ایک پراسرار کائنات
تہذیب کے آغاز کے بعد سے، انسانوں نے اپنے ارد گرد کی کائنات کے بارے میں غور کرنا شروع کیا۔ انہوں نے آسمان پر بکھرے ہوئے سورج، چاند، سیاروں اور ستاروں کی حرکت کے بارے میں سوچا ہے۔ انہوں نے اپنے اردگرد موجود اشیاء کی نوعیت اور اجزاء کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے یہ سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ ہم چیزوں کو کیسے دیکھ اور محسوس کر سکتے ہیں۔
فطرت کے بنیادی قوانین کو سمجھنے کی کوشش بہت طویل عرصے پر محیط ہے۔ اکثر اوقات قوانین فہمی بہت سست روی کا شکار رہی۔ مثال کے طور پر، ارسطو نے یہ نظریہ پیش کیا کہ اس دنیا میں تمام اشیاء چار عناصر، زمین، آگ، ہوا اور پانی سے بنی ہیں۔ اس تصور کو ختم کرنے میں تقریباً دو ہزار سال لگے جب انیسویں صدی میں یہ دریافت کیا گیا کہ اشیاء تو ناقابل تقسیم چھوٹے ذرات سے بنی ہیں جنہیں ایٹم کہتے ہیں۔
اسی طرح افلاطون کے مطابق بینائی کو آنکھ سے خارج ہونے والی روشنی کی شعاعوں کے ذریعے سمجھا جا تا تھا۔ اس نظریہ کے مطابق، جب ہم آنکھ کھولتے ہیں تو آنکھ سے نکلنے والی شعاعیں چیزوں سے ٹکراتی ہیں اور ان کے رنگ، شکل اور جسامت کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں۔ اس بات کو سمجھنے میں تقریباً ایک ہزار سال لگ گئے، کہ چیزوں کو دیکھنے کا ذریعہ تو وہ شعائیں ہیں جو اشیاء سے ٹکرا کر ہماری آنکھ میں داخل ہوتی ہیں۔
ایک آخری مثال نظام شمسی میں سیاروں کی حرکت کے بارے میں ہے۔ جیو سینٹرک ماڈل، جس میں سورج، چاند، سیاروں اور ستاروں سمیت ہر چیز زمین کے گرد گھومتی ہے، سے ایک ہیلیو سینٹرک ماڈل، جس میں سورج مرکز میں ہے اور زمین سمیت سیارے اس کے گرد گھومتے ہیں، کی طرف جانے میں تقریباً پندرہ سو سال لگے۔
ایک وقت تھا کہ آسمان پر گرج چمک اور سورج گرہن، جب دن کے وقت زمین اندھیری ہو جاتی ہے، جیسے مظاہر بہت پراسرار نظر آتے تھے۔ ان جیسے مشاہدات سے توہم پرستی کو تقویت ملی اور بہت سی خرافات پروان چڑھیں۔ سائنس اور سائنسی فکر کی آمد کے ساتھ اسرار کے پردے اٹھنے لگے۔ سولہویں صدی میں شروع ہونے والے سائنس کے جدید دور نے عقلی سوچ کو پروان چڑھایا اور اس سوچ کو جنم دیا کہ اس دنیا اور کائنات کے تمام مظاہر کی عقلی اور سائنسی وضاحت ہونی چاہیے۔
انیسویں صدی کے آخر میں، کائنات کو سائنسی نقطہ نظر سے مکمل طور پر سمجھا جانے لگا۔ اہم نتائج یہ تھے :
• ہم ایک لامحدود تین جہتی کائنات میں رہتے ہیں جو ہمیشہ سے موجود ہے۔
• وقت خلا سے مکمل طور پر آزاد ہے اور ماضی سے حال اور پھر مستقبل کی طرف یکساں طور پر بہتا ہے۔ زمین، چاند اور مریخ، غرض ہر جگہ، وقت کی رفتار یکساں ہے۔
• اس کائنات کی تمام اشیاء ان قوانین کی پابندی کرتی ہیں جو مکمل طور پر متعین ہیں۔ اگر ہم کسی شے پر طاقت استعمال کرتے ہیں، تو ہم ردعمل کی بہت درست انداز میں پیشن گوئی کر سکتے ہیں۔
