چئیر لفٹ واقعہ: دھول چہرے پر تھی اور ہم آئینہ صاف کرتے رہے

کیبل کار کا لفظ سامنے آتے ہی دنیا بھر میں سیاحوں کے لیے استعمال ہونے والی خوبصورت جدید اور ائر کنڈیشنڈ کیبل کاریں تصور میں آ جاتی ہیں، جن میں سیاحوں کی حفاظت کے لیے ایک سے زائد حفاظتی انتظام ہوتے ہیں تاکہ خرابی کی صورت متبادل خودکار نظام کے ذریعے کسی بھی حادثے سے محفوظ رہا جا سکے۔ یہ کیبل کاریں مضبوط جستی لوہے کے فریم فائبر گلاس سے بنائی جاتی ہیں۔ بجلی سے چلنے والی ان کیبل کاروں میں طاقتور بیٹریاں بھی نصب ہوتی ہیں یہ کیبل کاریں لوہے کے مضبوط رسوں پر دوڑتی ہیں رسہ ایک نہیں ہوتا بلکہ چار ہوتے ہیں۔ کیبل کار کی دیکھ بھال انجینئرز کرتے ہیں لوہے کے رسوں کا روزانہ کی بنیاد پر معائنہ ہوتا ہے پھر اس کے بعد کیبل کار کو چلنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ دنیا بھر میں یہ کیبل کاریں پہاڑوں کے درمیان آبشاروں اور قدرتی جھرنوں کے قریب سے گزرتی ہیں کئی دہائیوں سے کوئی کیبل کار خراب ہونے یا رسہ ٹوٹ کر نیچے گرنے کی خبر نظر سے نہیں گزری۔ بیشتر لوگ بٹگرام کیبل کار حادثہ کے متعلق گھنٹوں اس مغالطے کا شکار رہے کہ شاید یہ کوئی تفریحی نوعیت کی چیئر لفٹ تھی اور یہ بچے اساتذہ کے ساتھ سیر پر گئے ہوئے تھے۔ حالانکہ نام کی یہ کیبل کار چھوٹی وین کا ایک حصہ تھا جیسے کیبل کار کا نام دیا گیا تھا اس کی زنگ آلود خستہ حال چادر میں سوراخ تھے اس کا دروازہ مناسب طریقے سے بند نہ ہو سکتا تھا اس کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹے ہوئے تھے یہ دو پہاڑوں کے دامن میں بسنے والے لوگوں کو ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ تک پہنچاتی تھی۔ گویا یہ کیبل کار سواریوں والا ایک تانگہ تھا جس کا مالک فی سواری کرایہ وصول کرتا تھا۔ روزانہ ڈیڑھ سو بچے اسی ڈولی میں موت کی کھائی عبور کر کے سکول جاتے ہیں کیوں کہ اس علاقے میں کوئی سڑک نہیں اسی لیے کہیں رسیوں سے لٹک کر، کہیں رسیوں سے بنے ہوئے پُل عبور کر کے جانا پڑتا ہے۔
ایسی درجنوں کیبل کاریں صوبہ خیبر کے مختلف علاقوں میں سواریاں ڈھوتی ہیں ان کی حالت اتنی ہی خستہ ہے جتنی اس کیبل کار کی تھی، علاقے میں رہنے والے مرد و زن بالخصوص طلباء روزانہ اس طرح صبح موت کے سفر پر روانہ ہوتے ہیں اور سہ پہر یا شام ڈھلے موت کے منہ سے واپس آتے ہیں تو ان کے والدین، ان کے اہل خانہ خدا کا شکر بجا لاتے ہیں۔ اس دوران کیبل کار میں پھنسے افراد پر کیا بیتی وہ گل فراز نے یوں بیان کی۔ ”ہماری حالت تو ایسی تھی کہ جیسے قبر کے کنارے پر کھڑے ہوں۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ابھی مرے کے مرے۔ موت کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا۔“ بائیس سالہ گل فراز اس کیبل کار میں سوار واحد جوان تھے، باقی سات سکول کے طالبعلم بچے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیبل کار جب فضا میں تیز ہوا کی وجہ سے جھولتی تھی تو ان کی چیخیں نکل جاتی تھیں۔ سہ پہر سے ریسکیو کی کوششیں کی گئیں لیکن مکمل کامیابی نہ ہوئی۔ شام خوف بڑھنے لگا تھا مگر اہلکاروں کی مدد سے مقامی لوگوں نے آپریشن شروع کیا اور پھر ایک ایک کر کے تمام لوگوں کو نکال کر محفوظ مقام پر پہنچا دیا گیا۔
