کھویا ہوا چہرہ
بھولا بھالا نمکین چہرہ، روشن آنکھیں، دھیمی میٹھی اور شائستہ گفتگو، نام گوہر جہاں۔ وہ پی ٹی وی کی کم عمر لیکن اپنے کام میں انتہائی مشاق میک اپ آرٹسٹ تھی۔ سب کے چہروں کو خوبصورت بناتے بناتے اس کا اپنا چہرہ کہیں کھو گیا ہے۔ آج اچانک یادوں کی دھند میں دکھائی دیا ہے۔
ہاں وہی کھویا ہوا اپنائیت بھرا چہرہ۔
”تم سب کا میک اپ کرتی ہو لیکن خود اتنی سادہ کیوں رہتی ہو“
میں حیرت سے اس سے سوال کرتی۔
بلا کا حسن تھا اس سادہ سی لڑکی میں۔ خود میک اپ کی آلائشوں سے بالکل پاک لیکن میک اپ کی دنیا سے وابستہ۔
وہ مختلف اناؤنسرز نیوز ریڈرز اور ڈرامہ آرٹسٹ لڑکیوں کا جب میک کرتی تو ان کے چہروں پر چار چاند اتر آتے۔ میں اکثر اس سانولی سلونی حسین گڑیا کو ان فنکاراؤں کے سولہ سنگھار کرتے دیکھتی۔ لپ اسٹک سے اوپر کے ہونٹ کا خم ابھارتے ہوئے۔ آنکھوں پر پنسل کاجل پلکوں اور مسکارے کی شاعرانہ جادو گری کرتے ہوئے۔
”یہ کیا ہے میں نے ایک احمقانہ سی قینچی کو پکڑ کر اسے سمجھنے کی ناکام کوشش کی“
”یہ آئی کرلش ہے۔ اس سے پلکیں اوپر کی جانب مڑ جاتی ہیں اور آنکھیں بڑی خوبصورت نظر آنے لگتی ہیں۔ لاؤ تمہاری پلکیں کرل کر کے بتاؤں۔ “
”نہیں نہیں میری پلکیں ٹوٹ جائیں گی۔“
”ارے نہیں ٹوٹیں گی“ گوہر کو میری حماقتوں پر بڑی ہنسی آتی تھی
’رکو تو سہی۔ ”لیکن میں وہاں سے بھاگ آتی۔
بنیادی طور پر وہ ایک غریب گھر کی بچی تھی اور اب نوکری حاصل کر کے کافی پرسکون تھی۔
فارغ وقت میں میرے پاس آ جایا کرتی تھی۔ لیکن جب کبھی بھی میرے پاس آتی، اس کے ایک سینئیر کولیگ ساتھی جلدی ہی اسے بلانے آ جاتے۔ مجھے بہت غصہ آتا تھا۔
”یار جب بھی تم میرے پاس آتی ہو یہ موٹا سا آدمی تمہیں بلانے آ جاتا ہے، مسئلہ کیا ہے اس کو۔“ میں نے ایک روز غصے میں کہا تو گوہر کی ہنسی چھوٹ گئی۔
”ایسے نہیں کہتے“ اس نے ہنسی ضبط کر کے مجھے سمجھایا
”کیوں نہیں کہتے۔“
” اچھا چھوڑو۔“ وہ خاموشی سے مسکرائی
”کیوں چھوڑوں۔ کیوں آتا ہے وہ تمہیں بلانے۔ “
”نہیں بتانا نا“
”بتاؤ۔“ میں بھی ضد میں پڑ گئی
”لیکن میں نے بتا دیا تو تم شرمندہ ہو جاؤ گی اس لیے نہیں بتانا“
”پھر بھی بتاؤ“
”وہ میرے ماموں ہیں پاگل۔“ اس نے ہنستے ہوئے بتایا
”اوہ۔“ میں نادم ہوئی تو میری آواز بھی مدھم پڑ گئی
پھر وہ مجھے نارمل کرنے لگی
”اچھا چھوڑو اب“
”نہیں تم جاؤ، وہ بلا رہے تھے۔ “ وہ ہنستی ہوئی چلی گئی
ایک دن کیا ہوا کہ میری دوست فوزیہ کہنے لگی
’شہناز گوہر ہماری دوست ہے۔ کیوں نا ہم فائدہ اٹھائیں۔ دونوں اس سے بہت اچھا سا میک اپ کرواتے ہیں اور ایس رولو (لاہور شہر کا نامی گرامی فوٹو گرافر تھا) سے ایک یاد گار فوٹو بنواتے ہیں گوہر کا میک اور ایس رولو کی فوٹو گرافی، سوچو ہم دونوں کتنی حسین ترین لڑکیاں نظر آئیں گی۔ ”
میں فوزیہ کو بہت عقل مند لڑکی مانتی تھی اس کی تجویز رد کرنا بیوقوفی ہی ہو گی لہذا میں مان گئی۔ ہم نے ایس رولو کو فون کیا
تصویر اتروانے کی تاریخ اور وقت طے ہوا۔ گوہر نے انتہائی محبت سے ہم دونوں کا میک اپ کیا۔