• روشنی ایک لہر ہے اور گیند ایک ذرہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ روشنی ایک ذرے کی طرح برتاؤ نہیں کر سکتی اور گیند لہر کی طرح برتاؤ نہیں کر سکتی۔
· • ہم کتنی تیزی سے حرکت کر سکتے ہیں اس کی کوئی حد نہیں ہے۔ جتنی توانائی استعمال کی جائے، اتنی رفتار بڑھتی جائے گی۔ اس طور یہ ممکن ہے کہ مناسب مشینوں اور آلات کی مدد سے ہم کسی بڑی سے بڑی رفتار سے حرکت کر سکتے ہیں۔
• کائنات کی ہر چیز سب سے چھوٹے ذرات پر مشتمل ہے، جنہیں ایٹم کہتے ہیں۔ یہ ایٹم چھوٹے ٹھوس کروں کی طرح ہیں اور تمام اشیاء ان ایٹموں کو ایک دوسرے کے او پر رکھ کر بنائی گئی ہیں۔
• حتمی خلا وہ ہے جہاں کوئی حرکت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی توانائی موجود ہوتی ہے۔
• تمام اشیاء جو ہم اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں حقیقی ہیں۔ وہ اس وقت بھی موجود رہتی ہیں جب ہم ان کی طرف نہیں دیکھ رہے ہوتے۔
• صرف ایک کائنات ہے جسے ہم اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں۔ اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ دوسری کائناتیں موجود ہوں جہاں ہم مختلف حالتوں میں موجود ہوسکتے ہیں (اگر ہم اس کائنات میں مسکرا رہے ہیں تو کسی اور کائنات میں اداس ہوسکتے ہیں ) ۔
ایک صدی سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی کائنات کے بارے میں ہمارے تصورات میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ یہ تمام نتائج اس حد تک درست معلوم ہوتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی انحراف ہمارے لیے سراسر حیران کن اور چونکا دینے والا ہو گا۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ نتائج ان تین صدیوں پر پھیلی سائنسی تحقیق کے ذریعے اخذ کیے گئے تھے جو سترویں صدی کے وسط میں نیوٹن کے دور سے لے کر انیسویں صدی کے آخر تک جاری رہی۔
حیرت انگیز اور چونکا دینے والی حقیقت یہ ہے کہ ان نتائج میں سے کوئی بھی طبیعیات کے موجودہ قوانین کے مطابق درست نہیں ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ تمام نتائج تو ہماری روزمرہ کی زندگی سے مطابقت رکھتے ہیں۔
یہ تمام سچائیاں بیسویں صدی کے شروع میں رونما ہونے والے سائنسی انقلاب کے نتیجے میں متزلزل ہوئیں اور غلط ثابت ہو گئیں۔ یہ انقلاب ایک بڑے زلزلے کی طرح تھا جس کے جھٹکے سو سال بعد آج بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔
مضامین کی اس سیریز کا مقصد طبیعات کے ان قوانین کو ہر ممکن حد تک آسان زبان میں بیان کرنا ہے جن کے مطابق اس کائنات کا نظام چل رہا ہے۔ فطرت اور کائنات کے قوانین کی یہ گہری تفہیم ہمیں اس بات پر غور کرنے کی طرف لے جاتی ہے کہ ہم ایک ایسی کائنات میں رہتے ہیں جو ناقابل فہم ہے۔ یہ واقعی ایک پراسرار کائنات ہے۔
