میمن محلہ شکارپور کے تین ستارے اور سی ایس ایس


نوکری کے لیے پاکستان میں مقابلے کا سب سے بڑا امتحان سی ایس ایس(سینٹرل سپیرئر سروسز) پاس کرنے کے لیے عام گریجوئیٹ نوجوان تو قسمت آزمائی کرتے ہی ہیں مگر پیشہ ورانہ(پروفیشنل) ڈگریاں رکھنے والے میڈیکل ڈاکٹر، انجنئیر اور وکلا بھی اپنی ڈگری والا پیشہ روزگار کے لیے چننے کے بجائے سی ایس ایس کا امتحان پاس کرکے افسر شاہی کی دوڑ میں شامل ہوجاتے ہیں-

نوکری کے لیے خالی اسامیوں پر مقابلے کی اس دوڑ میں شامل نواجوانوں میں سے کامیابی کچھ سو کو ہی نصیب ہونی ہوتی ہے مگر اس کے لیے اپنی قسمت آزمانے والے ہزاروں لڑکے اور لڑکیاں امتحان میں حصہ لیتی ہیں۔

شکارپور سے تعلق رکھنے والے پانچ نوجوانوں نے سی ایس ایس 2022 کے امتحان میں کامیابی حاصل کی ہے جن میں سے تین کا تعلق ایک ہی محلہ سے ہے۔

میمن محلہ شکار پور سندھ سے تعلق رکھنے والے تین انجنئیر نوجوان 24 سالہ محمد فہد،ْ 26 سالہ سعد زبیر اور 27 سالہ شاہ رخ میمن اپنے ہاتھوں میں افسر شاہی کی لکیر چکاسنے کے لیے 2022 میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی طرف سے لیے گئے سی ایس ایس کے تحریری امتحان میں بیٹھے اور جون 2023 میں تمام مراحل پار کر کے اپنے ہاتھوں میں افسری کی لکیر تلاش کروانے میں کامیاب ہوگئے۔

فہد اور سعد کو آفیس مئنیجمینٹ گروپ(او ایم جی) جب کے شاہ رخ کو ان لینڈ روینیو سروس(آئی آر ایس) گروپ الاٹ کیے گئے ہیں۔ سوہان سومرو فارین سروسز آف پاکستان(ایف ایس پی) اور نرمل پاکستان آڈٹ اینڈ اکائونٹس گروپ کے لیے کامیاب ہوئے ہیں۔ ان پانچ ستاروں کی چمک نے شکارپور کا نام مقابلے کے امتحان میں دلچسپی رکھنے والوں کے پاس روشن کیا ہے۔

محمد فہد شکارپور 2022 سی ایس ایس

سعد مہران یونیورسٹی آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالاجی جامشورو کے شعبہ الیکٹریکل انجنیئرنگ میں فہد کے دو سال سینئر رہے ہیں۔ سعد 15 اور فہد 17 بیچ کے ہیں۔ سی ایس ایس کے راستے پر محمد فہد کو ان کے پڑوسی اور ساتھی سعد لائے مگر ان کے دل میں یہ شوق اس دن پیدا ہوا جب ان کے اسکول اور کالیج کا ڈپٹی کمشنر شکارپور نے مختلف وقتوں میں دورہ کیا۔

فہد کے مطابق وہ آٹھویں جماعت میں تھے تو ڈسٹرکٹ مونٹسری اسکول کا ڈپٹی کمشنر شکارپور نے دورہ کیا، ان دنوں مذکورہ اسکول کی نگرانی ڈپٹی کمشنر کے پاس تھی۔ فہد کے بقول جب میں کالیج پہنچا تو پھر ڈپٹی کمشنر نے کلاس کا دورہ کیا، ان کا پروٹوکول اور رتبہ دیکھ کر میرے دل میں خیال پیدا ہوا کے ایک دن میں بھی ڈپٹی کمشنر بنوں گا۔

فہد اور سعد نہ صرف پڑوسی ہیں مگر وہ ایک ہی کالیج، ایک ہی یونیورسٹی اور ایک ہی شعبے میں بیچلرس آف انجنیئرنگ کی ڈگری کی ہے۔

