بیاد جنرل ضیا الحق! آج تم یاد بے حساب آئے

مرزا غالب نے انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ہر دو کے ظاہر باطن پر گزرنے والے ممکنہ احساسات کا اپنے معجز نما کلام میں اس طرح احاطہ کیا ہے کہ مکمل شعر تو ایک طرف، شعر کا مصرعہ، اولیٰ یا صرف مصرعۂ ثانی ہی حالات کی تفسیر و تاویل کا فرض ادا کر کے گہرا تاثر چھوڑ جاتا ہے۔ مثلاً جڑانوالہ میں مسیحی اقلیت پر گزرنے والی قیامت اور ان کی عبادت گاہوں کی جنونیوں کے ہاتھوں بے حرمتی کے واقعہ کو ملک کی تشویشناک سیاسی، معاشی، معاشرتی اور پتلی بین الاقوامی حالت کے پس منظر میں دیکھ کر یہ شعر میرے قشرۂ دماغ پر اتر آیا ہے ”کیوں اندھیری ہے شب غم ہے بلاؤں کا نزول / کیا ادھر ہی کو رہے گا دیدۂ اختر کھلا؟“
کراس کی صورت میں نصب لکڑی کے ان تختوں جن پر سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب کیا گیا تھا، صلیب اسی کا اظہار یہ، تمثیل اور علامت ہے اور کرسچنز کے نزدیک اسی طرح مقدس ہے جس طرح کسی بھی دوسرے مذہب کے ماننے والوں کے درمیان ان کی تماثیل و علامات اور صحیفے مقدس ہوتے ہیں۔ چرچ کی کھڑکیوں، شیشوں، دروازوں اور دیواروں کی توڑ پھوڑ سے بھی من کا رانجھا راضی نہ ہونے پر جنونیوں کے چرچ کے ماتھے پر چڑھ کر صلیب کی توڑ پھوڑ اور بے حرمتی کے مناظر دیکھ کر دل جگر لہو لہو ہو کر رہ گئے۔ الفاظ سجھائی نہیں دے رہے کہ جنہیں وسیلہ بنا کر اس کرب کو صفحے پر پھیلا سکوں جو روح کی گہرائیوں میں اتر کر وجہ عذاب بنا ہوا ہے۔
طالع سوختہ ملک و قوم پر مذہبی جنونیت کے عذابوں کا سلسلہ اس خاکسار کی حیات مختصر کے دوران ہی شروع ہوا۔ لہٰذا مذہبی روا داری، ہم آہنگی اور برداشت کے اوصاف سے معمور اور پھر تعصب، جنون، عدم برداشت اور مذہبی و فرقہ ورانہ نفرتوں اور تشدد آمیز رویوں کے پروان چڑھنے کے مرحلہ وار سلسلوں کا بھی ناظر ہوا۔ 1977 سے قبل لوگ آج کے اسلام پرستوں سے بہت بہتر مسلمان تھے۔ وہ رحمت و رافت، برداشت و در گزر، صلہ رحمی اور کمزور افراد معاشرہ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کی اسلامی تعلیمات کو بہت وزن دیتے تھے اور جیو اور جینے دو کا سنہرا اصول ہمیشہ ان کے پیش نظر رہتا تھا۔
یہ اصول کہ ”تقسیم کرو اور حکومت کرو“ نو آبادیاتی دور کے انگریز حکمرانوں کے ماتھے منڈھا جاتا ہے۔ درست کہ اس نے مقصد براری کی خاطر اس پر عمل کیا لیکن اس اصول سے انتہا کا استفادہ جنرل ضیا الحق نے کیا۔ ملک کی تمام خفیہ ایجنسیوں کو اولین ترجیح کے طور پر مذہبی، سیاسی، فرقہ وارانہ، قبیلوی، علاقائی اور لسانی تعصبات کو ہوا دے کر قومی وحدت کو پارا پارا کر نے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ ملک و قوم کی بد قسمتی اور جنرل ضیا الحق کی خوش بختی کہ دسمبر 1979 میں سوویت یونین ( اب روس) نے سر زمین افغانستان پر فوجیں اتار کر قبضہ کر لیا۔
