیں۔
اقوام عالم کی نظریں ”چندرایان۔ 3“ پر جمی ہوئی تھیں، اس لیے نہیں کہ ناکامی کی صورت میں ٹھٹھے بازی کی جائے گی، کھکھلی نکالی جائے گی، جگتیں کسیں جائیں گی۔ بلکہ اس لیے کہ کامیاب ہونے پر چاند کے جنوبی قطب کو مسخر کرنے کا سلسلہ شروع ہو گا، تحقیق و تخلیق کی نئی جہتیں اور معلومات کا خزانہ برآمد ہو گا۔
آئیے اب ”قیامت کی صبح“ تک قائم رہنے والی ”مملکت خداداد“ کی حالت زار کی جانب، بلکہ یوں کہئے کہ آئیے ”لکیر“ کو پیٹتے ہیں۔
پورے خطۂ برصغیر ہند پر کم و بیش 1 ہزار سال حکمران رہنے والی ”اقلیتی قوم“ نے جب سن 1947 ء میں زمین ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر اکتفاء اور سمجھوتا کر لیا تو پھر ایک بڑے منظم مگر غیر محسوس انداز سے پہلے اس قوم کو ہجوم، پھر ریوڑ، پھر گروہ اور اب جتھوں میں تقسیم کر دیا گیا۔
قوم سے ”جتھوں“ تک کے سفر پر آئندہ کسی اور تحریر میں ”لکیر“ کو پیٹا جائے گا، آج صرف پڑوسیوں کے ساتھ ایک تقابلی جائزے تک ہی محدود رہتے ہیں!
وجود میں آتے ہی ہماری اس نومولود ”فرماں روا ریاست“ کے باشندوں کے ساتھ تقدیر نے مذاق شروع کر دیا۔ بدقسمتی سے پہلے ہی سال ”بانی“ اپنے سفر آخرت پر روانہ ہو گئے۔
”طاقت، اقتدار و اختیار“ کے خمار اور نشے میں مبتلاء باقی کی اہل ثروت و با اثر شخصیات کی بیچ اقتدار، اختیار و طاقت کے حصول کی خاطر رسہ کشی شروع ہو گئی۔ اور اس رسہ کشی میں، تادم تحریر، ایک ہی محکمہ ”مسلح افواج“ مکمل کامیاب و کامران رہا۔
اس محکمہ کی جانب سے چار مواقع پر ”براہ راست“ اور کم و بیش آج تک ”پس پردہ“ متعین کردہ ”آئینی مداروں“ کی صریحاً خلاف ورزی کی گئی، ریاستی دستور کو ”محض کاغذ کا ٹکڑا“ گردانتے ہوئے ردی کی ٹوکری کی نذر کیا گیا۔
اپنے آئینی مدار کی حدود و قیود کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے اس محکمہ نے خود کو بلا چوں چرا دستیاب مگر کسی بھی طرح کے احتساب سے بالا دست لامحدود مالی وسائل، بے پناہ انفرادی قوت و طاقت پر لامتناہی دسترس حاصل کی۔
ہر اس ”ذریعہ“ پر گرفت کو قوی اور مضبوط کیا جس کے توسط و وسیلہ سے اس ریاست کے عام باشندوں تک کسی بھی طرح کی معلومات یا اطلاعات پہنچتی تھیں۔
یوں مجموعی رائے عامہ کو، ایک طویل مدت تک شدید جذباتی پیرائے میں اپنے حق میں ہموار و برقرار رکھا۔
درج بالا تمہید بے وجہ نہیں ہے۔ ہماری اس ریاست کے غیر فوجی ملازمین و ذمہ داران کو جب بھی جتنا بھی موقع میسر آیا، اس ”نام نہاد“ جمہوریہ کے لیے قابل ذکر، قابل قدر و دور رس نتائج کے حامل کارنامے سر انجام دیتے رہے۔
60 کی دہائی کے اوائل میں اس مملکت خداداد میں ”خلاء و کرۂ ارض کی فضا سے بالا“ امور پر دسترس و تحقیق کا آغاز کیا گیا، جو بعد میں ”سپارکو“ کی شکل اختیار کر گیا۔
سن 1962 ء میں پہلی بار خلاء میں کامیابی سے راکٹ روانہ کیا گیا اور یہ ملک ایسی منزل طے کرنے والا جنوبی ایشیاء کا پہلا اور اس وقت کا واحد ملک قرار پایا!
سن 2001 ء تک ”سپارکو“ کی کمان اپنے شعبہ میں ماہر و نامور، اعلیٰ غیر ملکی درسگاہوں سے فارغ التحصیل ”پی ایچ ڈی“ سند یافتہ شخصیات (ماسوائے ایک سربراہ) کے ہاتھ میں رہی۔
پھر وہی ہوا جو اس ملک کے تقریباً 80 فی صد اداروں و محکموں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ سپارکو کی کمان بھی ”بارہ“ ”چودہ“ اور ”سولہ“ پاس مقامی طور پر تیار کردہ ”بری فوج“ کے حاضر سروس ”شاہی بابوؤں“ کے ہتھے چڑھ گئی۔
سپارکو کا بھی لگ بھگ وہی پریشان اور مایوس کن حال ہوا جو ان تمام محکموں و اداروں کے ساتھ ہوا اور آج تک ہو رہا ہے جہاں مسلح افواج کے حاضر یا افواج سے سبکدوش ہوئے ”بابو“ تعینات ہیں۔
جبکہ ہمارے پڑوسی ملک میں سن 1975 ء میں اس وقت کی منتخب وزیراعظم کی خواہش، اصرار و حکم کے باوجود مسلح افواج نے خود پر لاگو ”آئینی مدار“ کی حدود و قیود کی سختی سے پابندی کرتے ہوئے کسی بھی طرح کی سیاست میں شمولیت سے انکار کیا۔ پڑوسی ملک میں سبکدوش ہونے والا سپہ سالار اپنے دفتر میں میز کے اس پار سے، ترقی پانے والے نئے والے سپہ سالار کو میز کے اس پار سے چپ چاپ چھڑی پکڑا کر، چند لاکھ کی کمائی بینک میں ڈال کر جب گھر پہنچتا ہے تو معلوم ہوتا ہے اس کے گھر کے ”مرکزی دروازے“ سے گاڑی بھی اندر نہیں داخل ہو سکتی۔
جو قومیں خود پر لاگو ”آئینی مداروں“ کا ہر حال میں احترام ملحوظ رکھتی ہیں وہ تمام تر اخلاقی، معاشی، معاشرتی بدعنوانیوں و بے ضابطگیوں کے باوجود ایک نہ ایک دن یونہی ”خلائی مداروں“ کو بھی ”سر“ کر لیتی ہیں!



تلخ حقائق سے مزین ایک بہترین تحریر