اس میک اپ کے بعد ہم نے آئینے میں اپنی صورت دیکھی فوزیہ تو پھر مطمئن اور تسلی میں تھی لیکن میں حیران پریشان۔
”یہ کون ہے“ میں نے خود کے بارے میں گوہر سے پوچھا۔
”یہ تمہی ہو۔“ وہ ہنس رہی تھی دیکھو کتنی پیاری لگ رہی ہو
”تم نے مجھے نیوز ریڈر نہیں تو اناونسر تو ضرور بنا دیا ہے۔ میں اب اس کمرے سے بالکل بھی باہر نہیں نکلنے والی میں نے اپنا فیصلہ سنایا“
”تو ایس رولو کے ہاں کیسے جاؤ گی پھر۔“ اس نے پوچھا
”میں نہیں جا رہی۔“ گوہر نے فوزیہ کو بتایا کہ یہ بہت گھبرا گئی ہے
”اچھا میں دفتر کی گاڑی کا بندوبست کرتی ہوں اس میں جائیں گے۔“ فوزیہ نے ہمیشہ کی طرح مسئلہ حل کر دیا۔ گاڑی کا بندوبست ہوا
پھر دوپٹے میں منہ چھپا کر، گاؤں کی نئی نویلی بہووں کی طرح نیم گھونگٹ کے عالم میں۔ ہم لوگ بھاگم بھاگ اپنے کمرے سے نکلے اور غوری ہال کراس کر کے فٹا فٹ گاڑی میں بیٹھ گئے۔
تسی دوہنواں نے اپنے منہ کیوں لکائے ہوئے نے۔ ڈرائیور چاچا نثار نے پوچھا
آپ چلیں بس، ذرا جلدی ہے۔
ایس رولو کے پاس پہنچے۔
’آپ سے ہمارا اپوائنٹ منٹ طے ہے، ہماری تصویریں بنا دیں۔ ”دوپٹے درست کر کے اپنا اعتماد بحال کرتے ہوئے ہم دونوں بے کہا
لیکن ایس رولو نے تو ہم دونوں کا چہرہ بغور دیکھنا شروع کر دیا۔ ”
”تصویریں اتار دیں ناں“
ہم نے گڑبڑا کے کہا
”تصویریں تو اتر جائیں گی لیکن بیٹا، ایک کام کریں۔ پہلے آپ دونوں اپنا منہ دھو لیں۔ “
”کیوں دھو لیں منہ۔“ ہم نے برا مان کر پوچھا اور بتایا کہ ہم نے تو ٹی وی سے میک اپ کروایا ہوا ہے۔
”بیٹا ٹی وی والوں کی تو مجبوری ہے، ان کے پاس ری ٹچنگ وغیرہ کی کوئی سہولت نہیں ہوتی اس لیے وہ اتنا ہیوی میک اپ کرتے ہیں۔ اب اس میک اپ میں جب تصویر اترے گی تو میرے کرنے کو تو کچھ نہیں بچے گا، اس لیے آپ دونوں اپنا منہ دھو لیجیے۔“
”نہیں ہم نہیں دھوئیں گے۔ “ ہم نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ ہمیں گوہر کا کیا ہوا میک اپ بہت عزیز تھا۔
”آپ ہماری تصویریں اسی طرح بنا دیں پلیز۔“
رولو نے پریشانی سے ہمیں دیکھا اور پھر بادل نخواستہ ہماری تصویریں بنا دیں۔ یہ تو بعد میں ہم نے تصویروں میں نوٹ کیا گوہر نے ہمارے بال کیسے عمدہ بنائے تھے۔
گوہر نے مجھے بتایا تھا کہ میک اپ سے لوگ خوبصورت ہی نہیں بنائے جاتے بلکہ جن چڑیل فقیر امیر غریب سب کو تیار کیا جاتا ہے اس نے کردار کے لحاظ سے استعمال ہونے والی اشیا اور میک اپ بھی دکھایا
”گوہر۔ تم اپنی شادی والے دن اپنا میک اپ خود ہی کرنا۔“ ایک دن میں نے اسے مشورہ دیا۔
اسے وہاں اپنے ایک ساتھی کولیگ سے ہی شادی کرنی تھی۔ دونوں میں دوستی تھی لیکن کبھی کسی کو شک بھی نہیں ہوا تھا کہ یہ دونوں شادی کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ ایسی دھیمی ستار کے شانت کر دینے والے سروں جیسی محبت تھی اس کی۔
” اتنی دیر ہو گئی تم دونوں آخر شادی کیوں نہیں کرتے“
