اب راج کرے گی خلق خدا
31 اگست 2023 کو آزاد ریاست جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں عوام کی جانب سے احتجاج کیا جا رہا ہے۔ اس احتجاج میں مظفر آباد کے تاجران، سول سوسائٹی، نوجوان سیاسی و سماجی نمائندگان، بلدیاتی انتخابات کے ذریعے منتخب ہونے والے کونسلر، طالب علم، ٹرانسپورٹ یونین، مختصرً ہر مکتبہ فکر اور ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔
کیونکہ اس تحریک میں حصہ لینے والے تمام لوگ سیاسی اور سماجی اور کسی بھی طرح کے تعصبات سے بالاتر ہو کر عوام کے حقوق کی جنگ لڑنے کے لیے نکل پڑے ہیں تو اسی نسبت سے اس تحریک کہ امور کو چلانے اور اور کامیابی کے لیے جس کمیٹی کا اعلان کیا گیا ہے اس کا نام عوامی ایکشن کمیٹی رکھا گیا ہے۔ یوں تو باقی کشمیر کی شہر مظفر آباد میں بالخصوص اور ڈویژن مظفر آباد میں بالعموم عوام کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے، اور شاید اگر ان مسائل پر اگر تفصیلات لکھنی شروع کی جائیں تو شاید الفاظ ہی کم پڑ جائیں۔ کسی بھی معاشرے میں جب حکمران طبقے یا وہ لوگ جن کو ذمہ داریاں سونپ دی جاتی ہیں، جب بے حس ہو جاتے ہیں تو مسائل کم بھی ہوں تو زیادہ لگنے لگ جاتے ہیں۔ یہاں پر بہت سے مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ جو کہ پورے پاکستان میں ایک جیسا ہے اور وہ ہے کہ امیر، امیر تر ہوتا جا رہا ہے اور غریب، غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔
ڈویژن مظفر آباد میں ہونے والے احتجاج کی اگر بات کی جائے تو اس اس میں سب سے بڑا مسئلہ سرکاری آٹے کی فراہمی میں نا اہلی اور بجلی کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافہ ہے۔ ظلم کی حد یہ ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے وزیراعظم انوار الحق، جن کو اس موقع پر شہر مظفر آباد میں موجود ہونا چاہیے تھا تاکہ وہ اس تحریک کی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کرتے یا اس کا کوئی حل نکالتے، وہ حسب معمول اور حسب روایت کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرنے پر ہی اتفاق کیے بیٹھے ہیں۔
بجلی کی قیمتوں میں اضافہ، شاید اس کو اضافہ کہنا مناسب نہ ہو گا۔ کیونکہ اضافہ بھی ایک حد تک ہوتا ہے یہ ایک ظلم عظیم ہے جو کہ اس دھرتی کے لوگوں کے ساتھ کیا جا رہا ہے جو اپنی ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور پیدا کر رہے ہیں۔ نیلم جہلم پروجیکٹ ہو یا پھر منگلا ڈیم کی بجلی، کوٹلی میں لگے ہوئے بجلی کے پروجیکٹس ہوں یا پھر پترینڈ کے بجلی گھر کا پروجیکٹ، عام آدمی یہ سوال کرتا ہے کہ جب چار روپے فی یونٹ بجلی جب آزاد کشمیر حکومت پاکستان حکومت کو دیتی ہے تو وہی بجلی 46 روپے منافع سے لے واپس 50 روپے میں کیوں آزاد کشمیر کے لوگوں کو بیچی جاتی ہے۔ کیا ایسا کوئی نظام نہیں بنایا جا سکتا کہ جن علاقوں میں بجلی پیدا ہوتی ہے پہلے ان کے لوگوں کی ضروریات پوری کی جائیں اور پھر جو وہاں سے بچ جائے اس کو قومی بجلی کے نظام میں شامل کیا جائے۔ کیونکہ یہ استحصال کی بدترین صورت ہوا کرتی ہے جب آپ کسی سے پانی لے رہے ہوں اور بہت پیاسا مر رہا ہو۔ صرف مظفر آباد کی اگر بات کی جائے تو شاید پترین پاور پلانٹ ہی اس کی بجلی پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بلکہ مظفر آباد کی بجلی پوری کرنے کے بعد مانسہرہ اور ایبٹ آباد تک یہی بجلی دی جا سکتی ہے۔ ابھی نیلم جہلم پاور پروجیکٹ سے بننے والی بجلی اس کے علاوہ ہے۔
عام آدمی یہ سوال کرتا نظر اتا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیاں گزشتہ پانچ 10 برس میں شہر مظفر آباد اور اس کے مضافات میں آئی ہیں، ان کی وجہ سے انسانی صحت پر جو اثرات مرتب ہوئے ہیں، ان سب کا ذمہ دار کون ہے؟ یہاں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر بجلی بنانے کے باوجود ہمیں ہی مہنگی بجلی مل رہی ہے اور وہ بھی لوڈ شیڈنگ کے تحفے کے ساتھ مل رہی ہے تو پھر ہم قربانیاں کیوں دیں۔ منگلا ڈیم کے لیے کشمیریوں کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ کشمیریوں نے تو اپنے ابا و اجداد کی قبریں تک ڈیم کے پانی کی نظر کر دی۔ نیلم جہلم پروجیکٹ بننے کی جہاں بہت سے فائدے نقصانات تھے ان میں سے ایک بدترین نقصان ماحولیاتی تبدیلی ہے۔ دریا نیلم میں پانی کم ہونے سے شہر مظفر آباد کا درجہ حرارت تین اس سے چار ڈگری بڑھ چکا ہے۔ وہ مظفر آباد جو چار موسموں کا شہر اور ڈویژن ہوا کرتا تھا، اب یہاں یا تو شدید گرمی ہوتی ہے یا شدید سردی ہوتی ہے۔ اور بجلی کی صورتحال یوں ہے کہ باقی شہروں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے، یہاں کبھی کبھار لوڈ شیڈنگ کے درمیان بجلی آ جاتی ہے۔
سرکاری اٹے کی بات کی جائے تو اتنی سبسڈی دینے کے باوجود حکومت وقت عام آدمی کو آٹے کی فراہمی میں مکمل ناکام ہے۔ اس میں عوام بھی کچھ حد تک ذمہ دار ہے پر اصلی ذمہ داری محکمہ خوراک پر ہے۔ سرکاری آٹے کی سمگلنگ ہو، یا پھر ذخیرہ اندوزی، سب کچھ حکومت وقت اور محکمہ خوراک کے علم میں ہوتا ہے۔ کچھ افسران جو خدا خوفی رکھتے ہیں وہ ایکشن لیتے ہیں، پر اللہ جانے پھر کہاں سے انہیں کال آ جاتی ہے کہ وہ مجبور ہو جاتے ہیں۔ اٹے کی فراہمی جو ممکن بنائی جاتی ہے وہ بھی امرا کی حرص اور لالچ کی نظر ہو جاتی ہے۔ کیونکہ ہمارے معاشرے کی ایک بے حسی یہ بھی ہے کہ جن کو دینے والی لائن میں ہونا چاہیے وہ بھی اکثر ہمیں اٹا لینے والی لائن میں نظر آتے ہیں۔
ڈویژن مظفر آباد میں ہونے والی یہ ہڑتال اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اب کم از کم یہ سمجھنے لگی ہے کہ ان کے حقوق کا تحفظ سڑکوں پر آئے بغیر ممکن نہیں۔ حکومت وقت جتنا زور اس تحریک کو ناکام کرنے میں لگا رہی ہے، اس سے آدھا بجلی کے ظالمانہ ٹیکسز اور مہنگائی کے خلاف اور اٹے کی فراہمی کے لیے لگائے تو مسائل کا حل ممکن ہے۔
–