ضیا الحق چونکہ 1977 کے انتخابات میں کھلی دھاندلی کے خلاف پی این اے کی ملک گیر تحریک کے نتیجہ میں اقتدار پر قابض ہوا تھا۔ لہٰذا اس نے سیاسی اغراض کے تحت بھٹو مخالف اتحاد کے اسلامی نظام کے نفاذ کے کھوکھلے نعرہ کو اپنایا تھا۔ کھوکھلا نعرہ اس لیے کہ اپنے وجود کے حوالے سے پی این اے ایک سیاسی اتحاد تھا مگر بعد از انتخابات دھاندلی کی تحریک کے دوران نظام مصطفے ٰ کے نفاذ کا نعرہ اس کی قوت اور منزل قرار پا گیا۔
دنیا بھر کے ڈکٹیٹرز کی تاریخ کھنگال کر دیکھ لیں وہ جہاں ایک طرف اپنے ناجائز اقتدار کی مضبوطی اور تسلسل کے لیے ظلم و جبر کا ہر حربہ آزماتے ہیں وہیں وہ عوام کی امنگوں، خواہشات اور پسند و ناپسند کے ساتھ خود کو ہم آہنگ رکھنے کی کوشش میں بھی رہتے ہیں۔ راقم یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ اگر بھٹو متشدد مولوی ہوتا اور عوام اس کی مذہبی تنگ نظری سے نجات کے لیے سڑکوں پر نکلے ہوتے تو یہی جنرل ضیا الحق اقتدار پر قبضہ کے بعد خود کو سب سے بڑا لبرل ثابت کرنے پر اس طرح منافقانہ روش اختیار کرتا جو اس نے قومی اتحاد کی تحریک کے بعد خود کو اسلام کا سب سے بڑا سپاہی ثابت کرنے کے لئے کی۔ روس کا افغانستان پر قبضہ جنرل ضیا الحق کے لیے آسمانی مدد ثابت ہوا مگر پاکستان اور اس کے باسیوں کے حق میں تباہی، بربادی اور لعنتوں کا پیش خیمہ۔
اس دور میں مانگے تانگے ٹکڑوں پر شب و روز کھینچنے والے مولوی حضرات چھکڑوں اور ویگنوں سے اتر کر مہنگی ترین گاڑیوں اور مسجدوں سے ملحقہ حجروں سے اٹھ کر اعلیٰ رہائش گاہوں میں منتقل ہوئے اور ڈالروں کی ریل پیل ان کا مقدر ٹھہری۔ چالیس لاکھ کے قریب افغان مہاجرین کو پاک افغان سرحد کے قریب سے لے کر شہروں تک میں بسایا گیا۔ جہادی ذہنوں کی تیاری کی خاطر ان کے لیے قدم قدم پر نہ صرف مدرسے کھولے بلکہ اس ذہنی تیاری کے بعد عملی طور پر جہاد میں حصہ لینے کی صلاحیت سے انہیں بہرہ ور کر نے کی خاطر ہماری خفیہ (فقط نام کی ) عسکری ایجنسی نے ان کی حربی تربیت کے لاتعداد کیمپ قائم کیے اور اسے اسلام کی خدمت ثابت کر نے پر اس وقت کے زر پرست صحافیوں اور ملاؤں کو انتہائی ہنر مندی سے استعمال کیا۔
جس فصل کی بوائی کا کام ملکی معاملات میں کن فیٰکون کے مناصب پر حاوی جنرل ضیا الحق اور اس کے رفقائے کار نے سر انجام دیا تھا اور جس کی آبیاری اس کے خلفاء کے ہاتھوں اب تک ہوتی چلی آ رہی ہے۔ سلیمان تاثیر جیسے انسان دوست کے بہیمانہ قتل سے لے کر جڑانوالہ کے دل خراش واقعہ تک اس بوئی ہوئی فصل ہی کو ہم کاٹ رہے ہیں۔ ادھر ہم کاٹتے ہیں ادھر مزید گھنا پن اختیار کر کے پھر سے اگ آتی ہے۔ خاکم بدہن یہ سلسلہ کہیں جا کر رکتا دکھائی نہیں دیتا۔