اس آپریشن نے ایک طرف پورے ملک کو ٹی وی سکرینوں سے چپکے رہنے پر مجبور کیے رکھا تو دوسری جانب یہ ہمارے کوڑھ زدہ سماج کو مزید بے نقاب کر گیا، ہمارے بوسیدہ نظام حکومت کی کمزوریاں بھی آشکار ہوئیں اور اس بات کا بھی شدت سے احساس ہوا کہ سیاسی تقسیم کی بنیاد پر لاحق بغض و عناد کا مرض کس طرح ہماری رگوں میں سما چکا ہے۔ ایک پارٹی سوشل میڈیا پر یہ مہم چلاتی رہی کہ فوج صرف ڈرامے کر رہی ہے، بچے مر جائیں گے اور کمپنی کی مشہوری ہو جائے گی۔ جونہی آپریشن کامیاب ہوا، اسی پارٹی نے نیا واویلا شروع کیا کہ فوج نے تو کچھ بھی نہیں کیا، سب مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت کیا۔ دنیا بھر میں پاکستان کی تعریف کی جا رہی تھی تو ہمارے ہاں افواج پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا تھا کہ کمانڈوز نے صرف ایک بچے کی زندگی بچائی اگر کمپنی کی مشہوری کے لئے ہیلی کاپٹر بلوا کر ایندھن اور وقت ضائع نہ کیا جاتا تو مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت خود ہی یہ کام کرلیتے۔ سوال یہ ہے کہ یہ حادثہ تو صبح سکول ٹائم شروع ہونے سے پہلے پیش آیا۔ حکومتی مشینری متحرک ہوئی تو سہ پہر کو پہلا ہیلی کاپٹر آیا۔ ان چھ سات گھنٹوں میں اپنی مدد آپ کے تحت کیوں کچھ نہ کیا جا سکا۔ موبائل فون پر تبصروں اور میدان عمل میں خطرات سے نمٹنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ صاحب خان کو بھی فوج ہی لے کر آئی۔ بہت سے مقامی نوجوان ریسکیو ادارے اور الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار ریسکیو سرگرمیوں میں شامل رہے، سب نے مل کر اس واقعہ کو سانحہ بننے سے روکا۔ خیبرپختونخوا کے بیشتر علاقوں میں آمد و رفت کے ذرائع محدود اور خطرناک ہیں۔ بٹگرام کی تحصیل الائی میں جانگری اور بٹنگی کو ملانے والی یہ اکلوتی کیبل کار نہیں ہے بلکہ خیبرپختونخوا میں اس نوعیت کی سینکڑوں دیسی ساختہ لفٹ، کیبل کار، ڈولی یا پھر زپ لائنز روزمرہ آمد و رفت کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔ ڈپٹی کمشنر سے تحریری اجازت نامے کے بعد بنائی جانے والی یہ کیبل کاریں دو پہاڑوں یا پھر کسی دریا اور ندی نالے کے اوپر چلتی ہیں۔ مقامی افراد آنے جانے کا کرایہ دیتے ہیں۔ نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے اس واقعہ کا نوٹس لیا اور متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کر دیں کہ ایسی چیئر لفٹس جہاں جہاں نصب ہیں ان کا حفاظتی نکتہ نظر سے معائنہ کیا جائے۔ لگتا ہے کہ اب خیبرپختونخوا کے پسماندہ لوگوں سے آمد و رفت کا یہ ذریعہ بھی چھن جائے گا۔ حکومت کو ان علاقوں کے مکینوں کو سہولتیں مہیا کرنے، سڑکیں اور پل تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے مگر اس معاملے سے نمٹنے کا ہمیشہ کی طرح یہ تیر بہدف نسخہ استعمال کیا جائے گا کہ ”نہ رہے بانس نہ بجے بانسری“ ۔ اب ڈپٹی کمشنر سے اجازت نامے کا عمل مزید مشکل اور پیچیدہ ہو جائے گا۔ ایسی کیبل کا رز کو ریگولرائز کرنے کی اور فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی آڑ میں رشوت کا بازار گرم ہو گا۔ نئی کیبل کا رکی تنصیب کے لئے NOCلیناضروی ہو گا۔ ہمارے نظام میں یہ جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ یہ خبر بھی آ گئی ہے کہ حکومت نے خیبر پختونخوا میں اس طرح کی تمام کیبل کا رز، پر پابندی عائد کر دی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت جب سڑک یا پل بنا کر نہیں دے رہی تو مجبوراً وہ کیبل کار کے ذریعے ہی کام چلائیں گے۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ لفٹ تو ان کے لیے ایک لائف لائن ہے۔ آلائی میں یونین کونسل پاشتو کی چار ویلج کونسلز کے لوگوں کا انحصار اسی کیبل کار پر ہے۔ اگر وہ پیدل جائیں تو دو گھنٹے لگتے ہیں اور اس کیبل کار میں 20 روپے دے کر پانچ منٹ میں پہنچ جاتے ہیں۔
یہ کیبل کار کچھ عرصہ پہلے مقامی لوگوں کے کہنے پر نجی سطح پر قائم کی گئی تھی کیونکہ بڑی تعداد میں آبادی رابطہ سڑک یا پل نہ ہونے کی وجہ سے متاثر ہو رہی تھی۔ اس وقت بہت زیادہ مشکل ہوتی ہے جب کوئی بیمار ہو اور اسے ہسپتال لے جانا پڑے۔ اس واقعے کو میڈیا میں کوریج ملی تو سارے لوگ پہنچ گئے۔ اب حکومت کا فرض ہے کہ صرف کیبل کار پر پابندی نہ لگائے بلکہ لوگوں کی مشکلات حل کی جائیں۔ اس ترقی یافتہ دور میں بھی لوگوں کو آمد و رفت کے ذرائع کیوں دستیاب نہیں اور اپنی مدد آپ کے تحت بنائی گئی اس کیبل کار میں بیٹھ کر سفر کیوں کرنا پڑتا ہے اس کا جواب بھی حکومت کو دینا چاہیے۔ صرف پابندیاں لگانا ہی کیا گورننس ہے :
عمر بھر ہَم یوں ہی غلطی کرتے رہے غالب
دھول چہرے پر تھی اور ہم آئینہ صاف کرتے رہے
اب کچھ حقیقی آزادی کی جنگ لڑنے والوں کی بات ہو جائے ماضی میں ان کے خاں صاحب کہا کرتے تھے کہ ترقی سڑکیں اور پل بنانے سے نہیں ہوتی۔ چنانچہ کے پی کے نو سالہ دور حکومت میں انہوں نے اس قول پر حرف بہ حرف عمل کیا۔ دعویٰ تو یہ کیا جاتا رہا کہ عوام کی زندگیوں میں انقلاب آ چکا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ قوم کی بے مثال خدمت کے دعویدار ان علاقوں میں ایک پل تعمیر کر سکے، نہ کوئی سکول بنا سکے۔ بہت کچھ شاید فائلوں میں ہو لیکن زمین پر صرف ایسی ہی کیبل کار کارکردگی ہے جو دنیا نے دیکھی ہے۔
تحریک انصاف کے دور اقتدار میں پختونخوا نے جتنے قرضے لئے، وہ باقی تین صوبوں کے اسی مدّت کے دوران لے گئے مجموعی قرضوں سے بھی کئی گنا زیادہ تھے۔ اتنی بڑی رقم کہاں گئی؟ کسی کو کچھ معلوم نہیں۔
جو ترقیاتی کام ہوئے۔ ان کی وڈیوز میں ایک ایم پی نے کسی جگہ مین ہول کا نیا ڈھکن لگایا، تو شاندار تقریب ہوئی۔ کہیں وفاقی وزیر ایک ”نلکے کا افتتاح کرتے دکھائی دیے۔
یہی نہیں، ایک ایم پی اے صاحب غباروں میں ہوا بھرنے کی ٹینکی یا سلنڈر کا افتتاح کرتے ہوئے پائے گئے۔ اسی طرح کے دیگر ترقیاتی کاموں کا سراغ بھی لگایا جا سکتا ہے

