بے جا ٹیکس، مہنگائی کے نقصانات


سنہ 1351 میں غیاث الدین تغلق کے بیٹے جونا خان نے محمد تغلق کے نام سے عنان حکومت سنبھالی۔ محمد تغلق نے ایران فتح کرنے کے ٹھانی اور اتنی بڑی فوج بھرتی کر لی کہ تنخواہیں ادا کرنے کے لیے پیسے کم پڑ گئے۔ باوجود خزانہ خالی ہونے کے اس نے چین کو فتح کرنے کی بھی ٹھانی اور اپنے ایک لاکھ آدمیوں کو ہمالیہ پہاڑوں کی طرف بھیجا تاکہ وہ چین جانے کا راستہ تلاش کریں یہ ایک لاکھ آدمی پہاڑوں، جنگلوں کی ترائی میں مارے گئے۔

خزانہ خالی تھا لہذا بادشاہ نے عوام/ رعایا پر تباہ کن ٹیکس عائد کر دیے۔ لوگ گھروں سے جنگلوں کو بھاگ گئے۔ محمد تغلق نے جنگلوں سے لوگوں کو گرفتار کر کے قتل عام کیا۔ نتیجتاً فصلیں تباہ ہو گئی اور ملک میں خوفناک قحط پھیل گیا۔ ملک کے بیشتر علاقوں میں بغاوتیں شورشیں بپا ہو گئیں۔ بنگال کی بغاوت کامیاب رہی۔ کورو منڈل کے ساحل سے لے کر راس کومورین تک کا مشرقی ہندوستانی ساحل تک کا علاقہ بغاوت کر کے آزاد ہو گیا۔

تلنگانہ اور کرناٹکا کی بغاوتیں بھی کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ افغانوں نے پنجاب کو تاراج کر دیا۔ محمد تغلق نے بغاوتوں کو کچلنے کے لیے گجرات کی طرف رخ موڑا اور پورے صوبے کو روند ڈالا۔

مہنگائی اور بے پناہ ٹیکسوں میں اضافے کے باعث سلطنتوں کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔ پاکستان کے حالات اس وقت آپ کے سامنے ہیں۔ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔ پاکستان میں مہنگائی گزشتہ 50 سال کی نسبت ترین سطح پر پہنچ چکی ہے جبکہ مہنگائی کی شرح میں جون کے بعد جولائی میں 3.5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

غریب آدمی کا کوئی پرسان حال نہیں۔ 2023 میں بجلی کی قیمتوں میں 39.88 فیصد جبکہ گندم کی قیمت میں سالانہ 68.87 فیصد، گندم کے آٹے کی قیمت میں 102.43 فیصد اضافہ ہوا۔ چائے 97.26 فیصد، چاول 68.87 فیصد، آلو 60 سے 65 فیصد، سگریٹ 129 فیصد، چینی 56.45 فیصد، مختلف دالیں 40 سے 45 فیصد، تازہ دودھ 30 فیصد، تازہ سبزیاں 25 فیصد، پھل 24 فیصد کے قریب مہنگے ہوئے۔ کوکنگ آئل 10.2 فیصد اور گوشت کی قیمت میں 18.25 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ادارہ شماریات کے مطابق مرغی کے گوشت میں ایک سال میں 58 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ مختلف ادویات کی قیمتوں میں 200 سے 400 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ ادارہ شماریات کے مطابق سال 2023 میں جون میں مہنگائی کی شرح 29.8 فیصد پر رہی جبکہ اسی سال مئی میں مہنگائی کی شرح 37.97 فیصد تھی۔ سال 2022 میں مہنگائی کی سالانہ شرح 12.15 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ اشرفیہ اور امراء طبقہ کو تو ان ٹیکسوں اور مہنگائی سے کوئی خاص فرق نہیں پڑنا لیکن اوسط آمدنی والے ملازمین، دکاندار اور مزدور طبقہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔

بجلی کے بلوں میں اضافہ پر عوام خودکشیاں کر رہے ہیں۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے ہمارے پاس ابھی تک بجلی میٹر ریڈنگ کا کوئی جامع میکنزم ہی نہیں ہے۔ اگر 30 دنوں میں 190 یونٹ ہو چکے ہیں اور واپڈا کا اہلکار میٹر ریڈنگ دو چار دن لیٹ کرتا ہے تو یہ یونٹ دو سو سے زیادہ ہو جائیں گے اور عوام کو بجلی کا بل ڈبل ادا کرنا پڑے گا۔ 14 اگست کی چھٹی والے دن بعض علاقوں میں یہ واقعہ پیش آیا ہے میٹر ریڈنگ 30 کی بجائے 33 دنوں میں ہوئی ہے۔

واپڈا اہلکار کی نا اہلی کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑا ہے۔ ڈالر اور پیٹرول ہر وقت اڑان بھرنے کو تیار رہتے ہیں۔ ٹیکسوں میں بے پناہ اضافے کی وجہ سے سمال گھریلو انڈسٹری بند ہو چکی ہے۔ کسان کو ریلیف ہم نہیں دے رہے۔ کھادیں اور زرعی ادویات بے تحاشا مہنگی ہو چکی ہیں۔ ملک میں کرپشن سے بڑا مسئلہ چھوٹی اور سمال انڈسٹری کا بند ہونا ہے۔ بنگلہ دیش 70 ارب ڈالر کے ذخائر رکھتا ہے جبکہ پاکستان کے پاس 10 ارب ڈالر سے بھی کم کے ذخائر ہیں وجہ کیا ہے؟

بنگلہ دیش نے اپنی سمال اور گھریلو انڈسٹری کو پروموٹ کیا ہے۔ آسان قرضے اور سستی بجلی فراہم کر کے سمال انڈسٹری کے ذریعے لاکھوں ڈالر سالانہ زر مبادلہ کما رہا ہے۔ ٹیکسوں اور بجلی کی قیمتوں میں بے انتہا اضافے کی وجہ سے ہمارے ہاں چھوٹی تو کیا بڑی انڈسٹریز بھی بند ہو رہی ہیں۔ بلوچستان والے ہم سے بنگال کی طرز کے ناراض ہیں۔ سندھ کے الگ سے تحفظات ہیں۔ اس سے قبل بنگال جیسا کوئی واقعہ/سانحہ رونما ہو حکمران طبقے کو عوام کے لیے کچھ سوچنا اور ریلیف دینا ہو گا۔ خدارا عوام پر اتنا ہی بوجھ ڈالو جتنا وہ برداشت کر سکیں۔

Facebook Comments HS