اسرائیلی سیاست کی نیرنگی
اسرائیلی حکومت کی اس وقت سب بڑی نشانی حقائق سے چشم پوشی ھی کہی جاسکتی ھے ۔ اسرائیل میں بظاھر تو بڑی توانائ اور ملی یکجہتی پائ جاتی ھے مگر اندرون خانہ سب اچھا نہیں ھے ۔ آئیے ھم آج اس کی اندرونی خلفشار پہ ایک نظر دوڑاتے ھیں ۔ بنجمین نیتین یاھو کئ مرتبہ وزارت عظمیٰ پہ براجمان ھوچکے ھیں اور موجودہ دنوں میں وہی حکومت کی سربراہی سنبھالے ھوۓ ھیں ۔ ان سے پہلے ایک دائیں بازو کی شدت پسند حکومت نیفتلی بینیٹ اور اییار لیپڈ کی اتحادی جماعت کی حکومت تھی جس کے خلاف ایک عدم اعتماد کا ووٹ لایا گیا اور وہ وزارتِ عظمیٰ سے الگ کردیئے گئے ۔ ان کے خلاف موجودہ حکمران ایسے ایسے الزامات لگاتے جس کا بالآخر سرا انہی کے اپنے اوپر ھی جاتا مگر یہی شائد میدان سیاست کی نیرنگی ھے کہ وہ الٹا انہی کو الزام دیتے جن خرابیوں کا باعث وہ خود تھے ۔
اسرائیلی حکومت درحقیقت فلسطینیوں کے جذبۂ حریت کو دھشتگردی گردانتے ھیں اور اس بات میں وہ ھم آواز ھیں ۔ نیتین یاھو ھمیشہ ان دھشتگردانہ کاروائیوں کا زمہ دار وہ حکومت دوراں کو ٹھہراتے ، ایرانی دلچسپی کو بھی انہی کی کارستانی گردانتے ، مہنگائ اور بڑھتے قرضوں کا ذمہ وار بھی انہی کو ٹھہراتے ۔ حتیٰ کہ وہ ھماس کی مالی امداد کا الزام انہی کو دیتے تھے ۔ اسرائیلی پارلیمنٹ کو کینیسٹ کہتے ھیں پھر انہوں نے پارلیمانی لیڈروں کی خریداری شروع کردی بالکل ایسے ھی جیسے اکثر ترقی پذیر ملکوں کی روایت ھے انہوں نے ممبران کی کافی تعداد کو توڑ لیا اور یوں انکی تحریک عدم اعتماد کامیاب ھوگئی ۔ پھر انتخابات پچھلے سال کے نومبر میں منعقد ھوۓ اور اس طرح اسرائیلی تاریخ میں ایک نہایت ناخوشگوار تبدیلی رونما ھوئ ۔ جب سے یہ حکومت دوبارہ نتین یاہو کو ملی ھے آجتک تو ایک بھی کارنامہ سرزد نہیں ھوا اور یہی وجہ ھے کہ ملک میں عجب سی بےچینی اور عدم یقینی صورتحال درپیش ھے ۔ مغربی پٹی اور غزہ کی صورتحال بے قابو ہوکر رہ گئی ھے ۔ حزب اللہ خاصی مستحکم نظر آتی ھے جس سے اسرائیل کو خاصے خطرات لاحق ہیں ۔ مہنگائی اور بدانتظامی و بدامنی کی وجہ سے لوگ دھڑا دھڑ ملک چھوڑ کر بیرون ممالک جارہے ھیں ۔ کرپشن کا دور دورہ ھے ۔ اعلیٰ عہدیدار جھوٹ مکر اور فریب گوئ میں مبتلا نظر آتے ھیں اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی خاطر ماضی قریب کے حکمرانوں کے سر تھونپ دیتے ھیں ۔ اس وقت سب سے بڑا اھم مسلہ یہ ھے جس کی وجہ سے معاشرے میں ایک بونچھال برپا ھے اور ھیجانی کفییت طاری ھے وہ حکومتی ارادہ ھے جو عدالتی نظام کی اصلاحات چاھتی ھے ۔ اس کی حدت و شدت کا اندازہ اس بات سے دوچند ھوجاتا ھے کہ بہت سے عسکری عہدے دار اور رضاکار فوجی بھی اپنی ملازمتوں کو خیرآباد کہہ چکے ھیں اور وہ اس وقت تک واپس اپنے فرائض منصبی سرانجام دینے سے منکر ھیں جب تک حکومت اپنا ارادہ ترک نہ کردے ۔ وہ ان اصلاحات کے خلاف عوامی جذبات واحساسات کی ترجمانی کرتے تھے ۔ وہ سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال ببانگ دھل کرتے نظر آتے ھیں اور اپنی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ھیں اور ٹھٹھے اڑاتے ہیں کہ یھود باراک کی وجہ سے تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی ھے حتیٰ کہ وہ ڈیپ سٹیٹ جس میں پائلٹ ، سائبر سیکورٹی کے ماہرین اور فوجی و نیم فوجی دستوں کو بھی ذمہ دار اور نیول آفیسروں کو بشمول سیاستدانوں کو گردانتے ھیں ۔ بعض اوقات تو یہ الزامات کسی مزاحیہ پروگرام کا حصہ محسوس ھوتے ھیں ۔ اسرائیلی فوج میں جو بیدلی اور بےچینی پھیلی ھوئ ھے وہ حکومتی بدانتظامی ،کرپشن اور عدلیہ کے خلاف مربوط مہم جوئ ھے وہ سمجھتے ھیں کہ وہ رضاکارانہ طور پہ فوجی ملازمت کے لئے تیار ھوۓ تھے تاکہ جمہوریت کا ساتھ دیا جاسکے مگر اب حکومت آمرانہ رویہ اپناۓ ھوۓ دکھائی دیتی ھے جس وجہ سے وہ بددل ھوچکے ھیں ۔اسرایئلی فوجیوں کو یقین ھے کہ جس ظالمانہ نظام کے تحت وہ انسانی حرمت و وقار کی بےحرمتیوں کا وہ ارتکاب کرتے ھیں اور عدلیہ انہیں کسی جوابدھی سے بچاتی ھے وہ صرف ایک آزاد وخود مختار عدلیہ کے بدولت ھی ممکن ھے ۔ موجودہ حکمران دراصل ایک تنی ھوئ رسی پہ گویا سوار ھیں کیونکہ پارلیمنٹ میں ان کو انتخابات کے نتائج سے تو واضح برتری حاصل نہ ہوسکی تھی لہذا انتہائی دائیں بازو کے دھڑے سے الحاق کرنا پڑا تھا جس میں انتہائی نفرت انگیز لوگ شامل ھیں جیسے کہ وزیر داخلہ اتمار گویار جو اوائل جوانی مسلح افواج میں اس لئے ملازمت حاصل نہ کرسکا تھا کہ وہ قابل سزاوار تھا کیونکہ وہ انسانی خون سے ھولی کھیلنے کا شروع سے ھی شوقین تھا ، وہ دہشت و بربریت کی سربراہی کرتا آیا ھے اور آج بھی وہ خود کو عربوں سے برتر سمجھتا ھے ۔ ایک اور وزیر باتدبیر بہزالول سمٹوریک ھے جو موجودہ وزیر دفاع ھے اس سے پہلے وہ وزیرخزانہ بھی رہ چکا ھے ۔ وہ بھی شدت پسندی کی وجہ سے فوج میں شمولیت کے قابل نہیں سمجھا گیا اور سیاسی میدان کی وجہ سے آج وہ وزیر دفاع امور سرانجام دے رہا ھے ۔ فوج کے خلاف عوامی جذبات کو برانگیختہ کرنے میں وزیر مواصلات شولموکاری بھی پیش پیش ھے جو ان پائلٹوں کو ملک سے دفع دور ھوجانے کا کہتا ھے جہنوں نے مغربی پٹی و غزہ میں بیگناہ و مظلوم فلسطینیوں پہ فضائی حملوں سے انکار کردیا تھا ۔ اب اگر ان کو ملکی سلامتی و یکجہتی سے کوئی ذرا سا بھی لگاؤ ھو تو جمہوری رویوں کو اپنانا ھوگا ورنہ اس کی تباھی و مکمل ناکامی کا باعث بھی انہی کا یہی رویۓ ھوں گے ۔


