اپنے حصے کا کام

غمِ دوراں کو قابلِ برداشت حد تک رکھنے کے لئے قدرت نے کچھ ایسا انتظام کر دیا تھا کہ ہر تھوڑے عرصے بعد موقع محل تبدیل ہو جاتا تھا۔ نئے لوگ ‘ نئی جگہ ‘ نئی ذمہ داریاں’ نئے مواقع ‘ نئے امکانات اور سکھنے کو نئی باتیں۔ یہ سب مل کر مصروفیت کا ایسا جال بُنتے کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوتا۔ رہی سہی کسر بہتر سے بہترین اور کام کے معیار کو اعلیٰ بنانے کے چکر میں پوری ہو جاتی۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ لاہور کے مضافات میں ایک نجی کمپنی میں سرگرم عمل تھے اور اپنے حصے کا گیان دھیان لگا رہے تھے۔ ویسے لاہور کے لئے اب مضافات کا لفظ بے معنی سا لگتا ہے’ پطرس بخاری نے فرمایا تھا کہ لاہور کے اردگرد بھی لاہور ہی ہے’ ان کی کہی یہ بات آج بھی سچ ہے ‘ وہ دن بھی اب آیا ہی چاہتا ہے کہ جب گنڈا سنگھ (قصور) صرف پاکستان ہی کی نہیں بلکہ لاہور کی بھی سرحد کہلائے گا۔ وہیں ملاقات ایک ایسی شخصیت سے ہوئی کہ ان کا سکھایا ہوا آج بھی کام دے رہا ہے۔ اگر یوں کہا جائے کہ یہاں تک پہنچے ہی ان کی ” دیون ہار” شخصیت کے باعث ہیں تو قطعاً بھی مبالغہ آرائی نہ ہوگی۔
صاحب نہ صرف ایک نابغہ روزگار شخصیت تھے بلکہ انہیں پیشہ وارانہ گفتگو میں بھی ملکہ حاصل تھا۔ جیسے وہ اپنے کام اور اپنی ذات میں بادشاہ تھے یہ "ملکہ” انہی کی ہونی بنتی تھی۔ سامنے والے بندے میں یقین اور اعتماد ایسے بھر دیتے تھے کہ اس کا بس نہیں چلتا تھا کہ اکیلا ہی سب سے ٹکر لے جائے۔ جوش ایسا بھر دیتے تھے کہ دوسروں کے حصے کا کام بھی کرنا شروع کر دے بالکل ویسے جیسے مولانا طارق جمیل صاحب کا بیان سن کے مومنین فوراً چلے میں چلنے کی حامی بھر لیتے تھے۔
عصر کا وقت ہو چلا تھا لیکن کام کا طے کردہ ہدف ابھی تک پورا ہوتا نظر نہیں آ رہا تھا۔ فورک لفٹر کی اشد ضرورت تھی کہ کام کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔ بھاگ دوڑ شروع ہوئی لیکن فورک لفٹر کو چلانے والے سب حضرات چھٹی کرچکے تھَے۔ دفتر واپسی پہ ایک متبادل خیال کوندا۔ دو تین لوگ اکھٹے کئے اور محاذ پہ نکل گئے۔ چند گھنٹوں کی مشقت کے بعد جب پسینے سے شرابور دفتر واپسی ہوئی تو ایک دوست نے اس جان٘فشانی کی وجہ پوچھی۔
اور تو کچھ سوجھا نہیں ‘ فورک لفٹر چلانے والوں کی مسقتل ملازمت کی شان میں قصیدہ گوئی کے بعد کہا کہ لگتا ہے اب فورک لفٹر بھی چلانے کی تربیت لینی پڑے گی تو دوست نے خوب بات کہی کہ کیا کیا اپنے ذمے لو گے۔ اللہ نے بھی لوگوں میں کام کی تقسیم کر رکھی ہے ‘ کیوں کسی کی روزی روٹی کو لات مارتے ہو۔ ہر کسی کی کوئی نہ کوئی ڈیوٹی ہے ‘ اپنا اپنا کام کرو۔ اس کو بھی کمانے دو اور خود بھی کماوَ۔
فی زمانہ ایسا ہی ہے ‘ ہر شخص دوسرے سے منفرد ہے ‘ یہی انفرادیت اسے اہنے جیسے ہم نفسوں سے ممتاز کرتی ہے۔ معاشرے میں بہتری کے لئے سب کو کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر کوئی اپنی اپنی صلاحیت اور قابلیت سے اس میں اپنا حصہ بقدرِ جثہ ڈال سکتا ہے۔ جو عملاً کچھ کر سکتے ہیں وہ عملی طور پہ متحرک رہیں ‘ جو معاشی استطاعت رکھتے ہیں وہ سخاوت کا مظاہرہ کریں۔ جو قلم کو ہتھیار بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ اپنی تحاریر سے ذہنوں کو نمو بخشیں۔ جن کو قدرت نے فنِ خطابت سے نوازا ہے وہ اپنے الفاظ سے ذہنوں کی تربیت اور پرورش کریں۔
اگر سب لوگ ایک ہی کام کو لگ جائیں گے تو باقی کے کام کون کرے گا۔ سارے ہی تبلیغ پہ نکل جائیں گے تو تبلیغ والوں کی کون سنےگا۔ اسی لئے شاید کہا گیا کہ تم میں ‘ ایک جماعت ‘ ہونی چاہئیے جو امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرے۔ ایسے ہی باقی کاموں کے لئے بھی لوگ مختص ہونے چاہئیں کہ گلشن کا کاروبار چلتا رہے

