عقل کو آگہی سے خطرہ ہے


چند برس پہلے ایک عجب گھٹن کا احساس تھا۔ بے چینی تھی، بے کلی تھی، اضطراب تھا۔ اب نہ بے چینی ہے نہ بے کلی نہ اضطراب۔ وجود رہ گیا ہے سو بھی چلتی پھرتی نعش ہے۔ اب میت کے کیا احساسات اور کیا محسوسات اور اس سے گلا بھی کیا۔ آدم زادوں کے جس جھنڈ کا ہم حصہ ہیں وہاں سب کے سب کم و بیش ایک ہی کیفیت میں سفر حیات کو کاٹتے جا رہے ہیں۔ آنکھیں کھلی ہیں، عقل موقوف، جبکہ زبان محض چند لایعنی آوازیں نکالنے کی صلاحیت تک محدود رہ گئی ہے۔

اب اس کیفیت حیات میں سوال اٹھانے یا سوال رکھنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، چہ جائیکہ کوئی آگہی کی بات کرے اور آدم زادوں کے اس جھنڈ کا حصہ بھی بنا رہے۔ آگہی گئی بھاڑ میں، کوئی معقول بات ہی کر کے دکھا دے تو لگ پتا جائے گا۔

میری دانست میں پچھلے برسوں تک جن معنوی آوازوں سے شناسائی تھی، اب بیشتر تارک وطن ہیں۔ رہی بات انور مقصود صاحب جیسے لوگوں کی کہ جو نہ تارک وطن ہو سکتے ہیں اور نہ تقیہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے برملا کہ دیا کہ اب تو مجھ سے بس نان خطائی کے فضائل سن لیں۔ اور یہ بات معقول بھی ہے۔ اب اس عمر اور خستہ حالی میں حافظ کا حلوہ تو ہضم ہونے سے رہا۔

سنتے ہیں دشمن چاند پر پہنچ گیا ہے۔ جائے تو جائے ہماری بلا سے۔ ہم نے پچھلی ستر دہائیوں سے جو چاند چڑھائے ہیں ہمسایہ ان میں سے ایک تک بھی پہنچ کر دکھائے تو مانیں۔

میں نے سنہ 2001 کے اوائل میں جامعہ قائد اعظم اسلام آباد سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی تھی تب ہمارے محترم اساتذہ نے سال آخر میں سیمینار کلاسز کے دوران ایک جملہ کہا تھا، کہ اس ڈگری کے دوران آپ محض یہ سیکھتے ہیں کہ اس مضمون کو کس طرح معروضیت کے ساتھ پڑھ کر حقائق و نتائج تک پہنچ سکتے ہیں۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ کتنی گہرائی میں جانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

پہلے جب ایسی باتیں نجی محفلوں میں کرتے تھے تو ایک طبقہ کہ جس کو ہم کم پڑھا لکھا گردانتے تھے، وہ کہتے تھے، جاؤ میاں ہم سے نہیں ہوگی یہ جگالی، یہ کتابی باتیں ہیں جن کا زندگی کی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

اب وقت کی ایسی چکی میں جو کہ نظریہ پاکستان اور نظریہ ضرورت کے دو پاٹوں سے بنائی گئی، جب ہم خود پسے اور دوسروں کو پستے دیکھا تو عقل ٹھکانے آئی کہ یہ معروضیت، استدلال اور علم کی گردان کتابی ہی تو ہے۔ خود اندازہ کر لیں کہ جب ایسا منہج رائج ہو جائے وہاں عقل کیا تب ہی ٹھکانے نہیں لگے گی، جب وہ پوری طرح آگہی سے بدظن نہ ہو جائے۔

وطن عزیز میں کاروبار زندگی کو جس ڈگر پہ لایا جا چکا ہے کہ جہاں اقربا پروری برسر مسند شاہی ہونے کی سند ہو، وہاں قابلیت کون سی جھک مارنے کے لئے حاصل کی جائے گی، سوائے تارک وطن ہونے کے جو بھی اب ہمارے پاسپورٹ کے لئے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔

ویسے یکساں تعلیمی نصاب کا مقصود بھی تو یہی تھا کہ قوم کو اوپر تو نہیں لے جایا جا سکتا کیوں نہ سب کو ایک ہی سی پستی میں دھکیل دیا جائے۔ عقل پر نقد لگا کر سمجھ کو ہی مفلوج کر دیا جائے پھر آگہی کے لئے جگہ ہی کہاں بچے گی۔

ہم ابھی تک یہ نہیں سمجھ پائے کہ ناقص معلومات سے صفحے بھر کے اس پر رنگین پوشش اور پکی جلد چڑھانے سے وہ مخزن علم نہیں بن جاتا۔ جب آپ سائنس تک کی کتابوں میں مشاہدے، تجربے اور تجسس کو چھوڑ، عقیدے کو بالاتر رکھیں گے تو ظاہر سی بات ہے پھر تفکر پر بھی مولوی کا ہی راج چلے گا۔

نتیجتاً جو انجنیئر، ڈاکٹر، کیمسٹ، فزسسٹ اور بیالوجسٹ اس فیکٹری سے مینوفیکچر ہوں گے آپ ان کو تجربہ گاہ میں جانے سے زیادہ مذہبی مبلغ اور مجاہد ملت بننے کو ترجیح دیتے ہوئے پائیں گے۔

7 دہائیوں سے جس نفرت انگیزی کے بیانئیے کی غلاظت کو خوراک بنا کر ایک جھنڈ کی پرورش کی گئی ہو اور ان کی وحشت کو پورا کرنے کے لئے قوانین بنائے گئے ہوں۔ وہاں جڑانوالہ نہیں ہو گا تو کیا چندریان مشن ہو گا۔ ہم نے بلاشبہ درندگی کے فروغ کو قومی مشن بنایا ہوا ہے۔ اور اپنی تمام تر توانائیاں اس کو تقویت دینے والے قوانین بنانے میں صرف کر دیں کہ کوئی آگہی کی جستجو ہی نہ کرے۔

ویسے تو آگہی کے بغیر زندگی بمثل مردار ہی ہے پر سانس آنے کی نعمت بھی عجیب کیف رکھتی ہے۔ بندا جاہل بننا پسند کر لیتا ہے پر سانس کی ڈور ٹوٹنے سے ڈرتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ہمارے زعیم اذہان اب نان خطائی کے فضائل بتانے تک رہ گئے ہیں۔

اپ کو اگر پھر بھی کھل کے بات کرنے کی کھجلی ہو رہی ہو تو بیکری کی نان خطائی اور حافظ ملتانی حلوے کے صحت پر مضر اثرات پر بات کر سکتے ہیں، لیکن وہ بھی تب تک کہ جب تک ان پر بات کرنے کے خلاف کوئی بل پاس نہیں ہوتا۔ کیونکہ اب ہماری قومی کیفیت وہی ہے جو حضرت جون ایلیا اپنے اس شعر میں کہ گئے کہ

ہے عجب کچھ معاملہ درپیش
عقل کو آگہی سے خطرہ ہے۔

Facebook Comments HS