استحصال زدہ پاکستان

انتخابات کی جانب بڑھتے پاکستان کو مشکلات کا سامنا ہے، سیاسی میدان میں استحکام آ سکا نہ ہی معاشی میدان میں بلکہ حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں، ملک کا سارا سسٹم بیٹھ چکا ہے، اتنی بدنظمی، افراتفری اور گھٹن زدہ ماحول میں الیکشن کا انعقاد بھی چیلنج بنتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں انتخابات وقت کی ضرورت ہے وہاں اس کا انعقاد بھی آزمائش بنتا جا رہا ہے، پاکستان کو آج جن مشکلات کا سامنا ہے اس کی وجہ پالیسی سازوں کی غلامانہ سوچ ہے۔
دوسری جانب برسوں سے جو پاکستان کے لوگوں کا استحصال ہوتا رہا اس کے اثرات آنا شروع ہوگئے ہیں، معاشی اور جمہوری نظام میں ہائبرڈ کلچر ہونے کے باعث کی پاکستانی قوم کو اس کا نقصان اٹھانا پڑا اور یہ سلسلہ دہائیوں سے چلتا رہا۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں بولنا گناہ بن جائے، آزادی زنداں میں جکڑ لی جائے، حق کے لئے آواز اٹھانا جرم بن جائے وہاں آپ کو انسان زندہ تو نظر آئیں گے لیکن ان کا دل بغیر احساس کے اور دماغ بغیر سوچ کے ہوگا۔ جس نظام نے لوگوں سے سننے سوچنے اور بولنے کی صلاحیت چھینی ہے اب وہی سسٹم ان کی زندگی لینے کے در پہ ہے۔
ریکارڈ سطح پر مہنگائی نے لوگوں کو ان کی زندگی سے محروم کرنا شروع کر دیا ہے، دن بہ دن بجلی کے بڑھتے ہوئے ریٹ کی وجہ سے عوام میں شدید غم و غصے کی لہر پائی جاتی ہے، بیروزگاری کے اس دور میں پہلے تو روزگار ڈھونڈنا چیلنج بن گیا ہے اور اگر مل بھی جائے تو اخراجات تنخواہ سے دو سے تین گنا زیادہ ہوتے ہیں۔ معاشی اشارے منفی اور ڈالر ہے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا، روزانہ کی بنیاد پر ریکارڈ بنا رہا ہے، ملک میں سرمایہ کاری رہی نہ کاروبار۔
حالات قابو سے باہر ہوتے جا رہے ہیں اور مہنگائی کے اس دور میں تو جیسے بڑھتے ہوئے بجلی کے بل اور پٹرول نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہو، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پورے ملک میں ہی احتجاج کی صورت میں آگ بھڑک اٹھی اور یہ اب رکنے کا نام نہیں لے رہی بلکہ ان سب کو لپیٹ میں لے گی جو اس کے ذمہ دار ہیں۔
حکمرانوں کو سوچنا ہوگا کہ آخر کیوں سخت مایوسی کا شکار ہو کر عوام نے احتجاج کا فیصلہ کیا، حکمران طبقے نے وہ بوجھ متوسط لوگوں پر ڈالا جس کو برداشت کرنے کی صلاحیت وہ رکھتے ہی نہیں، بجلی کے بلز میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور حکومت یہ دہائی دیتی ہے کہ آئی ایم ایف نے پاور ڈویژن کے خسارے کی وجہ سے یہ کرنے کو کہا ہے لیکن اگر ایسا ہے تو سالانہ 520 ارب سے زیادہ کی بجلی چوری کو روکنے کے لئے کیا انتظامات کئے گئے؟ اس فرسودہ بجلی کے ترسیلی نظام کو جدید کرنے کے لیے کیا اقدامات لئے گئے؟ لائن لاسز کو کیوں نہ کم کیا گیا؟ لہذا کچھ بھی ایسا اقدام نہیں کیا گیا جس سے خسارے کم ہوں بلکہ حکومت کا ایک ہی ارادہ ہے اور وہ یہ کہ ٹیکسز میں اضافہ کر کے خسارے کم کئے جائیں جس کا بوجھ عام آدمی کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
لیکن اب صبر جواب دینے کو ہے، سڑک پر ٹائروں کو آگ لگاتی عوام نے اب ان سے جواب طلبی کا فیصلہ کیا ہے جو ان سب کے قصوروار ہیں، منظر پر لگنے والی آگ کا دھواں تو سب کو دکھ رہا ہے لیکن اس دھویں کے پیچھے آگ کا ذکر نہیں کر رہا کوئی، اس مہنگائی کے احتجاج کے پیچھے بولنے سننے اور حقوق کے استحصال کی وہ آگ ہے جس کا شکار عوام دہائیوں سے ہوتی رہی جو اب بھڑک اٹھی، اب احتجاج کرتے عوام بولنے اور سوچنے کی پابندی کے خلاف اعلان جنگ کرنے کو ہیں۔

