بٹگرام ریسکیو آپریشن میں فوج کے کردار پر تنقید کیوں؟


22 اگست 2023 کی صبح ہی سوشل میڈیا کے ذریعے پورے پاکستان میں بٹگرام چئیر لفٹ کے فضا میں معلق ہو نے کی خبر پھیلنے سے پورے ملک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی وزیر اعظم سے لے کر عام آدمی کی پریشانی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ریسکیو بارے لمحہ لمحہ کی آگاہی حاصل حاصل کی جا رہی تھی۔ اس وقت چیئر لفٹ میں پھنسے 8 افراد پر جو بیت رہی تھی۔ سو بیت رہی ٹیلی ویژنوں پر بیٹھے ناتجربہ کار اینکر پرسنز اپنے جہالت پر مبنی لائیو کوریج کے ذریعے خوف و ہراس کی کیفیت پیدا کر رہے تھے۔

مقامی لوگ بے بس نظر آ رہے تھے۔ ہر طرف سے فوج کو مدد کے لئے دہائیاں دی رہی تھیں کچھ دیر میں ہی فوج کے ہیلی کاپٹر چیئر لفٹ میں پھنسے افراد کو ریسکیو کرنے کے لئے فضا میں نظر آئے تو فضا میں معلق افراد کی جان میں جان آئی اور ان افراد کو زندہ بچانے کی امید کی کرن نظر آئی لیکن دیکھنے میں آیا کہ وہی فوج جس نے چند گھنٹوں میں رسپانس دیا اور جائے وقوع پر پہنچ گئی لیکن پورا ریسکیو آپریشن پاکستان میں ایک ”زیر عتاب“ سیاسی جماعت کے سوشل میڈیا ورکرز کے نشانہ پر رہا اور اسے فوج کی ناکامی تعبیر کرنے کی کوشش کی کیونکہ وہ اپنے قائد کی جیل یاترا کا ذمہ دار اپنے آپ کو قرار دینے کی بجائے اس ادارے کے سر تھوپ رہے ہیں۔

کبھی ان کے قائد اسی ادارے کے گیت گاتے تھے۔ بھارت کی ”چندریان 3“ چاند پر اترے یا بٹگرام چئیر لفٹ کا مشکل ترین آپریشن ہو انہیں فوج کے خلاف زہر اگلنے کا موقع مل گیا یہ ایک تلخ حقیقت دوپہر بارہ بجے تک کوئی ”لوکل“ مدد کے لئے نظر نہیں آیا اور نہ ہی بچوں کو نکالنے کی از خود کوشش کی گئی سب ہی غیبی مدد کے لئے آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے۔ یہ فوجی ہیلی کاپٹر ہی تھے جن کو دیکھ بچوں نے کہا کہ جب یہ ہیلی کاپٹر نظر آئے تو ہمیں یقین ہو گیا کہ اب ہمارے فوجی بھائی ہمیں بچا لیں گے۔

بارہ بجے کے بعد تین ہیلی کاپٹروں میں اے ایس جی کے وقفے وقفے سے آئے ہیلی کاپٹر سے لٹک ایک کمانڈو نے چیئر لفٹ میں پھنسے افراد کو خوراک پہنچائی سات بجے تک بہترین فضائی آپریشن کیا پھر اندھیرا پھیلنے سے آپریشن روک کر زمینی آپریشن شروع کیا گیا اس دوران ایک بچے کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کر لیا گیا لیکن یہ طریقہ کار اس قدر خطر ناک تھا کہ نہ صرف جانی نقصان ہو سکتا تھا بلکہ ہیلی کاپٹر رسی کے ساتھ ٹکرا کر نہ صرف حادثے کا شکار ہو سکتا تھا بلکہ پوری چیئر لفٹ ہی گر سکتی تھی۔

اس لئے فوج، فضائیہ کے افسروں اور جوانوں نے جلد بازی میں کوئی اقدام اٹھانے کی بجائے انتہائی احتیاط سے کام لیا بالآخر آپریشن کامیابی سے ہمکنار ہوا پھر بشام کے تربیت یافتہ شخص محمد علی سواتی کو فوجی ہیلی کاپٹر میں لایا گیا جس کے آبا و اجداد سالہاسال اس پیشہ سے وابستہ ہیں لیکن ایک زیر عتاب سیاسی جماعت کے سوشل میڈیا ورکرز جو فوج کے خلاف سیاسی گند اچھالنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ خدانخواستہ فوج ریسکیو میں ناکام ہو گئی تو مقامی لوگوں نے ریسکیو آپریشن کو کامیاب بنا یا یہ کسی ایک ادارے یا فرد کو کریڈٹ دینے کا معاملہ نہیں تھا۔ سب اداروں و فلاحی تنظیموں الخدمت اور پرائیویٹ لوگوں نے بچوں کو ریسکیو کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کیا۔

میں نے ایسی پوسٹس دیکھی ہیں جن میں کچھ بے وقوفوں نے اس آپریشن کا تقابل فوج اور ”بلڈی“ سویلینز کے الفاظ کے استعمال سے کیا ہے۔ اس طرح یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ فوج کا ہیلی کاپٹر صرف ایک بچے کو ہی بچا سکا جب کہ سات افراد ”بلڈی سویلینز“ نے بچائے یہ ایک مشترکہ آپریشن تھا جس میں تمام اداروں کے سینئر افسران اور سویلینز نے حصہ لیا حتیٰ امدادی کام الخدمت کے کارکن بھی پہنچ گئے اس کے کارکنوں نے امدادی کاموں میں حصہ لے کر اپنی تنظیم کا نام سر بلند کیا

نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ خوبصورت تقریر کرنے کا ملکہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے اگلے روز ہی اس ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے والے افراد کو تعریفی اسناد دے کر حوصلہ افزائی کی آپریشن کی براہ راست نگرانی جی او سی ایس ایس جی نے کی سپیشل سروسز گروپ کی سٹنگ ٹیم نے 600 فٹ کی بلندی پر کیبل کار میں پھنسے افراد کو بحفاظت ریسکیو کو یقینی بنایا اس آپریشن میں زنگ لائن کے ذریعے پھنسے ہوئے افراد کو ڈولی کے ذریعے نکالنے والے محمد علی سواتی اور الیاس کے نام پکارے گئے گئے تو تقریب کے شرکاء نے بڑی دیر تک تالیاں بجا کر ان کو دادو تحسین دی اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سب نے ان کی جرات و مہارت کا برملا اعتراف کیا ہے۔

نگراں وزیر اعظم نے فرط جذبات میں محمد علی سواتی کا ماتھا۔ چوم لیا نگران وزیراعظم نے کہا کہ اگر خراب موسم کے باعث مجھ جیسا شخص ایسی حالت میں ہوتا تو شاید کوئی غلط قدم اٹھا لیتا، اگر کہیں کوئی کمی آجاتی تو بڑا نقصان ہو سکتا تھا۔ یہ بچے میرے لئے ہیروز ہیں۔ ریسکیو آپریشن کو کامیاب کرنے میں بہترین حکمت عملی اپنائی گئی،

بٹگرام کی تحصیل الائی میں پاشتو کے مقام پر کیبل کار تھی۔ کی دو رسیاں ٹوٹنے سے کیبل فضا میں معلق ہو گئی تھی۔ جہاں ہر گزرنے والا لمحہ کیبل میں پھنسے افراد کو موت کی طرف کھینچ رہا تھا۔ نگران وزیر اعظم نے جب ایک طالبعلم سے ان لمحات کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے کہا ”ہم اپنی زندگیوں سے مایوس ہو چکے تھے لیکن جب فضا میں فوج کا ہیلی کاپٹر نظر آیا تو امید کی کرن نظر آئی اور ہمیں یقین ہو چلا کہ اب ہم بچ جائیں گے۔

افتادہ الائی سے ماضی میں مولانا، عبدالحکیم ہزاروی، محمد ایوب خان الائی، محمد نواز الائی، قاری محمد یوسف اور عالم زیب خان منتخب ہو چکے ہیں۔ ذرائع مواصلات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ پر جانے لئے لوکل میڈ کیبل کاریں ہی استعمال ہوتی ہیں جو بوسیدہ رسیاں استعمال ہونے کی وجہ سے اکثر فضا میں معلق ہو جاتی ہیں چونکہ اس واقعہ کا سوشل میڈیا پر ذکر آنے سے پوری انتظامیہ حرکت میں آ گئی تھی جس کے باعث ریسکیو کو چیلنج کے طور قبول کیا گیا اگر مقامی لوگ اس ڈولی پر نہ جائیں تو انہیں دو گھنٹے پیدل سفر کرنا پڑتا ہے۔ ندی نالے میں طغیانی سے آمد و رفت معطل ہو جاتی ہے۔ لہذا ان کے لئے یہ کیبل کار ہی ٹرانسپورٹ کا کام کرتی ہے۔ ڈولی حادثے میں پھنسے طلبا کا تعلق جانگری سے تھا اور وہ بٹنگی سکول جا رہے تھے۔ اس آپریشن سے ہماری کئی کمزوریوں اور خامیوں کا بھی پتہ چلا ہے۔ ریاستی اداروں کے پاس ریسکیو کے لئے ایکوپمنٹ کی کمی پائی جاتی ہے۔

ظاہر خان خیبر پختونخوا کے صحافی ہیں اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس دستور کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل ہیں۔ ممتاز عالم دین مولانا عبد الحکیم کے صاحبزادے مولانا عبدالمجید ہزاروی نے اس علاقے کے بارے میں بتایا کہ الائی ضلع بٹگرام کی تحصیل ہے جس کی آبادی لاکھوں افراد پر مشتمل ہے۔ یہ دور افتادہ اور پہاڑی علاقہ ہے اگرچہ یہ علاقہ قدرتی حسن سے مالا مال ہے لیکن ذرائع آمدورفت نہ ہونے کے باعث لوگ میلوں پیدل چل کر اپنے گھروں تک پہنچتے ہیں۔

لوگوں کے لئے زندگی گزارنا مشکل ہے۔ سڑکیں اور پل نہ ہونے کی بنا پر مقامی باشندوں کو دو پہاڑوں کے درمیان مقامی طور بنائی گئی چیئر لفٹس کے ذریعے خطرناک سفر کے ذریعے منزل مقصود پہنچتے ہیں۔ خوراک اور دیگر اشیائے ضروریہ لے کر جاتے ہیں۔ گھنٹوں کا سفر چند منٹوں میں طے کرنے کے لئے لوگ چئیر لفٹ پر سفر کا رسک لیتے ہیں۔ ایسی کئی چیئر لفٹس مختلف مقامات پر نصب ہیں۔ بارش کے وقت ندی نالوں میں طغیانی سے پہاڑوں کے درمیان دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو جاتا ہے۔ ضلعی انتظامیہ چیئر لفٹ کے مالک کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس کو چیئر لفٹ کی مخدوش حالت کے پیش نظر دو بار نوٹس دیا گیا لیکن اس نے لفٹ کی حالت بہتر نہیں بنائی اب دیکھنا یہ ہے۔ پختونخوا کے پہاڑوں میں کیبل پر سفر کو محفوظ بنانے کے لئے کیا اقدامات اٹھائے جاتے ہیں۔

Facebook Comments HS