نگران حکومت کی بد انتظامی اور بد عنوانی کی کہانیاں


 

جو مکا لڑائی کے بعد یاد آئے اس کو اپنے منہ پر مار لینا چاہیے اسی طرح جو اختلاف یا تنقیدی پہلو کسی کی طاقت کے زوال کے بعد کیا جائے اس میں سب سے قبل اپنی کمزوری ضرور تسلیم کر لینی چاہیے کہ اس کے اقتدار کے دوران ہونٹ سلے رہیں اور اب اس کی کمزوری کے وقت اپنی حق گوئی کی سوئی صلاحیت جاگ گئی ہے۔ ابھی حال ہی کے رخصت شدہ جنرل باجوہ اپنی رخصتی کے بعد شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ مگر اگر ہم ان کے بری فوج کی سربراہی کے ان ایام کا تحقیقی نظر سے مطالعہ کریں کہ جب وہ طاقت کے نصف النہار پر تھے تو ان کے اقدامات کو واضح طور پر کون کون تنقید کا نشانہ بنا رہا تھا تو بہت کم نام سامنے پیش کیے جا سکیں گے۔

کمزوری یا چھڑی دوسرے کو سپرد کر دینے کے بعد کسی کو کٹہرے میں کھڑا کر ڈالنا اپنی کمزوری کا بھی اعلان ہوتا ہے اور بر وقت نصیحت شاید کسی کے کام آ جائے اور ملک کا بھلا ہو جائے۔ یہ تمہید اسٹیبلشمنٹ کے اپنے مفاد میں بھی باندھی ہے کہ اگر جنرل باجوہ کسی کی بات پر کان دھر لیتے اور تصویر کا ہر رخ ان کے سامنے ہوتا کیوں کہ پی ٹی آئی حکومت کے جتنے اقدامات ہوئے ان تمام تر کی ذمہ داری جہاں پر چیئر مین پی ٹی آئی پر عائد ہوتی ہے وہیں پر فیض حمید اور باجوہ کا بھی نام آتا ہے کیوں کہ یہ ان کا انتخاب تھا اور وہ ان سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے ہیں۔

اسی طرح سے آج جو نگران مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو قائم کیا گیا ہے ان میں یہ طے شدہ امر ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی خواہش کا اس میں مرکزی کردار ہے اور اس کے برے بھلے اقدامات اور کارکردگی کا جواب در حقیقت لمحہ موجود کی اسٹیبلشمنٹ کو ہی دینا ہو گا۔ یہ سب تحریر کرنے کی ضرورت اس لئے محسوس کی کہ کچھ یوم قبل ایک سفارت کار سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھ سے استفسار کیا کہ یہ نگران حکومتیں پاکستان میں کیوں قائم کی جاتی ہے جواب دینے سے قبل میں نے الٹا سوال جڑ دیا کہ آپ یہ کیوں پوچھ رہے ہیں کیوں کہ بظاہر اس کے قیام کی کیا وجوہات ہوتی ہے سب کو معلوم ہے۔ اس نے جواب دیا کہ کچھ عرصہ قبل پنجاب کابینہ کے اراکین سے ملاقات ہوئی تو ان میں سے ایک رکن نے فخریہ طور پر فرمایا کہ ہمارے کاروباری گروپ کا نگران حکومت میں حصہ ہوتا ہی ہے اس سے قبل کی نگران حکومت میں میرے بھائی وزیر تھے اور اب میں ہوں جبکہ ہمارے گروپ کے سربراہ مشرف دور میں لاہور کے اعلی ترین عہدہ پر براجمان تھے۔

