امڈتی انارکی۔ افواج پاکستان کی ذمہ داری

جب راجہ بھگل رام کو پتہ چلا کہ سکندر یونانی دریائے جہلم کے کنارے واقع راجہ پورس کی راجدھانی پر چڑھ آیا ہے اور اس کے بعد وہ آگے بڑھ کر اسے لے لے گا۔ اس نے آؤ دیکھا نا تاؤ، حواس باختہ ہو کر اہل خانہ اور عمائدین کو ساتھ لے کر راتوں رات توی اور چناب کے سنگم سے دریا پار کیا اور سیالکوٹ کے راجہ کے ہاں پناہ گزین ہو گیا۔ صبح جب پرجا بیدار ہوئی تو

Read more

بیاد جنرل ضیا الحق! آج تم یاد بے حساب آئے

مرزا غالب نے انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ہر دو کے ظاہر باطن پر گزرنے والے ممکنہ احساسات کا اپنے معجز نما کلام میں اس طرح احاطہ کیا ہے کہ مکمل شعر تو ایک طرف، شعر کا مصرعہ، اولیٰ یا صرف مصرعۂ ثانی ہی حالات کی تفسیر و تاویل کا فرض ادا کر کے گہرا تاثر چھوڑ جاتا ہے۔ مثلاً جڑانوالہ میں مسیحی اقلیت پر گزرنے والی قیامت اور ان کی عبادت گاہوں کی جنونیوں کے ہاتھوں بے

Read more

جس کو ہو دین و دل عزیز…

چھاؤنیوں کی طاقت و ہیبت اور سخت گیر قوانین کے سہارے جنرل ضیا الحق نے اس ملک پر گیارہ سال تک غیر آئینی حکومت کی۔ اس دوران مجھے موثر اور مثالی، مزاحمتی کردار کی پاداش میں آٹھ سال نو ماہ ستائیس روز بدترین قید و بند میں گزارنا پڑے۔ شاہی قلعہ لاہور، قلعہ بالا حصار پشاور، سزائے موت کے اعزاز، پھانسی کوٹھڑی کے ایام اور ملک کی مختلف جیلوں میں قیام کی تفصیلات خاکسار اپنی کتاب ”کئی سولیاں سرراہ تھیں“

Read more

عمران خان کی سزا نظامِ عدل و انصاف کے دامن پر ایک اور دھبہ

اُس نے کہا تھا اور 9 مئی کے تناظر میں اب دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ درست کہا تھا کہ اگر اسے سازش سے نکالا گیا تو وہ سازشیوں کے لیے مزید خطر ناک بن جائے گا۔ اقتدار میں تھا تو اس کی مقبولیت کا گراف بڑی تیزی سے گر رہا تھا۔ ضمنی انتخابات میں وہ مسلسل ہار تا چلا گیا تھا۔ یہاں تک کہ عام انتخابات میں جیتی ہوئی نشستیں بھی اس کے ہاتھ سے نکلتی جا

Read more

ملکی سیاست کے زمینی حقائق اور تقاضے

میری موجودہ ذہنی کیفیت کے مظہر میری داخلی دنیا کے غماز اور میرے حسب حال احمد فراز کے چند اشعار آپ کی ضیافت طبع کے حضور بطور نذر و نیاز جس آگ سے جی آج جل اٹھا ہے مکرر پہلے بھی میرے سینے میں بیدار ہوئی تھی جس کرب کی شدت سے میری روح ہے بے کل پہلے بھی میری زیست کا آزار ہوئی تھی جس سوچ سے میں آج لہو تھوک رہا ہوں پہلے بھی مرے حق میں یہ

Read more

زمین کے بیٹے زندہ رہتے ہیں

محترمی وجاہت مسعود سے ”ہم سب“ کے لیے باقاعدہ لکھنے کا عہد ہوا ہے۔ پہلا کالم لکھنے سے قبل خاکسار نے ضروری جانا کہ کالم نگاری کی زمین سے اپنی زمانی وابستگی کا حال نذر قارئین کر دے۔ ٭٭٭           ٭٭٭ 1984ء میں سپیشل ملٹری کورٹ نے مجھے سزائے موت سنائی۔ میرے ذمہ یہ جرم لگایا گیا تھا کہ میں نے جنرل ضیا الحق کی ”قانونی“ حکومت کا غیر قانونی ذرائع سے تختہ الٹنے کی کوشش

Read more