بیسویں صدی کے آغاز میں یہ انکشاف ہوا کہ طبیعیات کے قوانین جو نیوٹن اور ان کے بعد آنے والے سائنسدانوں نے وضع کیے تھے، وہ صرف بڑی چیزوں، تیز روشنی اور روشنی کی رفتار کے مقابلے میں بہت سست حرکت کرنے والی اشیاء کے لیے تو مناسب تھے، لیکن الیکٹران اور ایٹم جیسی چھوٹی اشیاء، بہت ہلکی روشنی کے سگنل، اور بہت تیز رفتار اشیاء کے لیے، یہ قوانین بری طرح ناکام ہو جاتے ہیں۔ کوانٹم میکانکس اور نظریہ اضافیت کے نئے دریافت کردہ قوانین سے وابستہ نتائج انتہائی حیران کن اور ناقابل یقین ہیں۔
مثال کے طور پر،
· روشنی لہر ہے مگر بعض تجربات میں یہ ذرے کی فطرت کی نمائش کر سکتی ہے۔ اسی طرح، ایک ایٹم بھی کچھ تجربات میں ذرہ اور کچھ میں لہر کی فطرت کی نمائش کر سکتا ہے۔
· کوئی بھی کسی بھی ذرے کے مقام اور رفتار کو بیک وقت ناپ نہیں سکتا، چاہے اس کے پیمائش کے الات کتنے ہی درست ہوں۔
· کائنات میں پھیلی ہوئی فضا جہاں کچھ بھی نہیں اور مکمل تاریکی ہے، اس میں لا محدود توانائی موجود ہے۔
· کوئی بھی چیز روشنی کی رفتار سے زیادہ تیز نہیں چل سکتی۔
· گھڑیاں زمین کے قریب زمین سے دور کے مقابلے میں آہستہ چلتی ہیں۔ اگر ہم کسی بھاری تر سیارے یا ستارے کے قریب جائیں تو گھڑیوں کی رفتار مزید آہستہ ہو جائے گی۔
· روشنی سورج اور ستاروں جیسی بڑی چیزوں کی طرف جھکتی ہے، حالانکہ روشنی کا کوئی وزن نہیں ہوتا۔
· ہم اپنے ارد گرد جو کچھ دیکھتے ہیں وہ کائنات کا صرف پانچ فیصد ہے۔ باقی ہم سے پوشیدہ ہے۔ ہم ستاروں اور کہکشاؤں کی حرکت پر اس پوشیدہ مادے اور توانائی کے اثرات دیکھتے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ یہ کس چیز سے بنے ہیں۔
· کائنات مسلسل پھیل رہی ہے، لیکن ہمیں نہیں معلوم کہ یہ کس میں پھیل رہی ہے۔
· وقت تقریباً چودہ ارب سال پہلے چلنا شروع ہوا۔ کائنات بھی اسی وقت وجود میں آئی۔ اس سے پہلے کیا تھا، ہمیں نہیں معلوم۔ ہم چودہ ارب سال سے پہلے جگہ اور وقت کی نوعیت کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔
· کوئی شخص جو روشنی کی رفتار کے قریب رفتار سے حرکت کرتا ہے وہ ایک آرام کرنے والے شخص کے مقابلے میں زیادہ عرصہ زندہ رہتا ہے۔
یہ تو ایک نمونہ ہے۔ اس طرح کے اور بہت سے نتائج ہیں، جو انتہائی حیران کن ہیں۔ میرے آنے والے مضامین کا مقصد ان اور ان جیسے دوسرے قوانین کی وضاحت کر نا ہو گا۔
