پھولوں کی مرجھاتی پتیوں کا نوحہ

کربلا کیا ہے؟ ایک تاریخی المیہ ہے۔ ایک میدان ہے جو حق اور ناحق، ظلمت اور روشنی، ظالم اور مظلوم کے درمیان جنگ اور قربانی کا نام ہے۔ حسینیت اور یزیدیت میں معرکہ ہے کربلا۔ کرب و بلا یعنی تکلیف اور مصیبت!
حسینیت علامتی انداز میں آج بھی موجود ہے اور یزیدیت بھی نہیں مٹ سکی! اب تو یزیدیت نفسیات بن چکی ہے۔ اور معصومیت اس یزیدی نفسیات کے پہاڑ کے نیچے آ کر نہ صرف کچلی جا رہی ہے پر اس کی عزت و آبرو لہو لہان ہو رہی ہے۔
پاکستان بالخصوص سندھ کربلا کا میدان ہے جہاں معصوم بچوں اور بچیوں کی عزت و آبرو کے ساتھ ساتھ ان کی زندگیوں سے جو انسانیت سوز اور وحشیانہ سلوک ہو رہا ہے اس سے شرافت اور انسانیت کا سر شرم سے جھک گیا ہے۔ ان کم سن بچوں اور بچیوں کی زندگی سے کوئی انصاف نہیں ہو رہا۔ سندھ میں کئی واقعات رونما ہوئے اور دب گئے۔
سندھ میں اب اکثر حویلیاں بھی کربلا بن گئی ہیں۔ کچھ دن پہلے پیر آف رانی پور ضلع خیرپور میرس کی حویلی میں 10 سالہ بچی فاطمہ جو حویلی کی کنیز تھی۔ اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی جس کی میڈیکل رپورٹ نے تصدیق کی، اس پر تشدد کیا گیا۔ پورے جسم پر ظالمانہ تشدد کے نشانات تھے۔ اس کے بال کاٹے گئے۔ بربریت اور یزیدیت اور کیا ہوگی کہ بچی کی لاش خاموشی سے دفنائی گئی۔ بعد میں حویلی کے سی سی ٹی وی کیمرہ کے وڈیوز سوشل میڈیا پر وائر ہوئے اور پھر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر خبریں چلیں تو ملزم پیر اور دوسرے ملوث لوگ گرفتار ہوئے۔ (ملزم کی بیوی حبا شاہ ابھی گرفتار نہیں ہوئی)۔ معصوم بچی فاطمہ فرڑو کی قبر کشائی کی گئی۔
اس ساری صورتحال اور روئیداد کی روشنی میں یہ لگ رہا تھا کہ اس سے انصاف ہو گا اور یزیدیت کیفرکردار تک پہنچیں گے مگر ایسا نہیں ہوا اور شاید ہونا بھی نہیں تھا۔ کیوں کہ کہا جاتا ہے کہ پیر آف رانی پور کے کچھ پیر پی پی پی، کچھ تحریک انصاف، کچھ نون لیگ اور کچھ فنکشنل لیگ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس صورت حال میں معصوم فاطمہ کو انصاف ملنا سیب کے درخت میں انار تلاش کرنے کے مترادف تھا اور یہی ہوا ہے۔
پیر آزاد ہو گئے ہیں۔ کچھ فرار ہو گئے ہیں۔ اب اس معصوم بچی سے انصاف ہونا ایک نوحہ بن گیا ہے جیسے اس سے پہلے پھولوں کی مرجھاتی پتیوں جیسی بچیوں کی زندگی نوحہ بن گئی۔ فضا میں آج بھی ان پھولوں کی مرجھاتی پتیوں کا نوحہ گونج رہا ہے اور کربلا کی یاد تازہ کر رہا ہے۔ کائنات رو رہی ہے۔ حسینیت غمگین ہے اور یزیدیت سر اٹھائے گھوم رہی ہے۔
(فاطمہ فرڑو کی قبر کشائی کے بعد کی تصویر)