میں حیران رہ گیا کہ کسی ادارے کے کاروباری مفاد کے واضح طور پر سامنے ہونے کے بعد اس کو وزارت دے دینا کیا ظاہر کرتا ہے اظہر من الشمس ہے۔ یہ حقیقت شاید حقیقی ارباب اختیار کو ناگوار معلوم ہو مگر اس وقت زبان زد عام ہو رہا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب کے سوا ان کی نگران کابینہ کے وزرا اس حد تک بدعنوانیوں میں ملوث ہو چکے ہیں کہ لوگ عثمان بزدار اور پرویز الہی دور کی کرپشن سے موازنہ کر رہے ہیں۔ ہاؤسنگ کے محکمہ میں زبردست شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ بلدیات کا یہ تاثر بہت مضبوط ہو رہا ہے کہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں اور تعیناتیوں میں بھی پیسہ پہیے لگا رہا ہے اور اسی سبب سے لاہور میں غلاظت کے ڈھیر جگہ جگہ پر موجود نظر آتے ہیں۔ ہسپتالوں میں ادویات تک کی قلت اور اس کے حوالے سے ایک سو ایک کہانیاں گردش کر رہی ہیں۔ اس طرح کا تاثر قائم ہونا آج کے وزرا کے لئے تو ابھی سے لمحہ فکریہ ہے مگر آج بھی اور مستقبل میں بھی آج کی اسٹیبلشمنٹ کو حقیقی معنوں میں اس کا جواب دینا ہو گا آج کتنے افراد کو یاد ہے کہ گزشتہ نگران حکومت میں کون کون وزیر تھا مگر یہ سب کو یاد ہے کہ ان کو وزیر کس نے بنایا تھا۔

اسی طرح مرکزی کابینہ سامنے آئی ہے۔ ان میں سے ایک قابل ذکر تعداد کسی نہ کسی جگہ پر مختلف سرکاری و غیر سرکاری اداروں کی سربراہی کر چکی ہیں۔ کسی ایک کی بھی کوئی غیر معمولی کارکردگی بیان کردے کہ اس وقت انہوں نے کمال کر دیا تھا جواب ندارد ہو گا۔ ہاں ایسے لوگ ضرور ان میں سے مل جائے گے جن کے متعلق ان اداروں میں بد انتظامی یا بد عنوانی کی کوئی کہانی گردش کر رہی ہوگی۔ ان وزارتوں کو بھی وفاقی وزیر رونق بخش رہے ہیں جو کہ طویل مدت کے لئے تو حکمت عملی تیار کرتی ہے مگر نگران مدت میں اس کا ایسا کوئی کام نہیں ہوتا اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔

ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر کابینہ کے اراکین کی یا ان کے پیچھے موجود حقیقی طاقت ور کی صلاحیت کو جانچا جا سکتا ہے۔ ابھی حال ہی میں اسلام آباد میں ایک جلسہ ہوا اس میں ایک خاتون نے تقریر کی اور اس کے بعد ان کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ خاتون وہ ہی ہے جنہوں نے ایک دوسرے ملک میں ہم جنس پرستی کے حق میں قانون بننے پر اس کی حمایت میں سوشل میڈیا کا استعمال کیا تھا کیوں کہ ان کو اچھی طرح سے علم تھا کہ اختلافی بات کر کے ہی لوگوں کی نگاہ میں آ سکتی ہوں۔

سب جانتے ہیں کہ وہ توجہ حاصل کرنے کے لئے یہ سب کرتی ہے اور سختی ہو تو بچنے کے لئے ذہنی دباؤ کا بہانہ ان کا کارآمد نسخہ ہے۔ اب ان کو گرفتار کر لیا گیا ہے تا کہ مزید شہ سرخیوں میں آ سکے، متعدد ایسی تقاریر اور بیانات روز سامنے آتے ہیں بھلا ان کو اہمیت دے کر، گرفتار کر کے کسی کو اہم کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ہاں اگر کسی کے ذہن میں اب ان کو لیڈر بنانا مقصود ہے تو اور بات ہے۔ یہ سب اس لئے بیان کر رہا ہوں کہ وقت اور طاقت نے گزر ہی جانا ہوتا ہے اور تاریخ فیصلوں کو سامنے رکھ کر ہی مقام کا تعین کرتی ہے اور اس اصول کا سامنا آج کی اسٹیبلشمنٹ کو بھی کرنا ہو گا۔

 

Facebook Comments HS