مذہب کے برانڈ پر کھلے ٹی وی چینلز پر لوہے کے ٹوپ پہنا کر تیار کیے جانے والے دولہے شاہ کے چوہوں کی طرز پر معصوم بچوں کے سروں پر نیلے پیلے ہرے کالے کپڑے کس کر اور ان کے کچے کانوں میں جہالت کا سیسہ بھر کر ہم مستقبل سے کیا مثبت توقع باندھ سکتے ہیں۔ جڑانوالہ واقعہ کی۔ مذمت کا سلسلہ دو چار روز جاری رہے گا۔ صلیب کی بے حرمتی کرنے والے کو عدالتیں سزا دینے سے گھبرائیں گی، کوتوال کی ٹانگیں کپکپائیں گی۔ چرچ کی بے حرمتی کرنے والوں کو مذہبی جنونی اسلام کے ہیروز قرار دیں گے۔
اس گھناؤنے جرم کے مرتکب افراد کی مذمت میں دو چار روز تک حکومتی بیان آتے رہیں گے۔ بہت آسان ہے لہٰذا زیادہ دیر نہ ہوگی کہ پھر کسی مسیحی کو گستاخ رسول ﷺ قرار دے کر یا قرآن کی بے حرمتی کا الزام اس کے سر منڈھ کر جنونیوں کے جتھے مسیحی بستیوں اور ان کی عبادت گاہوں پر چڑھ دوڑیں گے۔ سوال یہ ہے کہ جب گلی محلوں کے مسترد شدہ نوجوان مذہبی جنونیت کا لبادہ اوڑھ کر چرچ کی بلندی پر منصب مقدس صلیب کی بے حرمتی کر رہے تھے، کھینچ کر توڑ رہے تھے اس وقت احتجاجی جلوسوں پر سیدھی گولیاں برسانے والے قانون کے محافظ کہاں تھے۔
یاد رکھیئے قطع نظر سعودی نظام سیاست و ریاست کے، مذہب، مسجد، خطیب، خطبات اور مسلک کے معاملات میں جب تک ریاست پاکستان اس جیسے سخت اور پائیدار اقدامات نہیں اٹھائے گی مستقبل میں وقفوں وقفوں بعد جڑانوالہ ایپی سوڈ پیش آتا رہے گا جس سے عالمی سطح پر پاکستانیت جرم کے مترادف ٹھہرائی جائے گی۔ اگرچہ میں اس واقعہ پر کسی مسیحی سے کم کرب میں نہیں ہوں تاہم مسلمان ہونے کی حیثیت میں ان سے شرمندہ اور معافی کا خواستگار ہوں اور انہیں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ آٹے میں نمک کے برابر حیثیت رکھنے والے ایسے برائے نام مذہبیوں کے علاوہ پوری قوم آپ کو اپنے وجود کا حصہ اور قابل احترام سمجھتی اور آپ کے مذہبی اداروں اور علامتوں کی تکریم کرتی ہے۔
شان رسالت ﷺ میں گستاخی کا قانون تو تھا ہی اب پچھلے دنوں تحفظ ناموس صحابہؓ کا پارلیمنٹ سے بل پاس ہونا ہماری ترجیحات اور اداراتی کمزوریوں کی مکمل غمازی کرتا ہے۔ قانون ساز اداروں میں بیٹھے لوگوں سے لے کر ہماری ادنیٰ و اعلیٰ عدالتیں اور قانون کے نفاذ کے ذمہ داران افراد سب مذہبی جنونی گروہوں اور جماعتوں کے نفسیاتی دباؤ تلے رہتے ہیں۔ وہ کہ جن پر سیاست منع ہے اور ان کا اصل کام سرحدوں کی حفاظت ہے، ملکی سیاست اپنی ترجیحات کے مطابق چلانے کے جنون میں مختلف مذہبی فرقوں سے متعلقہ افراد اور گروہوں کو چھتری فراہم کرتے ہیں جس کے نیچے پل کروہ اتنے تنومند ہو جاتے ہیں کہ خود ان کے کنٹرول میں نہیں رہتے۔
اب ان اداروں کو ملک اور قوم پر رحم کھانا چاہیے۔ کیونکہ ہم تباہی کے عین دہانے پر پہنچ گئے ہیں بلکہ پہنچا دیے گئے ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ جس طرح تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے قانون کے مطابق یہ جرم سزائے موت کا مستوجب قرار دیا گیا ہے دوسروں کی دینی دل آزاری کرنے والوں کو بھی ایسی ہی سزا کا قانونی طور پر مستحق قرار دیا جائے؟