بیسویں صدی کے آغاز میں دو انقلابات ایک دوسرے سے آزادانہ طور پر رونما ہوئے۔ پہلے انقلاب کا کریڈٹ مکمل طور پر البرٹ آئن سٹائن کو جاتا ہے جنہوں نے بیسویں صدی کے پہلے بیس سالوں کے دوران اپنے نظریہ اضافیت کو وضع کیا۔ یہ نظریات اسپیس اور ٹائم کے بارے میں ہمارے تصورات میں انقلابی تبدیلی کا باعث ہیں۔ اس نظریہ اضافیت سے وابستہ نتائج اتنے حیران کن ہیں کہ کائنات کے بارے میں ہمارا تصور ہی بدل گیا۔ اس نظریہ کا سب سے اہم نتیجہ یہ ہے کہ اس نے کائنات کی پیدائش اور ارتقا کو سمجھنے میں مد دی ہے۔
دوسرا انقلاب کوانٹم میکانکس کا جنم تھا جس کی تشکیل میں تقریباً 30 سال لگے۔ کوانٹم میکینکس نے ایسے قوانین فراہم کیے جن سے اشیاء کی حرکت اور ان کے ایک دوسرے کے ساتھ تعامل کی وضاحت کی جا سکے۔ یہ قوانین نیوٹن کے دریافت کردہ قوانین سے انتہائی مختلف ہیں جن کا ہم اپنے روزمرہ زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں۔ یہ نئے قوانین حقیقت کے ہمارے دیرینہ تصور کو چیلنج کرتے ہیں۔
انتہائی ناقابل فہم نوعیت کے باوجود، کوانٹم میکینکس اور نظریہ اضافیت شاید انسانی تاریخ کے دو کامیاب ترین نظریات ہیں۔ اس قابل ذکر دعوے کا جواز یہ ہے کہ سو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی کوئی ایسا مشاہدہ موجود نہیں ہے، جو ان نظریات کی پیشین گوئیوں کے منافی ہو۔ یہ ان الات میں زبردست ترقی کے باوجود درست ہے جن کے ساتھ مختلف خصوصیات کی پیمائش کی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، وقت کو ایک اربویں سیکنڈ کے ایک اربویں حصے کی درستگی، فاصلے کو ایک میٹر کے کھربویں حصے کی دوری، ٹمپریچر کو ڈگری کے دس لاکھویں حصے تک درجہ حرارت، اور ایک گرام کے ایک اربویں حصے کے وزن تک ماپا جا سکتا ہے۔
ہم ایک ایٹم کو دیکھ سکتے ہیں اور اس میں تبدیلی لا سکتے ہیں اور ایک گیس کو اس حد تک ٹھنڈا کر سکتے ہیں کہ ایٹم اور مالیکیول اپنی شناخت کھو دیں۔ ہم ایسے تجربات کر سکتے ہیں جہاں روشنی ایک واحد ’فوٹون‘ پر مشتمل ہو۔ یہاں تک کہ ایک تنہا ایٹم کے ساتھ واحد ’فوٹن‘ کے تعامل کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اس طرح کے تمام تجربات میں نتائج انیسویں صدی کی طبیعیات کی پیشن گوئیوں سے ڈرامائی طور پر مختلف ہیں لیکن وہ کوانٹم میکانکس کی پیشین گوئیوں کے ساتھ مکمل طور پر متفق ہیں۔
میں کوانٹم تھیوری کے بنیادی مسائل، آئن سٹائن کے خصوصی اور عمومی نظریہ اضافیت اور کائنات کے بارے میں ہماری موجودہ تفہیم کو ایسی زبان میں پیش کرنے کی کوشش کروں گا جو ہر شخص کے لیے قابل فہم ہو۔ خاص طور پر میری خواہش ہو گی کہ کالج کے طلبا اور نوجوان نسل کو یہ پیغام پہنچایا جا سکے کہ سائنس اور قوانین فطرت کسی پراسرار کہانی کی طرح کتنے دلچسپ ہو سکتے ہیں۔ میری قارئین سے گزارش ہے کہ اگر وہ ان مضامین کو مناسب سمجھیں تو وٹس ایپ، ٹویٹر اور دوسرے ذرائع سے اپنے ارد گرد نوجوانوں تک پہنچانے میں مدد کریں۔
(یہ مضمون میری کتاب A Mysterious Universe (Oxford University Press 2023 ) سے ماخوذ ہے۔ (


