بجلی کا بل اپنے ہاتھ میں رکھیں


بجلی کا بل بجلیاں گرا رہا ہے۔ ہر طرف چیخ و پکار کا عالم ہے۔ آئی ایم ایف کے نام پر حکومت عوام کے ساتھ یوں رویہ روا رکھے ہوئے ہے جیسے کوئی ظالم فاتح کسی مفتوح قوم کے ساتھ روا رکھتا ہے۔ موت و حیات کی سی کیفیت طاری ہے۔ لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں اور جو خودکشی کا حوصلہ نہیں رکھتے وہ بجلی کے بلوں اور نرخوں کے خلاف سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں، نوحہ کناں ہیں۔

اس سارے منظرنامہ میں نرخ حکومت کے ہاتھ میں ہیں اور بجلی کا استعمال عوام کے ہاتھ میں۔ اگرچہ گلی محلے سے اٹھنے والے احتجاجوں کی جائز صدا تو ٹی وی سکرینوں کا محاصرہ کیے ہوئے ہے لیکن کہیں پر عوام کو بل کم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب دکھائی نہیں دے رہی۔ حکومت اپنے حصے کا کردار ادا کر بھی لے تو بھی عوام کو اپنے حصے کا کردار ادا کیے بنا مہنگے بل سے نجات نہیں ملنے والی۔ اس ضمن میں عوامی اطلاعات کے لئے

کچھ باتیں سمجھنا بہت ضروری ہیں جس سے بجلی کے استعمال میں بچت کے ساتھ بل آنے سے آپ کو کسی بجلی کے بڑے جھٹکے کا سامنا کرنے سے بھی بچت ممکن ہے۔

آپ اپنے پچھلے بلوں پر نظر ڈالیں گے تو حیران کن طور پر ہر ماہ مثال کے طور پر ہر سال گے اگست کی صرف شدہ یونٹس تعداد ایک جیسی پائیں گے۔ میری یونٹس میں چار سالوں میں حیران کن طور پر محض سترہ یونٹس کا فرق آیا ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری بجلی استعمال کرنے کی عادات میں قیمتیں بڑھنے کے باوجود کوئی فرق نہیں آیا۔ یہی معاملہ آپ کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ اس کو کیسے بہتر کرنا ہے اس کے لئے واپڈا کے میٹر، گھریلو برقی آلات اور اپنی عادات پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔

عام سنگل فیز گھریلو میٹر جو واپڈا کی طرف لگائے گئے ہیں اس پر پانچ طرح کی ریڈنگز آتی ہیں۔ زیادہ تر عوام اس میں سے صرف پورے مہینے کی یونٹ کے تعداد کے حوالے سے ہی آگاہ ہیں۔ مگر اس پر بدلتی ریڈنگز میں سے پانچویں نمبر پر آنے والی ریڈنگ لوڈ کی ہے۔ یعنی اس لمحے یا وقت میں کتنی بجلی استعمال ہو رہی ہے۔ یہ عوام کے لئے بل کنٹرول کرنے میں بہت معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

اپنے گھر کی تمام بجلی کی مصنوعات بند کر دیجیے اور میٹر کی بدلتی ریڈنگز میں سے پانچویں نمبر کی ریڈنگ چیک کیجیے۔ اگر تو زیرو آ رہی ہے تو آپ کا میٹر بھی ٹھیک ہے اور کہیں بجلی ضائع یا چوری بھی نہیں ہو رہی۔ اب ایک ایک کر کے تمام پنکھوں بشمول پیڈسٹل، سیلنگ فین چلا کر ریڈنگ نوٹ کریں اور بند کر دیں۔ اب دوسری چیز چلائیں اور ریڈنگ نوٹ کریں۔ اس سے آپ کو اپنے گھر میں موجود برقی مصنوعات کے واٹ کا پتہ چل جائے گا۔ میرے کیس میں موٹر 972 واٹ، استری 925 واٹ، پیڈسٹل فین 176 اور 150 واٹ جبکہ سیلنگ فین 80 تا 140 واٹ کے ہیں۔ اسی طرح موبائل فون کا چارجر 20 واٹ کا ہے۔ اب ان کی یونٹس میں کھپت کا حساب لگاتے ہیں۔