” ابھی ہم دونوں شادی کے لیے اپنی تنخواہوں سے پیسے جمع کر رہے ہیں۔ ہم ایک گھر لیں گے۔ کرائے پر ہی۔ اس میں رکھنے کو فرنیچر برتن اور گھر کی ضرورت کا ہر سامان۔ ہم آہستہ آہستہ خرید رہے ہیں۔ جب یہ سب ہو جائے گا تو پھر ہم شادی کریں گے۔“
پھر ایک دن وہ خوابوں کا گھر بن گیا۔ گوہر کی شادی ہوئی۔ بہت مطمئن اور خوش نظر آتی تھی وہ۔ اسے بے حد شوق تھا کہ میں اس کے گھر جاؤں۔ بارہا اس خواہش کا اظہار کر چکی تھی وہ۔ میرا جانے کا پورا ارادہ بھی تھا لیکن نوکری اور گھر بار کے جھمیلے۔ میں جا ہی نہیں سکی
شادی تو بذات خود ایک چوبیس گھنٹے کی مصروفیت ہے۔ شاید اسی لیے اس کی شادی کے بعد ایک گمنام سا فاصلہ آ گیا تھا ہمارے بیچ مدتوں ملاقات نہیں ہوئی۔
ایک دن پتہ چلا گوہر بہت بیمار ہے۔ اس کی بیماری کی عمر کچھ ایسی طویل بھی نہیں تھی کہ آدھی رات کو فیملی ہسپتال سے فریدہ کا فون آیا۔ وہ رو رہی تھی۔ شہناز گوہر کو آخری بار دیکھنا ہے تو دیکھ لو، پھر نظر نہیں آئے گی وہ۔
میں ہسپتال گئی تو باہر کی دیوار میں منہ دیے اس کا شوہر رو رہا تھا۔ اندر گئی تو سب ہی رو رہے تھے۔
کیا ہوا تھا
اپنڈکس پھٹ گیا تھا کوئی کہہ رہا تھا
وہ میرے پہنچنے تک بھی نہیں رکی اتنی جلدی کاہے کی تھی اسے
آخری بار اسے رخصت کرنے اس کے گھر گئی تو دہلیز پر مجھے آنسوؤں نے دیکھنے، سننے، بولنے کسی بھی لائق نہیں چھوڑا۔
” یہاں۔ اسی گھر پر مجھے بلانے کی تمنا تھی تمہیں۔ اور میں کم نصیب آئی بھی تو کب۔
تم ہوتیں تو کیسا وی آئی پی سلوک کرتیں
اور اب۔ کیسی بے آسرا کھڑی میں تمہیں رخصت ہوتے دیکھ رہی تھی
سنا ہے جب تم گئی ہو، تو تم امید سے تھیں۔
بے اولادی کے بہت طعنے سہے تھے تم نے
کوئی کہہ رہا تھا تمہارے شوہر کا افیئر چل رہا تھا
تم ہر وقت اسی صدمے میں رہنے لگی تھیں
اچھا کیا جو تم اپنی اولاد کو اپنے ساتھ ہی لے گئیں
تمہارے بعد اسے دیکھتا بھی کون
اس کے باپ کو تو بہت جلدی تھی
دوسری شادی کر لی تھی
صرف چند ہفتوں کے بعد ہی۔
تمہارا تو ابھی کفن بھی میلا نہیں ہوا تھا
اور پھر تم جو اتنی ہر دلعزیز تھیں، کسی کو یاد تک نہیں رہیں، سب کو بھول گئیں
لوگ تمہارا چہرہ بھی بھول گئے
بات کرو تو کہتے ہیں۔ کون گوہر؟
ایک بات بتاؤں تمہیں
جانتی ہو اس تصویر کا کیا ہوا جس میں تم نے میرا میک اپ کیا تھا۔
اس تصویر کے لیے میرے بچوں نے بہت جھگڑے کیے تھے کہ یہ تصویر کون لے گا۔ میرا بیٹا تبریز اپنے جیب خرچ سے اس کو ایک بہترین فریم میں جڑوا لایا تھا تاکہ وہ تصویر اسی کی ملکیت میں رہے۔
لیکن تبریز اب وطن چھوڑ کر پرائے دیس کا ہو چکا ہے۔ اور وہ تصویر، سالہا سال سے میری بیٹی کے کمرے کی ایک دیوار سے لگ کر تمہاری یاد میں روتی ہے، میری بیٹی بھی اب وہاں نہیں رہتی۔ یہ تصویر کمرے کی باقی تین دیواروں کو رات دن چپ چاپ دیکھتی رہتی ہے۔ کافی مٹی پڑنے کے باعث دھندلا چکی ہے۔ اس کمرے میں میں بھی نہیں جا پاتی۔ مٹی میں لپٹی تصویریں کون دیکھتا ہے
تمہارا چہرہ تصویروں سے زیادہ خوبصورت تھا
کھو گیا ہے۔
پیاری گوہر۔
ہماری تصویریں ہوں یا چہرے۔
مٹی کی امانت ہیں۔
اور مٹی کی امانتیں… تو مٹی ہی ہو جاتی ہیں۔


