چھہتر سال کا بوڑھا جوان


سنہ 1947 میری پیدائش ہے۔ وجود تو میرا پہلے سے تھا مگر میں بکھرا ہوا تھا۔ پھر تقریباً دس لاکھ معصوم جانوں کا نذرانہ پیش ہوا اور مجھے نام ملا۔ آزاد ہواؤں میں پنچھی گیت گانے لگے۔ ہر طرف ہریالی ہی ہریالی بکھرتی گئی اور میں پھیلتا گیا۔ اپنے سینے کو ہر کسی کے لئے کھول دیا اپنی بانہیں وا کیں اور مجھ میں اپنے اور پرائے سب سموتے گئے۔

ایک سال پلک جھپکتے گزر گیا اور جس نے مجھے گود لیا تھا اسی سال وہ بھی اس دار فانی سے کوچ کر گیا۔ اس کا جانا تھا اور مجھ ایک سالہ نوزائیدہ بچے پر ظلم کی انتہا شروع ہوئی۔

جو لوگ میرے وجود سے نالا تھے وہ بھی قائل ہوئے کہ میرا وجود ان باسیوں کے لئے کتنی اہمیت کا حامل ہے، تاہم مجھے میرے لڑکپن سے اپاہج کرنے کی کوششیں شروع ہوئیں۔

کئی بہاریں اور خزائیں آئی اور چلی گئیں۔ اپنوں پرایوں کے دکھ درد بھی دیکھیں۔ خوشیاں بھی نصیب ہوئیں مگر ان سب میں جو عارضی تھیں وہ خوشیاں ہی ہیں۔ ہاں اپنوں کے درد مستقل ہیں اور اب بھی ان سے چھٹکارا نہیں۔

دیکھیں کتنی عجیب بات ہے میں نے کروڑوں کی آبادی کو اپنے میں سمو دیا، گھر دیا، خاندان دیا، سب سے بڑھ کر میں نے سب کو ایک پہچان دی، میرے نام سے پوری دنیا میں سب جانے جاتے ہیں، سب پہچانے جاتے ہیں۔ مگر مجھے کوئی نہیں اپناتا، مجھ ایک کا خیال نہیں رکھا جاتا۔

مجھے عین جوانی میں اپاہج کیا گیا، جس طرح دو بیلوں کی دھینگا مشتی ہوتی ہے، اسی طرح دو چکیوں کے درمیان میں مجھے پہلے دن سے پسنا شروع کیا اور آج خیر سے میں چھہتر برس کا ہو گیا ہوں، لیکن دو بیلوں کی کشتی جو نام نہاد ہی ہے، وہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔

دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور ایک میں جو اپنی جوانی کے دنوں میں دوسرے رفیقوں کی امداد میں پیش پیش تھا آج میں انہی رفیقوں کا محتاج ہوں۔ کہتے ہیں نہ جن کے اپنے ہی بیگانہ ہو جاتے ہیں تو بیگانے تو بیگانے ہوتے ہیں۔

ظلم بربریت کا ایک بازار گرم ہے ہر سو۔ جس کو دیکھو عدم برداشت کا پیکر بنا ہوا ہے۔ کوئی اپنے ہی املاک کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے تو کوئی خود کشی کرنے پر تلا ہوا ہے۔ نا انصافی اپنی آخری حدود کو چھو رہی ہے۔

میں کیا بتاؤں، مجھ میں بسنے والے لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے ہیں۔

عزتیں پامال ہو رہی ہیں، اتنی بھوک کہ قبروں میں موجود پاک عصمتوں کو بھی نہیں بخشا، اتنی درندگی تو اس وقت بھی نہیں دیکھی گئی جب ان کے آبا مجھے آزاد کرنے پر تلے تھے جب مجھے نام دینے کی تگ و دو کر رہے تھے۔

بس اب میں بوڑھا ہو گیا ہوں۔ مجھ میں اتنی سکت باقی نہیں کہ تمہیں ہر قسم کی جارحیت سے بچاؤں۔ میں اتنا کر سکا کہ تمہیں ایک پہچان دی ایک آزاد ریاست میں آزادی سے سانس لے سکو تم اتنا میں نے کیا تو تمہاری بھی کوئی ذمہ داریاں ہیں۔

دیکھو میری خوشی اسی میں ہے کہ تم سب اکٹھے رہو، اکٹھے اپنی خوشیاں بانٹو، ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوا کرو۔ اور آخری بات کہ اللہ جل جلالہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔

Facebook Comments HS