اگر آپ کا 20 واٹ کا موبائل چارجر 50 گھنٹے (تقریباً 2 دن) چلے تو وہ 1000 واٹ یعنی ایک یونٹ گرائے گا۔ اس لحاظ سے 30 دنوں میں چارجر ہر وقت آن رہنے سے 15 یونٹس صرف ہوں گی جن کی پچاس روپے فی یونٹ کے حساب سے 750 روپے قیمت بنے گی جبکہ صرف چارجر کو پلگ سے نکال دینے سے ماہانہ 14 یونٹس یعنی تقریباً 700 روپے کی بچت ہو گی۔ ایک چارجر اگر دو گھنٹے میں موبائل چارج کرے تو ایک ماہ میں صرف سوا یونٹ خرچ ہونی چاہیے جبکہ اس کو پلگ آؤٹ نہ کرنے سے یہ تعداد 15 یونٹس ( 750 روپے ) تک جا سکتی ہے۔

اسی طرح زیادہ استعمال ہونے والے کمروں میں وہ پنکھے شفٹ کر لیں جو کم واٹ ( 80 واٹ) استعمال کرتے ہیں اور زیادہ واٹ ( 140 واٹ) والے پنکھوں کو کم استعمال ہونے والی جگہوں پر شفٹ کر لیا جائے۔ تو صرف اس شفٹنگ سے چوبیس گھنٹوں میں ڈیڑھ یونٹ اور ایک ماہ میں 45 یونٹس کی فی پنکھا بچت ہو سکتی ہے جس سے بل میں 2000 روپے سے زائد کا ماہانہ فرق ممکن ہو سکتا ہے۔

کچھ علاقوں میں لوڈ کے اوقات میں وولٹیج کم ہو جاتی ہے جس سے موٹر کو پانی بھرنے کے لیے جہاں 10 منٹ چاہئیں وہاں 15 منٹ لگیں گے اور ایک یونٹ کی بجائے زیادہ ڈیڑھ یونٹ صرف ہو گا۔ اس طرح استری کو بھی گرم ہونے کے لیے زیادہ وقت درکار ہو گا جس سے زیادہ یونٹ صرف ہوں گے۔ صرف ان دو اشیاء کے استعمال کا وقت بدل لیا جائے اور اس دوران اگر فریج بند رکھ لی جائے تو ایک واضح بچت ممکن ہو سکتی ہے۔

اسی طرح اسٹینڈ بائی پر رکھے آلات جیسے ٹی وی یا اے سی بھی ریموٹ سے آن آف کرنے کی بجائے مکمل آف کیے جائیں ورنہ سرکٹ تھوڑا ہی سہی مگر مہینے کی بنیاد پر کافی بجلی استعمال کر لیتے ہیں۔ اسی طرح سے ایل ای ڈی بلب کو بھی عموماً ہم اگنور کر جاتے ہیں مگر ان کو بھی مناسب توجہ دے کر بند کرنے سے بجلی کی بچت ہو سکتی ہے۔

الگ کمروں میں بیٹھنے کی بجائے اکٹھا بیٹھنے کا رواج پنکھوں کی تعداد میں کمی لا سکتا ہے۔ پیڈسٹل فین کی بجائے سیلنگ فین (آدھی انرجی) کو رواج دیں اور زیادہ بجلی استعمال کرنے والے آلات کو کم انرجی والے آلات کے ساتھ آہستہ آہستہ بدل لینے سے انرجی اور بل دونوں میں بچت ممکن ہو سکتی ہے۔

بجلی کے آلات کی کھپت کا مطالعہ، ان کی آپس میں رد و بدل کے بعد حکمت عملی بنا کر اپنی فیملی کو بھی اس عمل میں شامل کریں اور واضح ٹارگٹ متعین کر کے بچت کریں۔ مہنگی بجلی کے خلاف احتجاج میں اگر اس عہد کے ساتھ شامل ہوں کہ گورنمنٹ کی طرف سے ناجائز مسلط کردہ ظالمانہ ٹیکسوں کا خاتمہ حکومت کرے اور استعمال میں ہونی والے بے قاعدگی ہم خود کنٹرول کریں گے تو اس سے ملک اور عوام دونوں کا بھلا ہو گا ورنہ اگلے سال ہم پھر احتجاج کے لئے سڑکوں پر ہوں گے۔

Facebook Comments HS