سعد زبیر سی ایس ایس 2022

فہد کے مطابق مجھے یونیورسٹی میں پہنچنے سے پہلے سی ایس ایس کے "سی” کا بھی پتہ نہیں تھا۔ "مجھے سی ایس ایس کے بارے میں نہ صرف سعد نے بتایا مگر اپنے ساتھ مہران یونیورسٹی کی لائبریری میں تیاری بھی کروائی۔” یہ الگ بات ہے کے فہد کے سینیئر دوست سعد کو سی ایس ایس کا معرکہ فتح کرنے کے لیہ دو بار مقابلہ کا حصہ بننا پڑا جب کے فہد نے یہ حدف صرف آٹھ ماہ کی مختصر تیاری سے پہلی بار ہی حاصل کر لیا۔ فہد سے جب لوک سجاگ نے پوچھا آپ کو پتہ ہے ایک دن آپ پاکستان میں کسی صوبے کے چیف سیکریٹری بن سکتے ہیں اور ڈپٹی کمشنر کی مقرری آپ ہی کا اختیار ہوگا تو انہون نے کہا جی ہاں انشا اللہ، ایک دن میں ڈپٹی کمشنرس کے تبادلوں کے حکناموں پر دستخط کروں گا۔

فہد اپنے دو بھائیوں اور ایک بہن میں سب سے بڑے ہیں۔ وہ اس کامیابی میں اپنے استاد ریاض احمد شیخ کی مدد کو سراہتے ہیں جو خود افسر ہیں جنہوں نے ان کو لاہور جا کر موب ٹیسٹ دینے کا کہا وہ ٹیسٹ پاس کرنے کے بعد فہد سی ایس ایس کے امتحان کی تیاری میں لگ گئے۔ فہد نے یونیورسٹی میں پڑھائی کے دوران تیسرے سال میں سعد کے ساتھ سی ایس ایس کی تیاری کی شروعات کی۔ فہد کے مطابق ان دنوں کووڈ تھا ملنا جلنا ویسے ہی کم تھا میں نے وہ وقت تیاری میں وقف کیا۔ تحریری امتحان کے دنوں سے آٹھ ماہ پہلے میں نے ڈٹ کر تیاری کی، ان دنوں گھر والوں سے بھی کم ملتا تھا۔

تحریری امتحان پاس کرنے کے بعد انٹرویو کی تیاری کے لیے فہد اور سعد لاہور میں ایک سائکالاجسٹ میڈم طلعت کے پاس گئے اور لاہور میں بھی ساتھ رہے اور مل کر تیاری کی۔ کامیابی کنارے سے گذر گئی۔

سوہان سومرو شکار پور فارین سروسز گروپ

سی ایس ایس 2022 کے تحریری امتحان میں پورے ملک میں سندھ کے ساحلی ضلع سجاول سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ ہالار احمد میمن دوسرے نمبر پر آئے انہوں نے 772 مارکس لیے مگر زبانی امتحان میں دس مارکس سے فیل ہوگئے۔ پاس ہونے کے لیے سو مارکس درکار تھے مگر ہالار کو 90 مارکس ملے۔ زبانی امتحان کے بعد آنے والے نتائج میں سی ایس ایس 2022 میں پہلے نمبر پر آنے والے طلحہٰ رفیق کے تحریری امتحان میں 743 مارکس ہیں ۔

ہالار احمد نے یونیورسٹی آف سندھ سے پرائیویٹ ایم ای پولیٹکل سائنس کیا ہے۔ یہ ہالار کا سی ایس ایس کے لیے آخری چانس تھا۔ َ”قسمت نے ساتھ نہیں دیا محنت بہت کی تھی۔ اس بار پکی امید تھی۔” ھالار 2019، 2020 اور 2022 کے سی ایس ایس کے امتحانات میں بیٹھ چکے ہیں۔ ہالار کا تحریری امتحان کا رزلٹ آنے کے بعد باقی امیدوار ان کو دیکھنے اور ملنے کے لیے بیتاب تھے، آج وہ سی ایس ایس افسر ہیں اور ہالار اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں دیکھ کر دکھی ہوتے ہیں۔

