فاطمہ ریپ کیس، تازہ ترین صورت حال


تازہ ترین خبر یہ ہے کہ ہے کہ فاطمہ قتل کیس میں رہا کیے گئے چاروں ملزمان کو پولیس نے دوبارہ گرفتار کر لیا ہے۔

واضح رہے کہ اس مقدمے میں گرفتار چار ملزمان جن میں ایس ایچ او امیر چانگ، ڈاکٹر فتاح میمن، ڈاکٹر علی حسن وسان اور کمپاؤڈر امتیاز میراسی شامل تھے، ان کو پولیس نے آج صبح بے گناہ قرار دے کر آزاد کر دیا تھا، لیکن بعد میں شدید عوامی ردعمل اور احتجاج کے نتیجے میں چاروں ملزمان کی دوبارہ گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔

دوسری طرف کیس کے مرکزی ملزم پیر اسد شاہ کی گرفتاری کے اتنے دن گزر جانے کے باوجود، کوئی پیش رفت ممکن نہیں ہو پائی ہے۔ ملزم اسد شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی مدت پوری ہونے پر جب کل اسے مقامی عدالت میں پیش کیا گیا، تو تفتیشی افسر نے عدالت کے سامنے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ پیر صاحب اپنے موبائل فونز پر لگا سیکورٹی کوڈ تک بتانے پر تیار نہیں ہیں۔ جس پر عدالت نے پیر صاحب سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا اگر آپ بے قصور ہیں تو موبائل پر لگا کوڈ پولیس کو بتا دیں۔

کیس میں نامزد ملزمہ بی بی حنا شاہ اور اس کے والد پیر فضل شاہ کو پولیس تاحال گرفتار کرنے میں ناکام ہے اور اتنا وقت گزر جانے کے باوجود اتنے بڑے ہائی پروفائل کیس کی ڈی این اے رپورٹ بھی غیر متوقع طور پر تاخیر کا شکار ہے۔

لگتا ہے پیر اسد شاہ کی بیوی کو آسمان نے نگل لیا ہے، اس کے سسر کو زمین کھا گئی ہے اور وہ خود پولیس کی حراست میں ہنی مون منا رہے ہیں کہ دس دن پولیس حراست میں رہنے کے باوجود وہ اپنے موبائل فونز کے لاک تک کھولنے پر آمادہ نہیں۔

جس ملک کی پولیس کے سامنے چوہا بھی خود کو ہاتھی بولنے پر مجبور ہو جاتا ہے، جہاں ملک کی سب سے بڑی عدالت کے جج کے سامنے برآمد شراب کو لیبارٹری تجزیے کے بعد شہد قرار دیا جاتا ہے اور جہاں واضح طور پر حقائق چھپانے، جرم چھپانے اور فرائض میں غفلت کے الزامات میں گرفتار ملزمان کو پولیس اپنی مرضی سے بے گناہ قرار دے کر آزاد کر دیتی ہے، وہاں اس مقدمے کا کیا انجام ہو گا، اس کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ہے۔

ایک طرف پیر کے مریدوں نے لوگوں کو سر عام دھمکیاں دینا شروع کردی ہیں کہ یہ وقت بھی گزر جائے گا، پھر تم لوگوں سے بھی نمٹ لیں گے تو دوسری طرف ڈاکوؤں نے پیر صاحب کی حمایت میں کھل کر اپنی عقیدت اور عزائم کا اظہار کیا ہے۔

پولیس کی حالیہ قلابازی، بوکھلاہٹ اور شعبدہ بازی کس کروٹ بیٹھے گی، صاف نظر آ رہا ہے۔ کچھ بعید نہیں کہ چند دنوں بعد ڈی این اے کسی غریب مرید سے میچ کر جائے اور وہ بدبخت پوری دنیا کے سامنے سارے الزامات اپنے سر لینے اور خود پر شیطان کے غلبے کا اقرار کرتا ہوا نظر آئے۔

Facebook Comments HS