گلگت بلتستان اور مسلکی منافرت کی ہوا!



گلگت بلتستان وہ خطہ ہے جس میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ بھائی بھائی بن کر رہتے ہیں۔ اس خطے میں لوگوں کو اپنے عقیدے کے مطابق عبادات اور اعمال سرانجام دینے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ اس سرزمین کے باسی مسلکی اختلافات کو اہمیت دیے بغیر ایک دوسرے سے شیر و شکر ہو کر پر سکون زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے کے باوجود ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک رہتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کاروبار کرتے ہیں، ایک دوسرے کے مشورے اور تعاون سے خطے کی ترقی و پیشرفت کے لئے کام کرتے ہیں اور اجتماعی مفادات کے حصول کے لئے وہ متحد ہو کر سیاسی میدان میں فعال رہتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ خطہ گلگت بلتستان پورے پاکستان کے لئے امنیت کا رول ماڈل ہے۔ پاکستان کے اندر اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو جہاں کہیں مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے ایسے مسلمانوں کی مثال دینے کی ضرورت پڑھ جائے جو رشتہ اخوت میں بندھے ہوئے ہوں تو وہ گلگت بلتستان کے مسلمانوں کی مثال دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ مختصر بات یہ ہے کہ امن و اتحاد گلگت بلتستان کے باسی مسلمانوں کی پہچان ہیں۔ انہی خصوصیات کو پسند کرتے ہوئے دین مبین اسلام کی تعلیمات سے آگاہ افراد نے خطہ امن گلگت بلتستان کی ترقی و تکاملی کے لئے دن رات محنت کی، اہالیان گلگت بلتستان کے درمیان پائے جانے والے گوہر اتحاد، اتفاق، ہمدلی اور بھائی چارگی کو مزید مستحکم کرنے پر کام کیا، ان کے درمیان مسلکی منافرت اور فرقہ واریت کی آگ لگانے کی کوشش کرنے والوں کے برے عزائم کو بروقت خاک میں ملاتے رہے۔

اگر چہ ماضی میں کچھ جاہلوں اور ناعاقبت اندیش افراد کی منفی سوچ اور غلط حرکتوں کی وجہ سے خطہ امن گلگت بلتستان کو نقصان پہنچتا رہا ہے تاہم وہاں کے باشعور علماء کرام اور عمائدین نے اپنے لوگوں کو ان برے لوگوں کے چہرے کی نقاب کشائی کرتے ہوئے حقائق سے واقف کرانے میں بھرپور کردار ادا کیا ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنے مقاصد شوم میں ناکام ہوتے رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایک بار پھر خطہ گلگت بلتستان کی امنیت ہضم نہ ہونے والے افراد گلگت بلتستان میں مسلکی منافرت کو ہوا دے کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں!

یاد رہے ان سازشیوں کا تعلق گلگت بلتستان سے نہیں ہے، لیکن وہ دور سے اس خطے سے تعلق رکھنے والے کچھ کرائے کے افراد کو بھرپور اپنے مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ جب کچھ سازشی افراد نے چور دروازے سے نام نہاد تحفظ ناموس صحابہ بل پارلیمنٹ میں پاس کروایا ہے تب سے خطہ امن گلگت بلتستان میں موجود کرائے کے افراد کو متحرک ہونے کا موقع ملا! چنانچہ انہوں نے آغا باقر حسینی کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی۔

جب یہ خبر پورے گلگت بلتستان میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی تو لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور بھرپور احتجاج کرنا شروع کر دیا اور یہ سلسلہ روز بروز بڑھتا دکھائی دے رہا ہے! سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب عرصہ دراز سے شیعہ سنی، نور بخشیہ، اہلحدیث اور اسماعیلی برادری کو اپنے عقیدے کے اظہار کی مکمل آزادی ہے اور وہ اس کا اظہار بھی کرتے آرہے ہیں تو اچانک دیامر سے کچھ افراد کو ایک مسلک کے عقیدے پر قدغن لگانے کی ہمت کیسے پیدا ہوئی؟

انہیں یہ جرات کیسے ہوئی کہ وہ ایک بہت بڑے مکتب فکر کے عقیدے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کریں؟ باشعور افراد کو سمجھنا چاہیے کہ یہ ایک فتنہ ہے جس کا مقصد گلگت بلتستان کے باسیوں کو ایک دوسرے کا دست گریباں کرنا ہے اور فرقہ واریت کی آگ بھڑکا کر گلگت بلتستان کی امنیت کو سبوتاژ کرنا ہے۔ اگر مختلف مسالک کے علمائے کرام سر جوڑ کر بروقت اس فتنے پر قابو پانے کی کوشش نہ کریں تو یہ جانی اور مالی بڑے نقصانات کے لئے پیش خیمہ ثابت ہونے میں دیر نہیں لگے گی!

ظاہر ہے کہ فرقہ واریت کا نتیجہ سوائے قیمتی جانوں اور املاک کے نقصان کے کیا نکل سکتا ہے؟ گلگت بلتستان میں حالیہ پیدا ہونے والے فتنے کو دفنانے کے لئے کردار ادا کرنا ہر باشعور فرد کی ذمہ داری ہے۔ گلگت بلتستان کے تمام باشعور افراد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس فتنے کے اصلی محرکات کو سمجھنے کی کوشش کریں اور جذبات میں آ کر ایک دوسرے پر لعن طعن کر کے آپس کی محبت اور بھائی چارگی کو ٹھیس پہنچانے کے بجائے اس فتنے کے اصلی عناصر و عوامل کو سمجھ کر ان کی بیخ کنی کرنے پر اپنی توانائیاں صرف کریں۔