ملک کے ممتاز کالمنگار یاسر پیرزادہ کو اعزاز حاصل ہے کے انہوں نے سی ایس ایس امتحان میں بیٹھنے کے لیے درکار 21 سالہ عمر پوری ہوتے ہی گریجوئشن کے بنیاد پر سی ایس ایس کے امتحان میں حصہ لیا اور پہلی ہی کوشش میں کامیاب ہوئے۔ چوبیسویں کامن کے یاسر پیرزادہ انلینڈ روینیو سروس(آئی آر ایس) گروپ کے ہیں۔

یاسر پیرزادہ کے مطابق ملک میں بیروزگاری بڑھ رہی ہے میرٹ پر نوکری ملنا مشکل ہوگیا ہے۔ "ہمیں سرکاری نوکری جیسی آسان اور کم کام والی نوکری کے عادت بھی ہوگئے ہے، ہمیں کام والی نہیں وظیفے والی نوکری چاہیے، ملک کے نوجوانوں میں سی ایس ایس کرنے کا رجحان دن بہ دن بڑھ رہا ہے، سی ایس ایس کے امتحان میں حصہ لینے والوں کے تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امیدواروں کے اضافہ کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت نے اسکریننگ ٹیسٹ متعارف کروائی۔ اب ملک کے سب سے بڑے مقابلے کے امتحان میں حصہ لینے کے لیے امیدوار کو اسکریننگ ٹیسٹ میں اپنی اہلیت ثابت کرنی پڑتی ہے۔

Shah Rukh

فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی ویب سائٹ سے سی ایس ایس کے امتحانات اور خالی نشستوں کے ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق سی ایس ایس کے امتحان میں حصہ لینے والوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور کامیاب ہونے والے امیدواروں میں لڑکیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

2021 میں 436 خالی نشستون کے لیے تحریری امتحان میں 17 ہزار دو سو 40 امیدوار بیٹھے جن میں سے 365 کو کامیابی نصیب ہوئی۔ ان میں دو سو 18 لڑکے اور ایک سو 31 لڑکیاں شامل رہیں۔

سی ایس ایس 2022 میں 463 خالی نشستوں کے لیے 20 ہزار دو سو 62 امیدواروں نے قسمت آزمائی اور تحریری امتحان میں تین سو 93 امیدوار کامیاب ہوئے۔ جن میں 223 لڑکے اور 151 لڑکیاں ہیں۔

سی ایس ایس قابلیت اور تعلیمی معیار کا معیار طئہ نہیں کرتا؟

سی ایس ایس کے تحریری امتحان کے کے نتائج آتے ہی ملک میں تعلیمی معیار گرنے کی بحث شروع ہو جاتی ہے۔ یاسر پیرزادہ اس مفروضے کے بنیاد کو ہی غلط سمجھتے ہیں۔ پیرزادہ کے مطابق سی ایس ایس نوکری کے متلاشی نوجواںوں کی چھانٹی کا طریقہ کار ہے۔

"فرض کریں حکومت پاکستان ایک کمپنی ہے جسے تین سو اسامیاں پر کرنے کے لیے مخصوص اہلیت کے نوجوان درکار ہیں۔ یہ کمپنی فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے اخبار میں اشتہار دیتی ہے نوکری کے لیے قابلیت کا معیار مقرر کرتی ہے اور پھر اس کے لیے ایک ایسا امتحان وضع کرتی ہے جس کے نتیجے میں اسے ایک آسامی کے لیے تین سے چار امیدوار مل جائیں تاکے وہ آسانی سے ان کی چھانٹی کر کے موزون امیدوار کو اپنی نوکری پر رکھ سکے۔”

یاسر پیرزادہ کہتے ہیں سی ایس ایس کے امتحان کو تعلیمی معیار کے بہتر ہونے اور گرنے سے جوڑنے کے مشہور مفروضے بالکل غلط ہیں۔

Facebook Comments HS

اشفاق لغاری

لکھاری، میڈیا سائنسز کا طالب علم ہے۔ پڑھنا، لکھنا، گھومنا اور سیاحت کرنا اس کے محبوب کاموں میں شامل ہیں۔

ashfaq-laghari has 40 posts and counting.See all posts by ashfaq-laghari