اسی طرح ضروری ہے کہ وہ تدبر سے کام لیں اور سوچیں کہ کن عناصر کو اس خطے کا امن ہضم نہیں ہو رہے ہیں؟ ان افراد کی شناسائی کر کے سزا دلوانا بھی ضروری ہے جو یوٹیوب اور فیس بک پر اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لیے سوشل میڈیا پر اس فتنے کو ہوا دے رہے ہیں؟ یاد رہے کہ فرقہ واریت کی آگ میں گلگت بلتستان کے خوبصورت خطے کو جلنے سے بچانے کے لئے گلگت بلتستان کے فرد فرد کو اپنے حصے کا دیا جلانا ضروری ہے، یہ تب ممکن ہو گا جب ہر ایک فرقہ واریت کے بھیانک نتائج سے آگاہی حاصل کرنے کی کوشش کرے گا اور حالیہ فتنے کی آگ بجھانے کو اپنی ذمہ داری ہونے کا احساس کرے گا۔

یہ بات ذہن نشین رہے کہ خدا نخواستہ اگر اس فتنے کو پھلنے پھولنے کا موقع ملے تو اس کے سنگین نتائج سے گلگت بلتستان کا ہر شخص متاثر ہو گا اور ہر ایک کو بدامنی کی نحوست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لہذا دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ اس فتنے کو خفا کرنے کے حوالے سے ہر ایک احساس مسؤلیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کردار ادا کرے، کیونکہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں امنیت کا حصول اور بقا احساس مسؤلیت سے جڑی ہوئی ہے، ان کے درمیان ناقابل انفکاک اتصال پایا جاتا ہے۔

امن سے مالا مال زندگی کے حصول اور بقا کے لئے احساس مسؤلیت سنگ بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاریخ بشریت اس بات پر گواہ ہے کہ ابتداء آفرینش سے لے کر آج تک امنیت کا سہرا ان افراد کے سر سجھا ہے جنہوں نے اپنی زندگی میں احساس مسؤلیت کا مظاہرہ کیا، جنہوں نے صرف اپنے شکم کی فکر نہیں کی بلکہ اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اجتماعی اور قومی مفادات کے بارے میں سوچا۔ احساس مسؤلیت ایک بہت بڑا وظیفہ ہے جس سے کوئی بھی انسان مستثنٰی نہیں۔

احساس مسؤلیت پیدا کرنے کے لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان فکری طور پر بیدار ہو۔ فکری بیداری سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنی غافل فکر کو غفلت کی نیند سے بیدار کرے، اپنے خوابیدہ ضمیر کو جگائے، دشمنوں کے عزائم اور سازشوں سے آگاہ رہے، خود کو اجتماعی ذمہ داریوں سے آزاد مطلق نہ سمجھے، بلکہ اس اعتقاد کو اپنے ذہن میں راسخ کرے کہ اللہ رب العزت نے بے شمار نعمتوں سے ہمیں نوازا ہے، بے پناہ صلاحیتوں اور توانائیوں سے ہمیں مالا مال فرمایا ہے، تو یہ ساری نعمتیں یونہی بغیر کسی مقصد کے تو یقیناً نہیں دی گئی ہیں اس لئے کہ ایک عام انسان اپنی خداداد قوت عقل کے حکم کے مطابق بدون غرض کسی دوسرے انسان کو (خواہ وہ اس کا کتنا قریبی ہی کیوں نہ ہو) بے ارزش کوئی چھوٹی سی چیز دینے کے لئے حاضر نہیں ہے، کوئی چھوٹا سا کام کرنے کے لئے راضی نہیں ہے تو خالق عقل و جہاں کے عطیات بطریق اولی بہدف ہوا کرتے ہیں۔

ان اہداف و مقاصد کی جانب خالق کائنات نے اپنی کتاب میں جابجا مکتوباً اور رہبران حق کے توسط سے تصریح فرمائی ہے۔ ان تک رسائی حاصل کرنے کے لئے احساس مسؤلیت کو اپنے اندر پیدا کر کے اسے پروان چڑھانا نہایت ضروری ہے۔ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ کائنات کا پورا نظام مسؤلیت کی بنیاد پر قائم و دائم ہے۔ انسان کی زندگی عبارت ہے مسؤلیت سے۔ البتہ مسؤلیت کی نوعیت مختلف ہے۔ سارے انسانوں کے دوش پر ایک ہی طرح کی مسؤلیت سوار نہیں، بلکہ کمی و بیشی، سنگینی و سبکی کے اعتبار سے افراد کی مسؤلیت میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔

اجتماعی مسائل میں سب سے زیادہ ذمہ داری اور سنگین مسؤلیت اہل علم، صاحبان قلم، اساتذہ کرام اور مذہبی راہنما دانش مندوں کے دوش پر سوار ہے۔ ہماری آرزو یہ ہے کہ اہالیان گلگت بلتستان ذرا جذبات کے خول سے باہر نکل کر اس فتنے کے محرکات کو سمجھیں، سازشی افراد اور ان کے برے عزائم کو پہچان لیں اور خطہ امن گلگت بلتستان کے تمام باشعور افراد مل کر اتحاد کی طاقت سے لیس ہو کر میڈیا، سوشل میڈیا اور معاشرے کے اندر گلگت بلتستان کی امنیت کی بقاء کے لئے مہم چلائیں تاکہ گلگت بلتستان کی امنیت پر آنچ آنے نہ پائے۔

دلوں میں حب وطن ہے اگر تو ایک رہو
نکھارنا یہ چمن ہے اگر تو ایک رہو
یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں
یہ دنیا نفرتوں کے آخری اسٹیج پہ ہے
علاج اس کا محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے
جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایا جائے

Facebook Comments HS